دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

شہر میں ہونا لازم نہیں آتا باقی حاصل اس قدر کہ نوٹس آنے سے پہلے اس دن ضامن شہر میں دیکھے گئے جب نوٹس آئے اور مکان پر چسپاں ہوئے اس وقت شید اعلی جنگل کوبھینس لے گیا چھنوخان کو سنا کہ بابو کے یہاں گئے ہیں،نوشہ خاں کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں ان سے زیادہ کوئی حرف بھی شہادتوں میں ہے اس میں اصل مقصود یعنی جنگل یا بابو کے پا س یا قلعہ سے ضامنوں کے لوٹ کر مکان پر آنے اور مضمون نوٹس پر اطلا ع ہونے پر شہادت کہاں ہے کیا قبل آویزانی نوٹس جنگل وغیرہ میں ہونا اسے وجوبا مستلزم ہے کہ پلٹ کر بھی آئیں اور مضمون پر اطلاع پائیں کیا ممکن نہیں کہ وہی وقت ضامنوں کے باہر جانے کا ہو،جاتے وقت چھنوں خان بابو سے ملا،نوشہ خاں قلعہ میں گیا،شیدا علی جنگل میں بھینس کسی کو سپر کرنے گیا،اور ان کاموں سے فارغ ہوکر ویسے ہی باہر جہاں جہاں جانا تھا چلے گئے اور اس روز واپس آئے جس دن وہ اپنا آنا بتاتے ہیں،کیا ہزار بار ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی شہرسے جاتے وقت شہرمیں کہیں ہوتا جائے،اور جب یہ یقینا ممکن ہے اور شہادتوں میں اس کے خلاف کوئی حرف نہیں تو شہادات موافق دعوٰی کب ہوئیں لہذا واجب الرد ہیں،الشہادۃ ان وافقت الدعوی قبلت والالا(شہادت اگر دعوی کے موافق ہو تو قبول کی جائے گی ورنہ نہیں۔ت)اگریہ کہئے کہ اگر چہ اس دن ان کی واپسی واطلاع مضمون جو مدعاہے شہادات سے ثابت نہیں مگر ظاہر تو ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو،ہوا ہو سے دعوی ثابت نہیں ہوتا اور اگر اس کا ظاہر ہونا تسلیم بھی کرلیں توقاعدہ مستمرہ فقہیہ ہے کہ الظاھر یصلح حجۃ للدفع لاللا ستحقاق(ظاہر دفاع کےلئے حجت ہے نہ استحقاق کے لئے۔ت)پھر کس بنا پر اسے استحقاق مال کی حجت بناسکتے ہیں لاجرم حکم شرعی یہی ہے کہ ضامنین صورت مذکورہ میں ضمانت نفس وضمانت مال دونوں سے مطلقًا بری ہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۳ تا ۲۸۶:ازریاست رام پور مرسلہ میرسید انوارحسین صاحب بذریعہ مرزا نظر بیگ سابق نائب تحصیلدار بریلی ۹ر بیع الآخر ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)کفالت بالمال یعنی کوئی شخص کسی کے مطالبہ میں اپنا مکان مکفول کرے تو یہ کفالت شرعا جائز ہے یانہیں ؟

(۲)نالش بربنائے کفالت بالمال یعنی اس بناء پر کہ کفیل نے اپنا مکان دوسرے کے مطالبہ میں مکفول کیا تو شرعا قابل سماعت ہے یانہیں ؟

(۳)زید نے ٹھیکہ کسی حقیت کالیا اور عمرو نے بلا استدعا خواہش زید کے اپنا مکان کفالت میں دے دیاتو اس صورت میں عمرو مستحق پانے رقم کا زید سے ہے یانہیں یعنی اس رقم کی ضمانت تبرع اوراحسان سمجھی جائے گی یا کیا؟

(۴)جب کفیل یعنی ضامن خلاف معاہدہ مندرجہ کفالت نامہ کے دیگر نہج پر روپیہ دائن کو اداکرے تووہ مستحق لینے رقم مذکور کا مدیون سے ہے یانہیں ؟ صورت کفالت یہ ہے کہ زید نے ایك موضع مستاجری میں لیااورعمرو نے اپنا مکان ضمانت میں مستغرق کرادیا اور ضمانت نامہ میں یہ لکھا کہ اگر زید کے ذمہ روپیہ باقی مالگزاری کا رہ جائے اور وہ ادانہ کرے تو جائداد مکفولہ سے نیلام جائداد مالك موضع وصول کرلے مجھ کو نیلام جائیداد مکفولہ میں کوئی عذرنہ ہوگا زید کے ذمہ کچھ باقی رہے مالك موضع نے بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ نیلام کرنے کا قصد کیا توعمرو مالك مکان نے اپنے مکان کو خلاف شرط مندرجہ ضمانت کے نیلام نہ ہونے دیا بلکہ روپیہ باقیماندہ ذمگی زید عمرو نے قبل نیلام مالك موضع کو دے دیا اس وجہ سے اس روپیہ کا دینا خلاف دستاویز ضمانت کے وقوع میں آیا۔بینوا توجروا

الجواب:

(۱)کفالت بالمال تویقینا جائز ہے مگر شرعا اس کے معنی یہ ہیں کہ زید کا جو مطالبہ مالی عمرو پر ہوا سے اپنے ذمہ پر لے یوں کہ ایك مال کا مطالبہ عمرو وبکر دونوں کے ذمہ پر ہو،نقایہ میں ہے:

الکفالۃ اما بالنفس وینعقد بکفلت بنفسہ اوعلی اوالی واما بالمال فتصح وان جہل المکفول بہ اذ صح دینہ نحو کفلت بمالك علیہ اوبما یدرکك فی ھذا لبیع [1] (ملتقطا)

کفالت یاتونفس کی ہوتی ہے اور وہ ان لفظوں سے منعقد ہوتی ہے کہ میں اس کے نفس کا کفیل بنا ہوں یا وہ میرے ذمے یا کفالت مال کی ہوتی ہے اور یہ مال مکفول کے مجہول ہونے کے باوجود صحیح ہوجاتی ہے جبکہ دین صحیح ہو مثلا یوں کہے کہ جو تیرا مال فلاں پر ہے یا جو تجھے اس بیع میں حاصل ہوگا میں اس کا ضامن ہوں۔(ملتقطا)(ت)

یہ جدید ومحدث طریقہ کہ جہاں میں رائج ہے کہ کوئی مکان دکان زمین جائداد کسی کے مطالبہ میں کہ اپنے اوپر یا دوسرے پر ہو مستغرق کرتے ہیں کہ وہ اس سے اپنا مطالبہ وصول کرے،اور اس جائداد کو مکفول یا مستغرق کہتے ہیں اور بآنکہ جائداد قبضہ مالك ہی میں رہتی ہے اس وقت سے مالك کو اس میں تصرفا ت انتقالیہ بیع وہبہ سے ممنوع جانتے ہیں اور اگر کرے تو باطل سمجھتے اوردائن کو اس کے واپس لینے کا اختیار بتاتے ہیں یہ سب محض بدعت واختراع فی الشریعۃ وہوس باطل ومردود ہے شرعا اس جائداد سے کوئی حق دائن کاکسی وقت متعلق نہیں ہوتا،نہ مالك اس بیع وہبہ سے ممنوع ہوسکتاہے شرع مطہر نے تو ثیق دین کے لئے صرف دو عقد رکھے ہیں،کفالت ورہن،اس کا رہن نہ ہونا تو بدیہی کہ رہن کی شرط قبضہ مرتہن ہے رہن بے قبضہ کوئی شے نہیں قال اللہ تعالٰی "فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ "[2](اللہ تعالٰی نے فرمایا:تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)بدائع امام ملك العلماء میں ہے:

وصف سبحنہ وتعالٰی الرھن بکونہ مقبوضہ فیقتضی ان یکون القبض شرطا فیہ صیانۃ لخبرہ تعالٰی عن الخلف ولانہ عقد تبرع للحال فلا یفید الحکم بنفسہ کسائر التبرعات ولو تعاقد اعلی ان یکون الرھن فی یدصاحبہ لایجوز الرہن حتی لو ھلك فی یدہ ولایسقط الدین ولوارادالمرتہن ان یقبضہ من یدہ لیحبسہ رھنا لیس لہ ذٰلك [3]۔

 



[1]           مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ(النقایہ) کتاب الکفالۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۔۱۲۳

[2]           القرآن الکریم ۲ /۲۸۳

[3]           بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل اما الشرائط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۳۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن