دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اس کفالت واستغراق مخترع میں کہ جائداد اس کے قبضہ میں نہیں دی جاتی اور بارہا کوئی دین بالفصل موجود بھی نہیں ہوتا جائداد کیونکہ اس کے حق میں محبوس ہوسکتی ہے۔اس کاحاصل تو یہ ہوگا کہ کفیل کو اس کے اس مال مملوك میں تصرفات مالکانہ سے محجور وممنوع کردیں حالانکہ خود وہ مدیون بھی نہیں بلکہ بہت جگہ ابھی دین کااصلا وجود ہی نہیں اور شرعا خود مدیون بھی،اوروہ بھی ایسا کہ دیون اس کے تمام املاك کومستغرق ومحیط ہوں اپنی ملك میں کسی تصرف مالکانہ سے ممنوع نہیں ہوتا حتی کہ ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیك تواگر قرضخواہ نالشی ہو(کہ یہ اپنی جائداد تلف کئے،ڈالتا ہے حاکم اسے تصرفات سے روك دے)اور قاضی ان کی نالش قبول کرکے ممانعت کاحکم قطعی صادر کردے جب بھی وہ اصلًا ممنوع نہ ہوگا جس مال کو ہبہ کرے گا ہبہ ہوجائے گا بیع کرے گا بك جائے گا،وقف کرے گا وقف ہوجائے گا،قرضخواہوں کوجو حق حبس وملازمت کا دیا گیا وہ اپنے ان طریقوں سے چارہ جوئی کریں اس کے تصرفات کہ اس کی اہلیت سے ناشئ ہیں کسی کے روکے نہ رکیں گے،اورصاحبین کے نزدیك اگر چہ وہ صرف اپنے مال موجود میں بعض تصرفات سے ممنوع ہوسکتاہے جبکہ دین اس کے اموال کو محیط ہوجائے مگر کب ؟ جبکہ بعد نالش قرضخواہان قاضی اس کے ممنوع ہونے کی قضا کردے اور اسے اس قضا کی اطلاع بھی پہنچ پائے اس سے قبل بالاجماع وہ بھی کسی طرح سے ممنوع نہیں۔محیط وعالمگیری میں ہے:

الحجر بسبب الدین ان یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ اوتزید علی موالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ ولا یتصدق بہ ولا یقربہ لغریم آخر فالقاضی یحجر علی عند ھما، وعند ابی حنیفۃ لا یحجر علیہ ولا یعمل حجرہ حتی تصح منہ ھذا التصرفات کذا فی المحیط،ویصح ھذا الحجر عند ھما و ان کان المحجور المدیون غائب ولکن یشترط علم قرض کی وجہ سے تصرفات سے روك دینا اس طرھ ہے کہ کسی شخص پر اتنے قرض ہوگئے جو اس کے تمام اموال کو محیط ہوگئے یا ا س سے زیادہ ہوگئے اور قرضخواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر پابندی لگائے تاکہ وہ اپنے مال کو نہ توہبہ کرے،نہ اس کو صدقہ کرے اورنہ ہی اس کے بارے میں کسی اور قرضخواہ کا اقرار کرے تو صاحبین کے نزدیك قاضی اس پر پابندی عائد کردے گا جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك پابندی عائد نہیں کرے گا اورنہ اس پر پابندی نافذ ہوگی یہاں تك کہ اس کے تصرفات مذکورہ صحیح ہوں گے اور صاحبین کے نزدیك ا س پریہ پابندی صحیح ہوگی اگرچہ وہ مدیون جس پر پابندی لگائی گئی غائب ہو بشرطیکہ پابندی کے بعد اس کو

المحجور علیہ بعد الحجر حتی ان کل تصرف باشرہ بع الحجر قبل العلم بہ یکون صحیحا عندہما [1]۔

پابندی کا علم ہوجائے یہاں تك پابندی کے بعد اس کا علم ہونے سے پہلے جو تصرف اس نے کیا وہ صاحبین کے نزدیك صحیح ہوگا۔(ت)

فتاوٰی قاضیخاں میں ہے:

انما یحجر بعد الحکم لا قبلہ [2]۔

بیشك مدیون قاضی کے فیصلہ کے بعد ہی تصرفات سے پابند ہوگا اس سے پہلے نہیں۔(ت)

یہاں دین محیط ہونا درکنار یہ شخص خود مدیون بھی نہیں بلکہ ہنوز سرے سے دین ہی نہیں،نہ نالش نہ قضا،اور اپنی جائداد میں اس کے تصرفات ناروا،یہ محض باطل وبے اصل وبے معنی ہے پھر یہ کلام بھی اس صورت میں تھا کہ زید پر مطالبہ ہو یا ہوگا،اور عمرو نے اپنی جائداد مکفول کی یہاں تو اس پھر بھی طرہ یہ ہے کہ خود زید ہی کامعاملہ اوروہ آپ ہی اپنی جائداد مکفول کررہا ہے یہاں کون سادوسرا ذمہ اس کے ذمہ کے ساتھ ملا یا گیا ایسی مخترع باتیں شرع مطہر کے نزدیك اصلا قابل التفات نہیں ہوسکتی،اس مسئلہ کو خوب سمجھ لینا چاہئے،کہ آج کل یہ نئی وضع کی کفالت بہت شائع ہوگئی ہے حالانکہ وہ صرف ایجاد قانون ہے شرع مطہر میں اس کا کہیں نشان نہیں،پس روشن ہوا کہ زیدکا وہ جائیداد دوسرے کو ہبہ کردینا قطعا صحیح ونافذ تھا اور مکفول ہونے سے اس پر اصلا کوئی اثر نہ آسکتا تھا،رہی ہبہ نامہ کی وہ شرط کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمدہو ذمہ موھوب لہ رہے،

اولًا: شرط فاسد ہے کہ نہ مقتضائے عقد ہبہ ہے کہ بلا شرط خود لازم ہوجاتی ہے نہ اس کے ملائم ہےکہ موجب ہبہ یعنی ملك موھوب لہ کی تاکید کرتی اور اس میں احدالعاقدین یعنی واہب کا نفع ہے،ایسی شرط فاسدہوتی ہے اور ہبہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی خود باطل ہوجاتی ہے۔ درمختارمیں ہے:

الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما الخ [3]۔

فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو الخ(ت)

ردالمحتارمیں ہے:

قال فی البحر معنی کون الشرط یقتضیہ العقد ان یجب بالعقد من غیر شرط و معنی کونہ ملائما ان یؤکد موجب العقد کذا فی الذخیرۃ [4]۔

بحر میں کہاکہ شرط کے مقتضائے عقد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہوکہ شرط لگائے بغیر ہی عقد کے ساتھ واجب ہواور اس کے ملائم ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ موجب عقد کی تاکید کرے،یوں ہی ذخیرہ میں ہے۔(ت)

تنویر البصار ودرمختاروردالمحتارمیں ہے:

مایصح ولایبطل باالشرط الفاسد و یلغواالشرط القرض والھبۃ والصدقۃ [5] الخ۔

 



[1]           فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱

[2]           فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحجر مطبع نولکشو رلکھنؤ ۴/ ۹۱۸

[3]           درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷

[4]           ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱

[5]           ردالمحتار باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۸،درمختار شرح تنویر الابصار باب المتفرقات مطبع مجتبائی دہلی ۲/

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن