30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمیعا بخلاف موت المطلوب لعدم وضعہ للفسخ کما بینہ فی الفتح وغیرہ۔
اصل وفروع دونوں میں عمل کرے گا بخلاف مطلوب کی موت کے کیونکہ اس کی وضع فسخ کے لئے نہیں ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں اس کو بیان کیاہے۔(ت)
درمختارو ردالمحتارمیں ہے:
لوابراہ عنہا فلم یواف بہ ولم یجب المال لفقد شرطہ وھو بقاء الکفالۃ بالنفس [1]۔
اگر طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا اور اس نے ادائیگی نہیں کی توکفیل پر مال دینا واجب نہ ہوگا کیونکہ اس کی شرط یعنی کفالت نفس کی بقاء فوت ہوگئی ہے۔(ت)
حواشی ہدایہ میں ہے:
الکفالۃ بالنفس اذا سقطت وجب ان یسقط ما یترتب علیہا من الکفالۃ بالمال لکونہا کالتاکید لہا ولیست بمقصودۃ ولہذا لوابرأ الکفیل الطالب عن الکفالۃ بالنفس قبل انقضاء المدۃ بطلت الکفالۃ بالمال [2]۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
جب کفالت بالنفس ساقط ہوجائے تو اس پر مرتب ہونے والی کفالۃ بالمال کا ساقط ہونا واجب ہے کیونکہ وہ تو کفالت نفس کی تاکید ہے مقصو دنہیں،یہی وجہ ہے کہ اگر مدت گزرنے سے پہلے طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا کفالت بالمال باطل ہوجائے گی،واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۲: از ریاست رامپور مسئولہ حاجی نوشہ علی وشید اعلی وچھنو ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(زید)ڈگری دارنے بصیغہ اجراء ڈگری(عمرو)اپنے کو گرفتار کرایا بکر وخالد وحامد عمرو مدیون کی حاضری عدالت کے بلا تعین تاریخ حاضر ضامن ہوئے اور ضمانت نامہ بایں شرائط لکھا گیا کہ جس تاریخ کو عدالت(عمرو)مدیون کو طلب کرے گی ضامنان اس کو حاضرکریں گے اگر نہ حاضر کریں گے تو زر ڈگری ذمگی مدیون مذکور ادا کریں گے ضمانت نامہ مذکورہ بعد تکمیل شامل مسل ہوکر مدیون سپرد ضامنان کیا گیا ہر سہ ضامنان اپنی اپنی ضرورتوں سے حدود عدالت مذکور یعنی اپنے مسکنوں سے باہر دور دراز چلے گئے ان کی عدم موجودگی میں عدالت سے ایك حکم اس مضمون کا جاری ہواکہ تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایك ہفتہ کے اندر مدیون کو حاضر عدالت کریں،یہ حکم بوجہ عدم موجودگی ضامنان ان کے مکانوں پرآویزان ہوا ہے کسی ضامن کی ذات پر حکم مذکورکی تعمیل نہیں ہوئی ہے میعاد ہفتہ مندرجہ حکم مذکور گزر جانے پرڈگری دارنے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ضامنان نے مدیون کو میعا د مقررہ عدالت کے اندر نہیں حاضر کیا ہے پس بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ ڈگری کا ایفاء ضامنان سے کرایا جائے اور بذریعہ قرقی ونیلامی جائداد ضامنان زرڈگری وصول کرایا جائے اورضامنان کے قصورنہ حاضر کرنے مدیون کی تائید میں چنداشخاص کے بیانات عدالت میں کرائے ہیں جنہوں نے بحلف بیان کیا ہے کہ تاریخ تعمیل حکمنامہ مجریہ عدالت پر ہم نے ضامنان کو اسی شہر میں جوان کا مسکن ہے دیکھا ہے اس شہادت کے پیش نظر ہونے پر عدالت سے حکم قرقی مال احدالضامن جاری ہوا ہے اور قرقی حسب قاعدہ عمل میں آئی ہے قرقی سے دوسرے روز ہر سہ ضامنان نے مدیون کو حاضر عدالت کیا ہے اور میعاد مندرجہ حکم مجریہ عدالت کے اندر نہ حاضر کرنے مدیون کی نسبت یہ عذر کیا ہے کہ ہم ضامنان اپنے مسکنوں پر اس شہرمیں موجود نہیں تھے بلکہ اپنے مسکنوں سے باہر دور دراز گئے ہوئے تھے اس وجہ سے ہم کو اطلاع اجراء حکم عدالت کی نہیں ہوئی بہ یوم قرقی واپس آئے ہیں اور فعل قرقی سے علم اجرائے حکم عدالت کا ہواہے کہ بہ مجرد علم دوسرے ہی روز مدیون کو فورا عدالت میں حاضر کردیا ہے علم طلبی مدیون کے بعد کوئی توقف منجانب ضامنان وقوع میں نہیں آیاہے اور اپنے عذر عدم موجودگی شہر یعنی بہ مساکن خودہا موجودگی مقامات دیگر کی تائید میں ہر سہ ضامنان نے حلف نامہ جات اقراری خود ہا عدالت میں داخل کئے ہیں کہ عدالت نے مدیون حاضر کردہ کو ضامنان سے لے کرجیل خانہ دیوانی میں بھیج کر ضمانت بالنفس سے تو ضامنان کو بری کردیا ہے مگر ضمانت بالمال کا مواخذہ ضمان پر قائم رکھا ہے پس سوال قابل تصفیہ یہ ہے کہ جبکہ عدالت سے ضمانت کے وقت یا ضمانت نامہ میں کوئی تاریخ حاضر ی مدیون کی معین ومقرر نہیں ہوئی تھی اورحکم مجریہ عدالت جس کے ذریعہ سے طلبی مدیون کی ضامنان سے ہوئی ہے ضامنان کی ذات پر تعمیل نہیں ہواہے اور اسی حکم مجریہ عدالت میں بھی حاضری مدیون کے لئے کوئی تاریخ معین ومقرر نہیں کی گئی ہے بلکہ حکم مذکور کے یہ الفاظ ہیں (تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایك ہفتہ کے اندرمدیون کو حاضر عدالت کرو)اور ان کا روائیات کے مقابلہ میں ضامنان بذریعہ حلف نامجات تاریخ اجراء حکمنامہ عدالت اور اس میعاد ایك ہفتہ کے اندر جو اس میں نسبت حاضری مدیون مقرر تھی اپنی عدم موجودگی بمسکنہائے خودہا وموجودگی بمقامات دیگر جو بفاصلہ واقع ہیں ظاہر وثابت کرتے ہیں توکیا ان حالات کی موجودگی میں بھی ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا عائد وقائم رہ سکتاہے درحالیکہ مدیون کو بھی بمجرد علم طلبی عدالت حاضر عدالت کردیا اور وہ جیل خانہ دیوانی میں بھی بھیج دیا گیا ہے او رقید بھگت رہا ہے یایہ کہ بحالت مذکورہ بالا ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا قائم وباقی نہیں رہ سکتا ہے اور وہ سبکدوش ہوسکتے ہیں۔
الجواب:
دارالافتاء نے بیان سائل پر اکتفانہ کرکے اظہارات گواہان کی نقول باضابطہ طلب کیں جو سال ۱۳ جمادی الاولٰی کو حاضر لایا وہ سات گواہ ہیں جن میں ایك ہندو ہے اس کی شہادت تو مسلمانو ں پر اصلا مسموع نہیں لہذا اس سے بحث فضول ہے باقی چھ کا خلاصہ یہ ہے:
(۱)گمن خاں چپراسی مظہر نے بتاریخ ۱۸ دسمبر تین قطعہ نوٹس بمکان شیخ چھنو شید ا علی ونوشہ خان چسپاں کردئے اس لئے کہ گواہان کی زبانی مظہر کو معلوم ہوا کہ ضامن شہرمیں نہیں نوٹس کی خبر معلوم کرکے روپوش ہوگئے ہیں۔ہنگام دریافت عورات ضامنان نے کہا تھا کہ ضامنان گھرمیں نہیں کہیں چلے گئے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع