30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر کسی نے دسرے کو یہ سجھتے ہوئے کوئی شے دی کہ وہ دینا اس پر لازم ہے حالانکہ وہ لازم نہ تھی تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
مدیون پر اس کو کوئی دعوی نہیں پہنچتا، فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
رجل قال لغیرہ ولیس بخلط لہ ادفع لایرجع الف درہم فد فع المامور لایرجع بہ علی الامر لکن یرجع بہ علی القابض لانہ لم یدفع الیہ علی وجہ یجوز دفعہ [1] واللہ تعالٰی اعلم۔
ایك شخص نے دوسرے کو جوا س کا شریك نہیں ہے کہا کہ فلاں کو ہزارروپے دے دو اور اس نے دے دئے تو آمر کی طرف رجوع نہیں کر سکتا البتہ قابض کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ مامور نے اس کو ایسی وجہ سے ہزار روپے نہیں دئے جس وجہ سے دینے جائز ہوں اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
(۴)اگر یہ کفالت صحیح وجائز ہوتی اور بامر مکفول عنہ وقوع پاتی تو صورت مذکورہ میں ضرور عمرو اس رقم کو زید سے واپس لے سکتاہے نیلام نہ ہونے دیتا،اور روپیہ ادارکردینا کوئی خلاف قضیہ کفالت نہیں بلکہ عین اس کا مقتضاہے کفالت توثیق دین کے لئے ہوتی ہے وہ حاصل ہے نہ کہ نیلام جائداد کفیل کے لئے،رہن کے توعین سے حق مرتہن متعلق ہوتاہے،ولہذا اس میں اور سب دائنوں پر مقدم رہتاہے اور رہن سے غرض یہی ہے کہ راہن سے دین وصول نہ ہو تو اس کی قیمت سے وصول ہوجائے پھر اگردین کی میعاد گزر جائے اور مرتہن اس کی بیع چاہے راہن بادائے دین بلا شك فك رہن کراسکتاہے کفیل کیوں ممنوع ہوگا مگرہم بیان کرآئے کہ نہ یہ کفالت ہے نہ یہاں زید پر عمرو کو کسی قسم کا دعوٰی پہنچتاہے تو اس سے بحث کی حاجت نہ رہی واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از شہر بریلی مرسلہ حافظ حضور احمدخاں منصرم نقل ساکن ریاست رام پور واردحال بریلی
کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کرکے باضابطہ تصدیق کرادی زید نے پہلے سال میں بدنیتی سے سرکاری روپیہ ادانہیں کیااور جائدا دمکفولہ کے نیلام کی درخواست دے دی عمرو نے مجبورہوکر بعذر داری منجملہ(الہ ما مہل۰۲)زر ضمانت کہ بموجب پر تہ(ماسہ عہ)داخل سرکار کرکے جائداد مکفولہ اپنے نیلام سے واگزاشت کرالی اور عمرو کے نام عدالت دیونی میں زر ضمانت ادا کردہ(صمالہ /)کی بر بنائے ضمانت نامہ مصدقہ وداخلہ سرکاری کی نالش رجوع کردی زید مدعاعلیہ کو یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے اور حکم دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ قانون مجریہ اور عملدرآمدریاست یہ ہے کہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کو اصل مستاجر پر دعوٰی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرانے کا اختیار حاصل ہے پس ایسے حکم قانون مجریہ اورعمل درآمد ریاست کے مقابلہ میں وہ ضمانت نامہ شرعا جائز ہوسکتاہےیاکیا؟ اور قاضی وقت حکم سلطان العصر کے خلاف تجویز فرمانے میں بموجب روایت درمختار:
ولو امر السلطان بعدم سماع الدعوی فلا تسمع الدعوی [2] الخ
اگر سلطان دعوٰی کی عدم سماعت کاحکم دے تو دعوٰی نہیں سنا جائے گاالخ۔(ت)ممنوع ہے کیا؟
الجواب:
کفالت بالمال بلاشبہ شرعا جائز ہے مدعا علیہ کا عذر باطل ہے یہاں تك کہ ناجائز مطالبوں کی کفالت صحیح ہے تو مستاجری رائجہ دیہات کا شرعا ناجائز ہونا صحت کفالت کا مانع نہیں،درمختارمیں ہے:
صح ضمان الخراج وکذا النوائب ولوبغی حق کجیایات زماننا فانہا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقہا حتی لواخذت
صحیح ہے ضمان اخراج کا اور اسی طرح نوائب(حکام کی طرف سے مقررہ کردہ اموال)کا اگرچہ وہ نوائب ناحق ہو۔جیسے ہمارے زمانے کے مظالم سلطانی،کیونکہ یہ مطالبہ میں دیون کی مثل ہیں بلکہ اس سے من الاکار فلہ الرجوع علی مالك الارض و علیہ الفتوی [3]۔
فوق ہیں یہاں تك کہ اگر کاشتکار سے ایسے اموال جبرا لئے جائیں تو وہ مالك زمین کی طرف رجوع کرسکتاہے اوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
اور کفالت جبکہ بامر مطلوب ہو جیسا صورت سوال میں ہے تو بلا شبہہ کفیل کو اصیل سے وصول کرنے کا اختیار ہے تنویر الابصار میں ہے:
لوکفل بامرہ رجع بما ادی وان بغیرہ لاولا یطالب کفیل بمال قبل ان یؤدی عنہ [4] (ملتقط)
اگر کوئی مطلوب کے حکم سے کفیل بناتو قرض ادا کرکے مطلوب کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اگر اس کے حکم کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں کرسکتا اورمطلوب کی طرف سے قرض ادا کرنے سے پہلے کفیل اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(ملتقطا)۔ (ت)
اور یہی مطلب اس قانون کی عبارت منقولہ سوال کا ہے کہ اس کو مستاجر پر دعوٰی کرکے زرمدخلہ وصول کرنے کا اختیارہے تو اصل منشأ سوال کہ حکم شرع و قانون کا اختلاف ہے یہاں منتفی ہے۔واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از مراد آباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ علاقہ ریاست پورمیں حاکم وقت کا یہ حکم ہے کہ جو دیہات مستاجری سرکاری میں جائداد ضمانت میں مکفول کرے اسے بیع ورہن وہبہ نہیں کرسکتا زید نے اپنی جائداد کا جو ضمانت میں مکفول تھی ہبہ نامہ لکھ دیا اور قبضہ موھوب لہ کاکرایہ دیااور ہبہ نامہ میں یہ لکھ دیا کہ جائداد موہوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع