دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

رہے سرکار نے بمنظوری اس امر کے کہ جائداد بدستور مکفول رہے اس ہبہ نامہ کو منظور کرلیا تویہ ہبہ جائز رہا یا نہیں اور وہ جائداد یا موھوب لہ اس مطالبہ کے ذمہ دار ہوئے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

ہبہ جائز ونافذ تام ہوگیا لصدورھا عن اھلہا فی محلہا وقد تمت بلحوق القبض(کیونکہ وہ ہبہ کے اہل سے ہبہ کے محل میں صادر ہوا او قبضہ لاحق ہونے کے ساتھ وہ تام ہوگیا۔ت)او وہ کفالت اس کے لئے مانع نہیں ہوسکتی کہ جائداد کی کفالت اصلا کوئی چیز نہیں جب تك جائداد کسی دین موجود کے مقابل قبضہ دین میں نہ دی جائے تو جائداد جسے لوگ آج کل مکفول یا مستغرق کہتے ہیں شرعا آزاد محض ہوتی ہے۔

مالك کو اس میں ہر گونہ تصرف کا اختیار ہوتا ہے پھر ہبہ نامہ میں جو یہ شرط لگائی کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ رہے ظاہر ہے کہ شرط باطل ہے مگرشرط فاسد سے ہبہ فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط باطل و بے اثر رہتی ہے اور موھوب لہ کا اس ہبہ کوقبول کرنا اسے اس شرط فاسد کا پابند نہیں کرتا نہ اس کا یہ قبول کسی طرح بطور خود قبول کفالت کا اثر رکھتا ہے پس صورت مستفسرہ میں ہبہ قطعا صحیح وتام ہے اور جائداد موہوبہ اور ذات موھوبہ لہ دونوں مطالبہ ریاست بری وآزاد،تو ضیح مقام یہ ہے کہ شرح میں کفالت کے معنی ہیں کسی کے ذمہ سے اپنا ذمہ ملا دینا دین میں جیسے بعض کا قول ہے یا مطالبہ میں جیسا کہ قول اصح ہے،ہدایہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے:

قیل ھی ضم الذمۃ الی الذمۃ فی المطالبۃ و قیل فی الدین والاول اصح [1] انتہی،اقول والمراد اعم عن مطالبۃ حاضرۃ کما علی مدیون اومتوقعۃ کما فی ضمان الدرك وغیرہ ففی الہندیۃ عن محیط السرخسی لو قال لرجل مابایعت فلانا فہو علی جاز لانہ اضاف الکفالۃ الی سبب وھو مبایعۃ والکفالۃ المضافۃ الی وقت فی المستقبل جائزۃ لتعامل الناس فی ذٰلك [2] اھ وفیہا عن الکافی یصح تعلیق الکفالۃ بالشروط کمالوقال مابایعت فلانا فعلی وما ذاب لك علیہ فعلی وما غصبك فلان فعلی [3]۔

ایك قول یہ ہے کہ کفالت دین میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے اور ایك قول یہ ہے کہ وہ مطالبہ میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے او ر قول اول زیادہ صحیح ہے انتہٰی میں کہتاہوں مطالبہ سے مراد عام ہے چاہے حاضر ہو جیسے مدیون پریا متوقع ہو جیسے ضمان درك وغیرہ میں،ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالے سے ہے کہ اگر کسی نے دوسرے شخص سے کہا جو تم فلان پر بیچوں وہ مجھ پر لازم ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ کفالہ کی سبب وجوب یعنی مبایعت کی طرف اضافت ہے اور وہ کفالہ جس کومستقبل کے کسی وقت کی طرف منسوب کیا جائے جائز ہوتاہے اس لئے کہ اس میں لوگوں کا تعامل جاری ہے اھ،اور اسی میں کافی سے منقول ہے کہ کفالہ کو شروط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے جیسے کہا کہ جو تم فلاں کے ساتھ بیع کرو وہ مجھ پر لازم ہے اور تیرا جو حق اس پر ثابت ہو وہ مجھ پر لازم ہے اور جو فلاں نے تجھ سے غصب کیا وہ مجھ پر لازم ہے۔ (ت)

اور ظاہر ہےکہ جائداد کوئی صاحب ذمہ نہیں تو زید پر کے مطالبہ میں عمرو کا اپنی جائداد کو مکفول یا مستغرق کردینا بے معنی ہے عمرو خود اس مطالبہ کا کفیل بنتاہے یانہیں،ا ور اگر نہیں تو وہ کون سا ذمہ ہے کہ ذمہ زید کے ساتھ ضم ہوا اور اگر ہاں تو مطالبہ ذمہ عمرو پر ہوا نہ کہ جائداد پر ولہذا گر کفیل کی کلی جائداد تلف ہوجائے کفیل مطالبہ سے بری نہیں ہوتا جب اس کے پاس مال آئے گا مطالبہ ممکن ہوگا بخلاف رہن اس میں حق مرتہن خاص شے مرہون سے متعلق ہوجاتاہے حتی کہ اگر مرہون اس کے پاس ہلاك ہوجائے تو بقدر اس کی قیمت کے دین ساقط ہوجاتاہے یہاں تك کہ اگر روز قبضہ مرتہن مرہون دین کے برابر یا اس سے اکثر تھی اور شے مرہون اس کے پاس تلف ہوگئی تو کل دین جاتا رہا،ذخیرہ وہندیہ میں ہے:

اذا ھلك المرھون فی یدالمرتہن او فی ید العدل ینظر الی قیمتہ یوم القبض والی الدین فان کانت قیمتہ مثل الدین سقط الدین بھلاکہ وان کانت قیمتہ اکثر من الدین سقط الدین وھو فی الفضل امین وان کانت قیمتہ اقل من من الدین سقط من الدین قدر قیمۃ الرھن ویرجع المرتھن علی الراہن بفضل الدین [4]۔

اگر مرہون شے مرتہن کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی یا عادل کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی تو قبضہ والے دین اس شی کی قیمت اور قرض کودیکھا جائے گا اگر اس شے کی قیمت قض کی مثل ہے توقرض ساقط ہوجائے گا اور اگرقیمت زیادہ ہے تو قرض ساقط ہوجائے گا جو زائد ہے اس میں مرتہن امین ہوگا،اورقیمت قرض سے کم ہے مرہون کی قیمت کے برابر ساقط ہوجائے گا اور باقی قرض کے سلسلہ میں مرتہن راہن کی طرف رجوع کرے گا۔(ت)

مگریہ اس حالت میں ہے کہ وہ شے دائن کے قبضہ میں دے دی جائے اور دین موجود ومتحقق ہو نہ کہ موھوم و متوقع،

قال اللہ تعالٰی "فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ "[5]

(اللہ تعالٰی نے فرمایا:تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)

کافی وہندیہ میں ہے:

لایصح الرہن الابدین واجب ظاھرا وباطنا اوظاھرا، فاما بدین معدوم فلایصح [6]۔

نہیں صحیح ہے رہن مگر دین واجب کے بدلے میں،چاہے ظاہر ہو یا باطن لیکن دین موہوم کے بدلے میں صحیح نہیں۔(ت)

 



[1]           فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲

[2]           فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶

[3]           فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۷۱

[4]           فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۴۷

[5]          القرآن الکریم ۲/ ۲۸۳

[6]           فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن