دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اس پر اجماع ہے کہ اگرمحتال،محتال علیہ کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض ہبہ کردے تو صحیح ہے اور اگرمحیل کو بری کیا یا اس کو قرض ہبہ کیاتوصحیح نہیں۔(ت)

ولہٰذا اب اگر اصل مدیون اس اترے ہوئے دَین کے بدلے کوئی چیز دائن کے پاس رہن رکھے صحیح نہیں کہ دَین اس پر رہا ہی نہیں یہ رہن کاہے کے عوض رکھتاہے، کافی شرح وافی پھرعالمگیریہ میں ہے:

لواحال بدینہ فرھن لایصح[1]

اگرمحیل نے قرض پرکسی کاحوالہ کردیا پھردائن کے پاس کچھ رہن رکھا تو صحیح نہیں۔(ت)

اور اگرپہلے سے اس دَین کے بدلے کوئی رہن دائن کے پاس رکھا ہواتھا حوالہ ہوتے ہی دائن سے واپس لے لے گا کہ اب دَین اس پر نہ رہامحیط امام شمس الائمہ سرخسی پھرہندیہ میں ہے:

اذا احال الراھن المرتہن بالدین علی غیرہ یسترد الرھن[2]۔

جب راہن نے مرتہن کاقرض کسی اور پر حوالہ کردیا تواب رہن واپس لے سکتاہے۔(ت)

حوالہ کے بعد دائن کواصلاً اختیارنہیں رہتا کہ اصل مدیون سے اپنے دَین کامطالبہ کرے،ہاں اگر محتال علیہ حوالہ ہونے سے مکرجائے اور قسم کھالے اور محیل ومحتال کسی کے پاس گواہ نہ ہوں یامحتال علیہ مفلس مرجائے کہ جائداد یامال نقد یاقرض نہ چھوڑے،نہ کوئی اس کی طرف سے ضامن ہو تو صرف اس صورت میں حوالہ باطل ہوکر دَین پھر اصل مدیون پرعود کرتاہے،عود کرنے کے معنی ہی خود یہ ہیں کہ اس سے پہلے اس پر دَین نہ رہاتھا،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام الزیلعی میں ہے:

لم یرجع المحتال علی المحیل الا ان یتوی حقہ فاذا توی علیہ عاد الدین الی ذمۃ المحیل والتوی عندابی حنیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ احدالامرین اما ان یجحد المحتال علیہ الحوالۃ ویخلف ولابینۃ للمحیل ولاللمحتال لہ اویموت مفلسا بان لم یترك ما لا عینا لادینا ولاکفیلا[3]۔(ملخصا)

 محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا مگر اس وقت کرسکتاہے جب اس کا حق ہلاك ہوجائے،ہلاکت کی صورت میں دَین محیل کے ذمہ کی طرف لوٹ آتاہے،اور ہلاکت کی امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیك دوصورتیں ہیں یا یہ کہ محتال علیہ حوالہ کا انکار کرے اور قسم کھا جائے جبکہ محیل اور محتال لہ کے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہو کرمرجائے نہ کوئی عین چھوڑے نہ دَین اور نہ ہی کوئی کفیل۔(ت)

تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:

لایرجع المحتال علی المحیل الابالتوی و ھوباحد امرین ان یجحد المحال علیہ الحوالۃ ویحلف ولا بینۃ لہ اویموت مفلسا بغیرعین ودین وکفیل وقالا بھما وبان فلسہ الحاکم[4]۔

ہلاکت کی صورت کے علاوہ محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور ہلاکت دومیں سے ایك امر کے ساتھ ہوتی ہے یامحتال علیہ حوالہ کاانکار کرکے قسم کھاجائے اور محتال لہ،کے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہوکرمرجائے اور کوئی عین،دَین یا کفیل نہ چھوڑے،او ر صاحبین نے کہا ان دو صورتوں سے بھی اور ہلاکت متحقق ہوتی اور حاکم کے اس (محتال علیہ)کو مفلس قراردینے سے بھی۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

ظاھرکلامھم متوناوشروحا تصحیح قول الامام ونقل تصحیحہ العلامۃ قاسم ولم ارمن صحح قولھما [5]۔

متون وشیروح میں فقہاء کے کلام سے ظاہرامام ابوحنیفہ کے قول کی تصحیح ہے اور علامہ قاسم نے امام صاحب کے قول کی تصحیح کو نقل کیا،میں نےکسی کو نہیں دیکھا جس نے صاحبین کے قول کی تصحیح کی ہو(ت)

ان تصریحات وتصحیحات وھوالصحیح وعلیہ الفتوی(وہی صحیح ہے اور اسی پرفتوٰی ہے۔ت)کے بعد پھر یہ گمان کرنا کہ بدری پرشاد زید کی طرف سے اداکرے گا وہ سودزید کی طرف سے منوسنگھ کودیاجائے گا کیسی فاحش غلطی ہے،سبحان اللہ! جب نہ یہ مدیون رہا نہ اس پر مطالبہ،نہ یہ دیتاہے نہ دائن اب اس سے لے سکتاہے تویہ سوددینے والا کس حساب سے ٹھہرا،طرفہ یہ کہ تنویرالابصارکی عبارت خود نقل کی کہ حوالہ اس کے ذمہ دَین سے مشغول ہے یا اس کی طرف سے اداکرے گا جس کے ذمہ پردَین نہیں اور اس صورت میں زید کوسودخور ٹھہرانا اور بھی عجیب ترہے،بفرض غلط ہوتا تو اتناہوتا جس کا خود ان صاحبوں نے اعتراف کیا کہ زید نے خود نہیں دئے دلوائے،نہ یہ کہ معاذ اللہ اس نے خود سودلیا،تفصیل کے لئے عرض کرچکاہوں کہ ضرورت ہوئی تو پھرگزارش ہوگی،ذی انصاف کے لئے اسی قدرکافی ہے وباللہ التوفیق واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

 

 



[1]          فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الکافی کتاب الحوا لہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۶

[2]          فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الحوا لہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۶

[3]          تبیین الحقائق کتاب الحوا لہ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۴/ ۷۳۔۱۷۲

[4]          درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹

[5]          ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۹۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن