دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

او روہ جب خود جمعہ پر واجب نہ تھا تو خدا بخش جس نے ضمانت کی اور اقرار نامہ پر یوں دستخط کئے کہ بموجب اقرار نامہ نوشتہ جمعہ جی میں خدا بخش ضامن ہوں مجھ کویہ ضمانت منظور ہے یہ ضمانت بھی محض باطل وبے اثر ہوئی کہ جب اصل ہی پر مطالبہ نہیں ضامن پر کیا ہوگا۔

کما ھوا فی ردالمحتار عن البحر عن البدائع اما شرائط المکفول بہ فالاول ان یکون مضمونا علی الاصل الخ [1]۔ جیسا کہ ردالمحتار میں بحر سے بحوالہ بدائع منقول ہے کہ مکفول بہ کی شرطوں میں سے پہلی یہ کہ وہ اصل پر قابل ضمان ہو۔ الخ(ت)

درمختارمیں ہے:

شرطہا فی الدین کونہ صحیحا لاضعیفا کبدل کتابۃ فما لیس دینا بالاولی نہر [2]۔

دین میں کفالہ کی شرط یہ ہے کہ وہ دین صحیح ہو ضعیف نہ ہوجیسے بدل کتابت اور جو دین ہی نہیں اسکی کفالت بدرجہ اولٰی صحیح نہیں نہر(ت)

البتہ جمعہ کے حق میں اولٰی یہ ہے کہ اگر کوئی عذر صحیح نہ ہو تو اپنا وعدہ پورا کرے فان الوفاء من مکارم الاخلاق(کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا اعلٰی خلاق کریمانہ میں سے ہے۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۹۰:ازریاست رام پور مرسلہ سید محمد انوار حسین متوطن قدیم قصبہ کندر کی حال مقیم ریاست رام پور ۲۵جمادی الاولٰی ۱۳۲۷ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم،بحضرت اقدس علامہ محقق وفہامہ مدقو فاضل بریلی فیضہم العالی علی کافۃ المسلمین،السلام علیکم،بصد ادب حضوروالا میں عرض پرداز ہوں کہ حضور نے تین فتوے متعلق استغراق جائداد عطافرمائے جو عدالت دیوانی ریاست رام پور میں پیش کئے گئے جن کی بنیاد پر جناب مفتی صاحب عدالت دیوانی ریاست رام پور نے بحوالہ فتووں حضور کے ڈگری بحق مدعا علیہ کے صادر فرمائی اوریہ تجویز فرمایا(یہ مقدمہ بربنائے کفالت مستاجری دائرہےکہ مدعی نے مدعا علیہ کی مستاجری میں اپنی جائدادمکفول کی تھی لہذا سب سے پہلے اس امر کا انفصال ضروری ہے مدعا علیہ نے جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب بریلوی کے چند فتو ے پیش کئے ہیں فاضل بریلوی نے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ ایسی کفالت بالمال جو اس مقدمہ میں زیر بحث ہے شرعا ناجائز ہے منجانب مدعی ان کی تردید میں کوئی شرعی استدلال یاحکم ریاست پیش نہیں کیا،عدالت نے مسائل شرعیہ پر غور کیا تو فتوی پیش کردہ مدعا علیہ صحیح ولائق پابندی ہیں پس ایسی حالت میں جبلہ کفالت مذکورہ بھی جائز نہیں تو مدعی نے جو روپیہ بوجہ کفالت مذکور داخل سرکار کیا ہے اس کا دین دارمدعا علیہ شرعا نہیں ہوسکتا اور دفعہ ۷۱،۷۹،قانون حامدیہ مفید مدعی نہیں ہے بلکہ صورت مقدمہ سے غیر متعلق ہے)لچھمی نرائن مدعی ناکامیاب نے بناراضی تجویز مفتی صاحب دیوانی اپیل دائر کیا اور عدالت اپیل میں ایك فتوی حضور والا کا اس تائید میں پیش کیا کہ ایسی کفالت شرعا جائز ہے اور اپنے سوال میں چند واقعات غیر صحیح تحریر کرکے جناب والا سےفتوی حاصل کیا سوال مذکور میں جو امور خلاف واقعہ درج کئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

(۱)دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ کایہ مضمون تحریر کیا ہےکہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کواس اصل مستاجر پر دعوٰی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے یہ مضمون دفعہ ۷۹ آئین حامدی کا ہر گز نہیں ہے بلکہ دفعہ مذکور تابع دفعہ ۷۷،۷۸ کے ہے،دفعہ ۷۷ کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی جائداد مستاجر مکفول کرے تو مالك جائداد کو حق عذرداری مابین میعاد پندرہ روز حاصل ہے اور جب استغراق منطور ہوجائے تو حسب منشا دفعہ ۷۹ بعد منظوری ضمانت کے استغراق کی نسبت کسی شخص کی عذرداری بارجاع نالش کسی عدالت میں قابل سماعت نہ ہوگی البتہ بمقابلہ مالگزاری کے عذر دار مجازی دعوٰی ہر جہ کا عدالت دیوانی میں حسب ضابطہ ہوسکتاہےجس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مستاجر کسی شخص کیی جائدادبلا اسکی مرضی کے خود مکفول کردے تو مالك جائداد بعد منظوری واگذاشت کی نالش نہیں کرسکتا بلکہ ہرجہ کی نالش کرسکتا ہے یہاں ایسانہیں ہے کیونکہ مالك جائداد نے خود اپنی جائداد مکفول کرائی ہے جیسا کہ مفتی صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ دفعہ ۷۹ آئین حامدیہ متعلق نہیں۔

(۲)سائل نے اپنے سوال میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ عمرونے ضمانت اپنی جائداد سے کی جس کا مفہوم ہوتاہے کہ عمرونے ضمانت کی حالانکہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ اپنی جائداد کو مکفول کرایا ہے کفالت نامہ کی نقل شامل عرضداشہ ہذا ہے اس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ جائداد کو مکفول کرایاہے،

(۳)تیسرا مضمون سوال میں یہ غلط ظاہر کیا ہے کہ زید کا یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے مجھ مدعا علیہ کا ہر گز عذر نہیں ہے بلکہ میرا عذر یہ ہے کہ کسی مطالبہ کی بابت جائداد کو مکفول کرانا شرعا ناجائز ہے یعنی ضمانت میں جائداد کا استغراق کرانا شرعا ناجائز ہے۔

(۴)چوتھا مضمون سوال میں یہ بھی خلاف درج کیا ہے کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کی،یہ واقعہ بالکل غلط ہے،مفتی صاحب نے اس واقعہ کو ثابت شدہ نہیں قرار دیا ہے اس غلط اور غیر مطابق سوال کی بنیاد پر حضور نے یہ تجویز فرمایاہےکہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے لہذا حضور والا ! میں نقول ہرسہ فتوٰی حضور جو سادہ کاغذ پر ہے اورنقل فیصلہ جناب مفتی صاحب دیوانی اورنقل فتوٰی آخر جو باضابطہ عدالت سے حاصل کیا گیا ہے اور نقل اقرار نامہ کفالت اور قانون آئین حامدیہ معطوفہ عرضہ داشت ہذا درگاہ والا میں پیش کرکے امیدوار ہوں کہ حضور ہر سہ فتوی سابق وفتوی مابعد نظر ثانی فرماکر اور فیصلہ مفتی صاحب دیوانی اور نقل اقرارنامہ کفالت ودفعہ ۷۷ لفایت ۷۹ قانون مذکورہ ملاحظہ فرماکر ارشاد فرمائیں کہ ہر سہ فتاوٰی سابق پیش کردہ انوار حسین مدعا علیہ مطابق نالش مدعی ہیں یا فتوٰی آخر پیش کردہ لچھمی نرائن مدعی متعلق مقدمہ ہے اور عذر مدعا علیہ کا شرعا قابل منظوری ہے یاعذر مدعی کا؟ زیادہ حد ادب

الجواب:

دارالافتادہ دارالقضاء نہیں یہاں کوئی تحقیق واقعہ نہیں ہوتی،صورت سوال پرجواب دیا جاتاہے،سوال اخیر کے حضور احمد خاں رامپوری ملازم کچہری بریلی منصرم نقل نے پیش کیا(جسے اس سوال حال و ملاحظہ تجویز مفتی صاحب ودیگر کاغذات مدخلہ سائل نے بتایا کہ ہندومدعی کا سوال تھا اوراسی مقدمہ سے متعلق جس کی نسبت کئی سوال منشی سید انوار حسین مدعی رامپوری



[1]              ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۵۱

[2]              درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن