30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)جلن خان گواہ تعمیل نوٹس ۴ جنوری عرصہ ۱۸ یا ۱۹ دن کا ہوا مظہر اپنے کھیتوں پر جارہا تھا چھنو خان کے مکان پر شیداعلی نوشہ خاں کھڑے تھے مظہر جنگل کو چلا گیا پھر جس وقت ادھر سے لوٹ کر آیا اس وقت گمن خاں نے کاغذ کچہری کے چھنوخاں کے مکان پر وہ لگادئے مظہر چھنوخاں اور شیدا علی کی ولدیت نہیں جانتا ان دونوں کو پہچانتاہے بجواب سوال کچہری بیان کیا جس وقت کاغذ چسپاں ہوئے ہیں اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے کر گیا تھا اور چھنو خاں کی نسبت سنا کہ بابو کے یہاں گئے ہیں
(۳)چھمن گواہ تعمیل نوٹس کوئی انتیس دن کا عرصہ ہوا جمعہ کے روز مظہر اپنے گھر کے باہر کھڑ اتھا وقت دن کے ۱۰،۱۱ بجے کا تھا شیدا علی وچھنو پسران چھٹن اپنے گھر کے پاس کھڑے باتیں کررہے ہیں،تھوڑی دیر کے بعد اسی روز گمن خاں شیدا علی وچھنو مذکور کے مکان پر دو کاغذ لگارہے تھے اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے گیا تھا اور چھنو کہیں گیا تھا۔
(۴)شرف الدین،عرصہ کوئی ۱۹ دن کا ہوا چھنوخاں شیدا علی خاں پسران چھٹن خاں نوشہ ولد بنن خان بیٹھے کنوین کے پاس جہاں چھنوخاں وشیدا علی خاں کا مکان ہے کھڑے باتیں کررہے تھے بس مظہر نے اتناہی دیکھا۔
(۵)لڈن خاں،کوئی ۱۹ دن ہوئے گمن خاں سمن لئے محبوب جان کی مسجد کے پاس کھڑے تھے اور بھی کئی آدمی تھے مذکوری نے کہا نوشدخاں کے گھرپر چسپاں کرتاہوں مذکوری نے نوشہ خاں ولدبنن خان کےگھر پر آواز دی کہ نوشہ خاں کہاں ہیں گھر میں سے ایك لڑکی نکلی اس نے کہا یا تو بابوجی کے یہاں گئے ہوں گے یا قلعہ کو،مذکوری نے سمن نوشہ خاں کے گھر پر چسپاں کردیا مظہر چلا گیا
(۶)امجد حسین،چپراسی سمن لئے محبو ب جان کی مسجد کے پاس ۱۹ روز ہوئے جمعہ کے دن پھر رہے تھے نوشہ خاں کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں مذکوری نے نوشہ خان کے مکان پر سمن چسپاں کردیا،مظہر چلا گیا۔مظہر نوشہ خاں کی ولدیت نہیں جانتا ان کو پہنچانتا ہے،یہ تمام شہادتیں بوجوہ کثیرہ محض ناکافی ہیں۔
اول: چپراسی ۱۸ دسمبر کو سمن چسپاں کرنا بتاتاہے اور چھمن اور امجد حسین جمعہ کے دن ۱۸ دسمبر کو شنبہ تھا نہ کہ جمعہ۔
ثانی: یہ شہادتیں چوتھی جنوری کوہوئیں،حسب بیان چپراسی آویزانی سمن کو اس وقت تك سترہ دن ہوئے تھے،امجد حسین ۱۹ دن کہتاہے لڈن اور شرف الدین کوئی ۱۹ دن،اور اظہار چھمن کے باضابطہ نقل میں صاف انتیس دن لکھے ہیں،جلن خاں ۱۸ یا ۱۹ کہتاہے،یوں بھی کم از کم وہی جمعہ کا دن پڑتا ہے۔
ثالث: شہادت علی الغائب میں بیان ولدیت بالاتفاق لازم ہے اور ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذہب میں تو بیان جد بھی ضرور ہے جبکہ صرف ولدیت موجب معرفت نہ ہو،اور یہی صحیح ہے۔عالمگیری میں ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی المیت اوالغائب الی تسمیۃ الشہود اسم المیت والغائب وابیہا وجدھا وعلی قول ابی یوسف ذکر الاب یکفی کذا فی الذخیرۃ والصحیح ان النسبۃ الی الجد لا بدمنہ کذا فی البحرالرائق [1]۔
میت اور غائب پر گواہی کے لئے ضروری ہے کہ گواہ میت اور غائب کا نام ان کے باپ کانام اور ان کے دادا کانام ذکر کریں اور امام ابویوسف کے قول پر صرف باپ کاذکر کافی ہے ذخیرہ میں یوں مذکور ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے،یونہی بحرالرائق میں ہے۔(ت)
یہاں بیان ولدیت درکنار جلن خان،چھنو وشیداعلی کی نسبت،امجد حسین خاں نوشہ خاں کی نسبت ولدیت جاننے ہی سے منکر ہے،نہ مشہور علیہم کو ان کے سامنے لاکر شناخت کرائی گئی ایسی مجہول گواہی ناقص ومختل ہے۔
رابع: چپراسی کہتاہے گواہان کی زبانی معلوم ہوا کہ ضامن شہر میں ہیں یہ سماعی بیان ہے اور ان مستشنیات میں نہیں جن میں شہادت بالتسامع مقبول ہے۔
خامس: وہ بھی مجہول،کون گواہ کس کی زبانی
سادس:کہتاہے کہ عورات ضامنان نے کہا تھا چپراسی نے کیونکر جانا کہ یہ کہنے والیاں عورات ضامنان ہیں
سابع:عورات کا کہنا ضامنوں کے شہر میں نہ ہونے کے کیا منافی،گھر میں نہیں کہیں چلے گئے ہر طرح صادق ہے۔
ثامن: جلن کابیان کہ چھنو خان کی نسبت کہ بابو کے یہاں گئے ہیں سماعی ہے
تاسع: وہ بھی مجہول
عاشر: لڈن خان ایك لڑکی کے بیان کا حاکی ہے
حادی عشر: وہ بھی مجہولہ بلکہ بظاہر نابالغہ بھی
ثانی عشر: امجد حسین کا بیان بھی سماعی ہے
ثالث عشر: مجہول،نوشہ خاں کا معلوم ہوا کیونکر معلوم ہواکس سے معلوم ہوا
رابع عشر: شرف الدین کا بیان محض خالی ہے اس سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ کوئی ۱۶ دسمبر کو ضامن شہر میں تھےخامس عشر ان چھ گواہیوں میں یہ بیس نقص ہیں،چپراسی کے بیان میں چار یعنی ۴،۵،۶،۷،جلن خاں کے بیان میں چار ۲،۳،۸،۹۔ چھمن کے بیان میں دو ۱،۲،شرف الدین کے بیان میں دو ۲،۱۴۔لڈن خان کے بیان میں تین ۲،۱۰،۱۱۔امجد حسین کے بیان میں پانچ ۱،۲،۳،۱۲،۱۳۔
ان سب سے قطع نظر کرکے ان میں ایك شہادت بھی موافق دعوٰی نہیں،سماعی ومجہول بیان چپراسی کی تائید میں جتنی گواہیاں گزریں سب مدعا کے اجنبی وبے علاقہ ہیں،مدعا یہ ہے کہ ضامنوں نے نوٹس دیکھا یا مضمون نوٹس پر اطلاع پائی اور وقت اطلاع سے سات دن کے اندر مدیون کو حاضر نہ کیا تاکہ حسب شرائط مطالبہ مال ان پر عائد ہو شہادتوں میں اس کا کون سا حرف ہے،دو دن پہلے ۱۶ دسمبر کو شہر میں ہونا جوبیان شرف الدین میں ہے یا ایك دن پہلے روز جمعہ کو شہر میں رہنا جو بیان چھمن وامجد حسین میں ہے اس سے تو خود اس دن بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع