30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہوا کہ مسجد موجود ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت شدیدہ نہیں نہ اسے بڑھانے کے لئے وہ لوگ یہ زمین مانگتے ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ اسے کرایہ پر چلا کر مسجد میں اس کاکرایہ لگائیں،اگرصورت واقعہ یہ ہے تو مالك اراضی پر ہر گز لازم نہیں کہ اسے بیع کرے اور اسے مجبور کرنا ظلم ہے اور ظلم سے لیں گے تو اس کاکرایہ مسجد میں لگاناحرام ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از شہر بازار شہامت گنج مسئولہ نقش علی ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو روپے دے اور کہا تم مال خرید لاؤ،عمرو نے خرید کر زید کوقبضہ کرادیا،بعد کو مال زید سے عمرو نے کچھ نفع دے کر خرید لیا نقد یا قرض بموجب شریعت کے
یہ حیلہ جائز ہے یانہیں ؟
الجواب:
جائز ہے نقد ہو خواہ قرض،اور کنتے ہیں نفع پر ہو سب رواہے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: از کانپورمسٹن روڈ مرسلہ شیخ محمد عمر محمد عتیق صاحبان ۹شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید وبکر کی شرکت میں ایك تجارت تھی بعد شرت روپیہ اور مال تقسیم ہوا،اپنی اپنی ملك پر قابض ہوگئے،پھر بکر نے اپنا مال بیچنا چاہا،زید نے چاریا دس روپے کم پر لینا چاہا اور بوقت خریداری کہہ دیا کہ اگر منظور ہوتو دو ورنہ روپیہ دے کر مال واپس لے لو،بکر نے مال دے دیا روپیہ لے لیا،آیا یہ خریداری زید کو جائز ہے یانہیں ؟ زید کو خطاوار کہنا کیساہے؟
الجواب:
یہ خریداری جبکہ برضائے بائع ہو بیشك جائز ہے اگرچہ ہزاروپے کم کو خریدارہوا سے اس وجہ سے خطاوار کہنے والا خطاوار ہے:
قال اللہ تعالٰی " اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1]۔
واللہ تعالٰی اعلم۔ الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا:مگر ہو تجارت تمھاری باہمی رضا مندی سے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۰: مسئولہ حاجی لعل خا ں صاحب یکم صفر ۱۳۳۴ھ
تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ حبیبن بی بی وصبیحن بی بی دختران شیخ امیر بخش صاحب مرحوم
سوال سوم،والدہ ماجدہ نے کچھ جائداد خاص اپنی رقم سے خریدی تھی اور کچھ جائداد والدہ مرحومہ کے دین مہر کے روپیہ سے،یہ دونوں جائداد والد صاحب کی ملك قرار پائیں گی یاکہ دوسری جائداد والدہ صاحبہ کی ملك کہی جائیں گی،اگردونو ں جائداد والد صاحب کی ملك قرار پائیں تو والدہ کے سونے کے کڑے جس کی قیمت مبلغ آٹھ سوروپیہ تھی اور اس سے والد صاحب نے جائداد خرید کی وہ بذمہ والد صاحب دین واجب الاداہے یا نہیں ؟ ونیز والدہ مرحومہ کی سونے کی بالیا ں جس کی قیمت سوروپیہ تھی اور فروخت کرکے تجارت میں شامل کردی گئی اس کا عوض والد صاحب کے ذمہ باقی ہے یانہیں ؟
الجواب:
مورث نے جو جائداد اپنے روپیہ سے خریدی وہ ظاہر ہے کہ اسی کی ہے اور جو دوسرے کے روپے سے خریدی وہ اگر اپنے لئے خریدی یعنی عقد بیع دوسرے کے نام نہ کرایا تو وہ بھی اسی مشتری کی ہے لان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ[2] (اس لئے کہ خریداری جب مشتری پر نفاذ کے طورپر پائی جائےتو نافذہوجاتی ہے۔ت) پھرا س صورت میں اگر ثابت ہوکہ یہ روپیہ دوسرے نے اسے بطور تملیك دے دیا تھا تو روپیہ کا بھی مطالبہ اس پر نہ تھا ورنہ اگر باجازت تھا قرض تھا،بے اجازت تھا غضب تھا،بہرحال اس پر ضمان لازم ہے،یہ دوسرے کے روپے سے جائداد خریدنے کاحکم تھا،سائل کے لفظ یہ ہیں کہ"کچھ جائداد والدہ مرحومہ کے دین مہر کے روپے سے"اس کے اگر یہ معنی ہیں کہ دین مہر ادا کردیا تھا اور بعد قبضہ زوجہ اس سے جائداد خریدی جب تو وہی صورت ہے جو اوپر مذکورہوئی اور اگر دین مہر ادانہ کیا تھا تو اس کے روپے سے خریدنا یونہی ہوگا کہ وہ کہے کہ تیرا مہر جو کچھ مجھ پر آتا ہے اس کے عوض یہ جائداد خریدتاہو ں،یو ں اگر خریدی تو وہ جائداد ملك زوجہ ہوئی،یا یو ں ہوگا کہ عورت کہے میرامہر تجھ پر آتاہے اس کے عوض مجھے جائداد لے دے،اور اس نے خریدی تو یو ں بھی جائداد ملك زوجہ ہوگی اور قبضہ زوجہ پرشرط نہ ہوگا نہ اصل بائع سے عقد بیع میں زوجہ کانام لینا ضرور ہوگا کہ خریدکر اس کے مہر کا معاوضہ کردینا ا س کی طرف سے بنام زوجہ بعوض مہر بیع ہوگی اور بیع میں قبضہ شرط ملك نہیں،یایو ں ہوگا کہ زوجہ نے اس سے کہا میرا مہر جو تم پر آتاہے اس سے اپنے لئے جائداد خرید لو تو جائداد ملك شوہر ہوگی اور اس پر روپے کا مطالبہ بھی نہ رہا کہ وہ اجازت اقتضاءً ھبۃ الدین ممن علیہ الدین(مدیون کودین کا اقتضاء ہبہ ہے۔ت)تھی اور یہ جائزہے۔اور اگر نہ مہرا ادا کیا تھا نہ اس قسم کا کوئی تذکرہ مابین زوجین آیا تو اسے دین مہر کے روپے سے خریدنا کیونکر کہا جاسکتاہے،سونےکے کڑو ں سے جائداد خریدنا وہی زرغیر سے شراء ہے جس کا حکم اوپر گزرا اگر عورت کی طرف سے کوئی دلالت تملیك پائی گئی تو اس کا کوئی معاوضہ ذمہ شوہر نہیں ورنہ ہے،یو ں ہی بالیا ں کہ بیچ کر تجارت میں لگائی گئیں اگر دلالت تملیك پائی گئی شوہر پر عوض نہیں اوراگر تجارت میں شرکت کے لئے عورت نے دیں اور اس نے قبول کیا تو وہ شریك تجارت ہوئی ورنہ ادنٰی متعین ہے یعنی قرض اور عوض لازم،والله تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع