30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ سبحانہ وتعالٰی نے رھن کو مقبوض ہونے کے ساتھ موصوف فرمایا تو یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ قبضہ رھن میں شرط ہو تاکہ اللہ تعالٰی کی خیر خلاف واقع ہونے محفوظ رہے اور اس لئے بھی کہ یہ تبرع و احسان ہے لہذا باقی تبرعات کی طرح یہ خود مفید حکم نہ ہوگا،اوراگر وہ دونوں اس شرط پر عقد کرے کہ رہن مالك قبضہ میں رہے گا تو رہن جائز نہ ہوگا یہاں تك کہ اگر وہ مالك کے قبضہ میں ہلاك ہوگیا تودین ساقط نہ ہوگا،اوراگرمرتہن ارادہ کرے کہ وہ اس کو مالك کے قبضہ سے لے کر بطور رہن محبوس رکھے تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں۔(ت)
یہ لوگ خود بھی اسے نہ رہن کہتے ہیں نہ رہن سمجھتے بلکہ کفالت اوراس کا کفالت ہونا رہن ٹھہرنے سے بھی باطل ترہے کفالت بے کفیل محال اور س عقد مخترع میں نفس جائداد کفیل ٹھہرتی ہے نہ مالك جائداد اکثر یہ استغراقات صاحب جائدادان دیون میں کرتاہے جو خود اس پر ہیں اور کوئی شخص خود اپنا کفیل نہیں ہوسکتا کہ کفالت ہے۔
ضم الذمۃ الی الذمۃ [1] کما فی البدائع والہدایۃ وعامۃ الکتب۔
ایك ذمہ کو دوسرے ذمہ کے ساتھ ملانا جیساکہ بدائع،ہدایہ اور عام کتابوں میں ہے۔(ت)
یہاں دو ذمہ کہاں ہیں کہ ایك دوسرے سے ضم ہو،ولہذا شرح جامع الصغیر لشیخ الاسلام علی الاسبیجابی پھر فصول استروشی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا قال المطلوب للطالب ان لم اوافک
جب مطلوب طالب سے کہے کہ اگرمیں کل اپنے آپ کو
بنفسی غد افعلی المال الذی تدعی فلم یواف لا یلزمہ شیئ [2]۔
تیرے پاس حاضر نہ کروں تو جس مال کا تو دعوٰی کررہاہے وہ مجھ پر لازم ہوگا پھر وہ پانے آپ کو حاضر نہ کرے تو اس صورت میں اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔(ت)
او رخود یہ اختراع کرنے والے بھی اتنا سمجھتے ہیں کہ آدمی اپ اپنا ضامن نہیں ہوسکتا لاجرم جائداد کو ذمہ دار مانتے ہیں،اور شك نہیں کہ جو معنی استغراق یہاں سمجھتے ہیں وہی دوسرے خود اس مدیون کے عوض جائداد مستغرق کرنے میں ولہذا جائداد ہی پر مطالبہ عائد مانتے ہیں اور اس میں مالك کے تصرفات انتقال ناجائز جانتے ہیں لیکن جائداد جماد ہے اور ذمہ مکلفین کے ساتھ خاص جانور تو کوئی خاص ذمہ رکھتا نہیں،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:
العجماء جبار [3] رواہ مالك واحمد والستۃ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
جانوروں پر ضمان نہیں۔اس کا مالک،ا مام احمد اور ائمہ ستہ نے سیدنا حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ (ت)
نہ کہ سنگ وخشت،جامع الرموز میں ہے:
الذمۃ لغۃ العہد وشرعا محل عہد جری بینہ وبین اللہ تعالٰی یوم المیثاق اووصف صاربہ الانسان مکلفا [4]۔
ذمہ لغت میں عہد کوکہتے ہیں اورشرع میں اس عہدکے محل کو کہتے ہیں جو یوم میثاق کو اللہ تعالٰی اس محل عہد کے درمیان جاری ہوا یا اس وصف کوکہتے ہیں کہ جس کے ساتھ انسان مکلف ہوا۔(ت)
تحریر امام ابن الہمام پھر نہر الفائق پھر ردالمحتار میں ہے:
الذمۃ وصف شرعی بہ الاھلیۃ لوجوب مالہ وعلیہ وفسرھا فخرالاسلام
ذمہ میں وہ وصف شرعی ہے جس کے ساتھ مالہ،اور ماعلیہ کی اہلیت وجوب حاصل ہوتی ہے اور
بالنفس والرقبۃ لہا عہد [5]۔
فخر الاسلام نے اس کی تفسیر یوں کی کہ وہ نفس یا وہ رقبہ جس کے لئے عہد ہے۔(ت)
تو جائداد کا ذمہ دار ہونا محال تو کفالت لغو و واجب الابطال،مخترعین اسے مکفول کہتے ہیں یہ بھی ان کا اختراع ہے ورنہ وہ بھی ان کے طور پر کفیل ہے کما بینا وایضا _________ یہاں پانچ چیزیں ہیں،کفیل،مکفول،مکفول عنہ،مکفول لہ،مکفول بہ،مکفول بمعنی مضمون بہ تو ذمہ کفیل ہے کما تقدم اٰنفامن کتب المذھب(جیسا کہ مذب کی کتب کے حوالہ سے ابھی گزرا ہے۔ت)اور کفالت دیون میں مکفول منہ مدیون مکفول لہ دائن مکفول بہ وہ دین،درمختارمیں ہے:
الدائن مکفول والمدیون مکفول عنہ والنفس او المال مکفول بہ ومن لزمتہ المطالبۃ کفیل [6]۔
دائن کو مکفول لہ،مدیون کو مکفول عنہ،نفس یامال کو مکفول بہ اور جس پر مطالبہ لازم ہے اس کو کفیل کہتے ہیں۔(ت)
ظاہر ہے کہ جائداد نہ دین ہے نہ دائن نہ مدیون نہ وہ وصف شرعی کہ انسان مکلف کےلئے ہوتاہے تو وہ اخیر کے چاروں سے کچھ نہیں،لاجر م کفیل ہے،،اوریہ باطل ومستحیل ہے،اگرکہیں کہ ہم صاحب جائداد کو کفیل مانیں گے اور جائداد زیادت اطمینان کے لئے ہے کہ دائن اس سے وصول کرے۔
[1] الہدایہ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۲
[2] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃالفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۷۷
[3] صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱ /۲۰۳ و کتاب الدیات ۲/ ۱۰۲۱ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الحدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳،مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۲۲۸
[4] جامع الرموز کتاب الکفالۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۱۹۵
[5] ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۹
[6] درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ۲ /۵۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع