30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے بوساطت مرزا نظیر بیگ صاحب سابق نائب تحصیلدار بریلی دارالافتاءمیں پیش کئے اور ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ کو جواب دئے گئے تھے)اس میں یہ تھاکہ زید وعمرو سے درخواست ضمانت کی اور عمرو نے اس کی درخواست پر اس کی ضمانت کی اور زید کفالت بالمال کو ناجائز کہتاہے اس میں حکم کیاہے،اس کا جواب یہی تھا کہ کفالت بالمال یقینا صحیح ہے اورجبکہ کفیل حسب درخواست مکفول عنہ ضامن ہوا تو بلا شبہ مطالبہ زر ادہ کردہ کرسکتاہے ہے اپنی جائداد سے دو لفظ سوال میں فضول تھاکہ جب عمرو زید کی درخواست پر ضامن ہوا یعنی اپنا ذمہ زید سے ضم کیا ضمانت مکمل ہوگئی خواہ زر نقد سے کی ہو یا جائداد سے یا صرف زبانی،تینوں طریقے رائج ہیں،اور اصل وہی ضم ذمہ ہے اس کے بعدنہ زر نقد داخل کرنے کی ضرورت نہ جائداد کی ضروررت نہ ان کے ہونے سے ضمانت میں کوئی خلل کہ یہ ایك امر زائد غیر متعلق ہیں،ہندو مدعی نے سائل ایك مسلمان کوٹھہرایا اور اصلاپتہ نہ دیا کہ سوال اس مقدمہ سے متعلق ہے کہ سال گزشہ کی نسبت دارالافتاء سے فتوٰی جاچکا ہے نہ سوالات سابقہ وسوال مدعی میں مفصل صورت واقعہ یکساں بتائی گئی تھی جس سے دونوں کا خصومت واحدہ سے تعلق ظاہر ہوتا اور علمائے کرام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس عقد کا سوال ذکر ہو اسے صحت پر محمول کرکے جواب دیا جائے،وجیز امام کردری میں ہے:
لوسئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذالمطلق یحمل علی الکمال الخالی عن موانع الصحۃ [1]۔ اگر کسی عقد کی صحت سے متعلق سوال کیا جائے تو تمام شرائط کے پائے جانے پرمحمول کرتے ہوئے اس کی صحت کافتوٰی دیا جائے گا کیونکہ مطلق کو ایسے کمال پر محمولکیا جاتاہے جو موانع صحت سے خالی ہو۔(ت)
دو سوالوں میں ایسا اختلاف ہونے سے جواب مختلف ہوجانا لازم ہے جس کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے سوال مجمل یا غلط پیش کیا،فتاوٰی خیریہ میں ایسے ہی اختلاف سوال کے بارے میں کہ علامہ رملی سے ایك بار سوال ایك طور پر ہوا دوبارہ اس کے خلاف تھا ارشاد فرمایا:
لاشك فی ان المفتی انما یفتی بما الیہ السائل ینہٰی [2]۔
اس میں کوئی شك نہیں کہ مفتی اسی پر فتوٰی،دیتاہے جو خبر سائل اس کے پاس پہنچائے۔(ت)
نیز دوبارہ ایسے ہی واقعہ میں فرمایا:
السوال الاول لم یذکرلنا فیہ ان الاجارہ وقعت علی تناول الخراج ونحوہ من الاعیاب ومسئلتنا فیہ عن الاجارۃ مطلقًا فانصرفت الی تملك المنفعۃ وقسمنا الاحکام علی الصحیحۃ والفاسدۃ
پہلے سوال میں ہمارے لئے اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ اجارہ اخراج یا اس کی مثلی اعیان کے حصول پر موقوف ہے بلکہ اجارہ مطلقہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو وہ تملك منفعت کی طرف لوٹا اور ہم نے احکام کودو قسموں یعنی صحیح اور فاسد پر تقسیم کیا۔
اما حیث کان الواقع انہا علی اتلاف الاعیان فہی باطلۃ [3]۔
مگر جب وہ اعیان کے اتلاف پرواقع ہوا ہے تو وہ باطل ہے۔(ت)
اسی کے ایك تیسرے واقعہ میں ہے:
قدیختلف الجواب باختلاف المرضوع المرفوع لاہل الفتوٰی فلا اعتراض علی المجیب فی الجواب [4]۔
کبھی فتوٰی پوچھنے والوں کو موضوع مرفوع میں اختلاف کی وجہ سے جواب مختلف ہوجاتاہے اس لئے اس جواب میں مجیب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔(ت)
اسی میں ایك چوتھے واقعہ پر ہے۔
قد استفتی فی ہذہ الحادثۃ بماہو مختلف الموضوع فی السوال فاختلف الجواب بسبب ذٰلك فلا یتوھم معارضۃ الافتاء فیہ [5]۔
تحقیق اسی حادثہ میں سوال میں مذکور موضوع سے مختلف صورت میں فتوٰی پوچھا گیاتھا لہذا اسی سبب سے جواب مختلف ہوا چنانچہ اس میں افتاء کے معارضہ کاوہم نہ کیا جائے۔(ت)
ان سب ارشاد شریفہ کاحاصل یہ ہے کہ پہلے اور طرح سوال کئے گئے تھے پچھلے سوال ان کی خلاف تھے لہذا جواب مختلف ہوئے کہ مفتی اسی پر فتوٰی دے گا جو اس کے سامنے پیش کیاجائے گا اس سے کوئی فتووں میں تعارض کاوہم نہ کرے،ہاں اگر اسی وقت معلوم ہوتاکہ یہ سوال مدعی اس مقدمہ سوالات سابقہ سے متعلق ہے جس میں اس نے صورت واقعہ غلط لکھی ہے توہر گز جواب نہ دیا جاتا کہ جب مفتی کو سوال کا خلاف واقع ہونا معلوم ہوجائے تو حکم ہے کہ جواب نہ دے۔عقود الدریہ میں ہے:
اذاعلم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل [6]۔
جب مفتی کو معاملہ کی حقیت معلوم ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ (جھوٹے)سائل کے لئے فتوٰی نہ لکھے تاکہ وہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔(ت)
ملاحظہ کفالت نامہ تجویز سے ظاہر ہے کہ سوال مدعی محض غلط وفریب ہے اس میں ضمانت اپنی جائداد سے کرنے کے یہ معنی نہیں کہ عمرو ضامن ہوا اور زیادت وثوق کو اپنی جائداد پیش کی جس کاحکم وہ تھا کہ ضمانت جب زید کی درخواست پر ہے بلاشبہ صحیح ہوگئی کہ ذکر جائداد نہ ہونا فضولی ہے بلکہ یہ معنی ہے کہ آپ ضمانت نہ کی جو اپنا ذمہ مشغول نہ کیا خود نفس جائداد کو کفیل بنایا یہ قطعاباطل محض ہے جیسا کہ جوابات سابقہ میں روشن کردیا گیا مدعی نے کفالت بالمال کو پوچھا اس کا جواب قطعا یہی تھا کہ صحیح ہے،اب ملاحظہ کاغذات سے ظاہر
[1] فتاوٰی خیریہ بحوالہ البزازیہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳،فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۵۲۔۵۱
[2] فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۹
[3] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۶
[4] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۹
[5] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۸۳
[6] العقود الدریۃ فوائد فی آداب المفتی قبل کتاب الطہارۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع