دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

 

المطلوب اولا رجع ولو رضی الطالب اولا لالتمام العقد بہ فلا یتغیر قہستانی عن الخانیۃ وقد منہا ایضا عن السراج[1]۔ مطلوب)کی موجودگی میں بلا امر مطلوب کفیل بنا پھر مطلوب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو کفیل اس کی طرف رجو ع کرسکتاہے اوراگر طالب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو رجوع نہیں کرسکتا کیونکہ طالب کی رضامندی کے ساتھ عقد تمام ہوگیا اب اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی(قہستانی بحوالہ خانیہ)ہم سراج کے حوالے سے بھی اس کا ذکر پہلے کرچکے ہیں۔(ت)

اقول:(میں کہتاہوں)ہمارے نزدیك یہ تفصیل بھی عندالتحقیق قول طرفین پر مبنی ہے کہ کفالت بے قبول طالب ناتمام مانتے ہیں قول مفتی بہ پرجبکہ کفالت صرف قول کفیل سے تمام ہوجاتی ہے اگر چہ طالب کی رضا نہ ہو تو مطلوب کی اجازت لاحقہ نہ ہوگی مگر بعد تمام عقد اور وہ تبرعا واقع ہولیا تو اب متغیر نہ ہوگا۔عالمگیریہ میں ہے:

الکفالۃ رکنہا الایجاب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد وھو قول ابی یوسف اولا ثم رجع وقال تتم بالکفیل وحدہ کذا فی المحیط،ورضا الطالب لیس بشرط عندہ وھو الاصح کذا فی الکافی وھو الاظہر کذ افی فتح القدیر وفی البزازیۃ وعلیہ الفتوی کذا فی النہر الفائق،وھکذا فی البحر الرائق [2]۔

کفالت کارکن طرفین کے نزدیك ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف کا پہلا قول بھی یہی ہے پھر آپ نے اس سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اکیلے کفیل سے ہی کفالت تام ہوجاتی ہے یونہی محیط میں ہے،اور طالب کی رضامندی شرط نہیں ہے، اما م ابویوسف کے نزدیك اوروہی اصح ہے(کافی)اور ہی اظہر ہے(فتح القدیر)اور بزازیہ میں ہے کہ اس پر فتوٰی ہے، اسی طرح النہر الفائق اور البحرالرائق میں ہے۔(ت)

تو ثابت ہوا کہ صرف وہی کفالت موجب رجوع ہوتی ہے جو امر وحکم مدیون کے بعد ہو ولہذا جملہ متون و عامہ شروح نے صرف امر پر بنائے کارکھی اور تفصیل مذکور کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ متن ملتقٰی وغرر میں فرمایا:

وان کفل بلا امرہ لایرجع علیہ وان جازھا بعد العلم [3] اھ وھذا باطلاقہ یشمل العلم فی المجلس و بعدہ۔

اگر کوئی حکم مطلوب کے بغیر کفیل بنا تو وہ مطلوب کی طرف ر جوع نہیں کرسکتا اگر چہ مطلوب نے علم ہونے پر کفالت کی اجازت دے دی ہو اھ یہ عبارت اپنے اطلاق کے ساتھ دونوں صورتوں کو شامل ہے یعنی مجلس کے اندرعلم ہوا ہویابعد میں۔(ت)

کافی امام نسفی میں ہے:

شل ما اذا اکفل بغیر امرہ ثم اجازھا لان الکفالۃ لزمتہ ونفذت علیہ غیر موجبۃ للرجوع فلا تنقلب موجبۃ لہ [4]۔

یہ حکم مطلوب کے بغیر کفیل بننے اور بعد میں مطلوب کے اجازت دینے کو شامل ہے کیونکہ کفالت اس حال میں لازم ونافذ ہوچکی ہےکہ وہ غیر موجب رجوع ہے لہذا اب موجوب رجوع ہونےکی طرف منقلب نہیں ہوگی۔(ت)

اسی طرح دررمیں غایہ سے ہے بلکہ خود فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:

رجل کفل عن رجل بمال بغیرہ امرہ ثم اجاز المکفول عنہ الکفالۃ فادی الکفیل شیئا لایرجع علی المکفول عنہ [5]۔

ایك شخص بغیر حکم مطلوب کے اس کی طرف سے کفیل بالمال بناپھر مکفول عنہ یعنی مطلوب نے کفالت کی اجازت دے دی اور کفیل نے اس کی طرف سے قرض ادا کردیا تو مکفول عنہ کی طرف رجوع نہیں کریگا۔(ت)

بہر حال یہ حکم کفالت واقعیہ کا ہے یہاں کہ شرعا کفالت نہیں کچھ مہمل وباطل لفاظ ہیں جن کا نام کفالت واستغراق رکھا ہے یہاں اگر زید کا امر بھی ہوتا عمرو کو زید پر اس رقم کادعوٰی نہ پہنچتا کہ اگر زید نے کفالت کا امر کیا تھا مثلا فلاں کا جو مطالبہ مجھ پر ہے اس میں میرا کفیل ہوجایا اس میں میری ضمانت کرلے،اور اسی نے یہ مکان مستغرق کردیاکوئی لفظ التزام کا جس سے اس کی ذات ذمہ دار ہو نہ کہا جب تو ظاہر ہے کہ یہ اس نے یہ مکان مستغرق کردیا کوئی التزام کاجس سے اس کی ذات ذمہ دار ہوں نہ کہاجب تو ظاہر ہےکہ یہ اس کے امر سے نہیں کہ اس نے کفالت کا امر کیا تھا او ر یہ کفالت نہیں،اور اگر خود زید نے اس سے استغراق مکان ہی کو کہاتھا تو یہ ایك باطل کا حکم دیانہ کہ اپنی طرف سے قضائے دین کا جس کے تضمن کے سبب کفالت بالا مر کے سبب کفیل کو مکفول عنہ سے وصول کرنے کا اختیار ملتاہے۔ ہدایہ میں ہے:

ان کفل بامرہ رجع بما ادی علیہ لانہ قضی دینہ بامرہ [6]۔

اگرکوئی مکفول عنہ کے امر سے کفیل بناتو اس کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ اس نے مکفول عنہ کا قرض اس کے حکم سے ادا کیا۔(ت)

ایسے امر میں کفیل کو مکفول لہ یعنی دائن سے اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کااختیار ہوتاہے کہ اس نے اپنے آپ کو کفیل سمجھ کر ادا کی اوریہ خیال باطل تھا۔

ومن دفع شیئا ظانا انہ علیہ ولم یکن علیہ کان لہ ان یستردہ [7] کما فی العقود الدریۃ وغیرھا۔

 



[1]           ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۲

[2]           فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲

[3]           غرر الاحکام متن الدررالحکام کتاب الکفالۃ مطبعہ احمد کامل مصر ۲/ ۳۰۲

[4]           بحرالرائق کتاب الکفالۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۲۴

[5]           فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷

[6]           الہدایہ کتاب الکفالہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۹

[7]           العقود الدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷ وکتاب المدانیات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندہار افغانستان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن