دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا قاضی امام استاذ ابوعلی نسفی فرمایاکرتے تھے کہ شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل اس روایت کو پسند کرتے اور کہتے تھے کہ اگر کسی نے فارسی میں کہا کہ میں نے دس روز تك فلاں کے بدن کو قبول کیا تو وہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور جب مدت گزر جائے گی تو دس دن کے بعد وہ بطور کفیل باقی نہ رہے گا،اوراگر کہا کہ میں نے دس روز فلاں کے بدن کوقبول کیا تو وہ دس دن کے بھی کفیل رہے گا،اوربعض مشائخ نے کہا اگر کسی نے یوں کہا کہ میں نے فلاں کے بدن کو دس دن تك قبول کیا پھر دس دن گزرگئے اور اس نے مطلوب کو طالب کے حوالہ نہ کیا تو اب کفیل یہ مطالبہ قاضی کے پاس لے جائے گا تاکہ وہ اس کو کفالت سے خارج کردے،اسی پر شیخ امام اجل ظہیر الدین فتوٰی دیتے تھے اور میرے جدا مجد سے بھی یہی منقول ہے اللہ تعالٰی اب سب پر رحم فرمائے۔(ت)

ردالمحتارمیں ہے:

قلت وینبغی عدم الفرق بین الصور الثلث فی زماننا (ای مااذا قال شہرا

میں کہتاہوں ہمارے زمانے میں ان تینوں صورتوں میں فرق نہیں ہونا چاہئے(یعنی اگر کہے ایك مہینہ

اوالٰی شہر اومن الیوم الی شہر)کما ھو قول ابی یوسف و الحسن لان الناس الیوم لایقصدون بذٰلك الا توقیت الکفالۃ بالمدۃ وانہ لاکفالۃ بعدہا وقد تقدم ان مبنی الفاظ الکفالۃ علی العرف والعادۃ ان لفظ عندی للامانۃ وصار فی العرف للکفالۃ بقرینۃ الدین وقالوا ان کلام کل عاقدوناذرٍ وحالف و واقف یحمل علی عرفہ سواء وافق عرف اللغۃ اولا [1] الخ

یا ایك مہینے تك یا آج سے ایك مہینے تک)جیسا کہ امام ابویوسف اورحسن کا قول ہے کیونکہ آج کل لوگ اس سے سوائے کفالت کی توقیت بالمدۃ کے کچھ ارادہ نہیں کرتے اور یہ کہ اس مدت کے بعد کفالہ نہیں اور تحقیق گزرچکا ہے کہ کفالہ کے الفاظ کا دارومدار عرف اورعادت پرہے۔بیشك لفظ "عندی"امانت کے لئے ہے مگر عرف مین دین کے قرینہ کے ساتھ کفالہ کےلئے ہوگیا،اور فقہاء نے کہا کہ ہر عقد کرنے والے،نذر ماننے والے،قسم کھانے والے اور وقف کرنے والے کا کلام اس کے عرف پر محمول ہوگا چاہے اس کا عرف لغت کے موافق ہو یا نہ ہو الخ(ت)

وانا اقول:(اورمیں کہتاہوں)حقیقت امر یہ ہے کہ ظاہر الروایۃ کوان واقعات سے اصلا تعلق نہیں ان میں بلا شبہہ روایت امام ابی یوسف ہی پر افتاء وحکم واجب ہے اور اس کا خلاف محض باطل،آخر اس قدر پر تو اجماع ہے کہ ایجاب رکن کفالت ہے اور جب عر ف میں قطعا یقینا دس روز تك یا فلاں تاریخ تك کفیل ہونے سے یہی معنی مقصود مراد مفہوم ومفاد ہوتے ہیں کہ کفالت اس وقت تك موقت کی جاتی ہے اس کے بعد کفالت نہیں تو بالیقین کفیل نے ہرگز ایجاب نہ کیا مگر کفالت موقتہ ممدود کا،اب اگر بعد اس وقت وحد کے کفالت باقی مانیں تو یہ وہ کفالت ہے جس کا ایجاب ہر گز نہ ہوا،اور کوئی عقد بے اپنے رکن کے محقق ہونا بالاجماع باطل ہے تو ظاہر الروایۃ کو ہمارے عرف دائر سائر سے اصلا تعلق نہیں اور یہاں اس پر حکم سراسر مقاصد شرع سے جدا وظلم ہوگا،ولہذا علامہ محقق نے فرمایا:

ماذکرہ الامام النسفی مبنی علی ان المذکور ظاہر الروایۃ انما ھو حیث لاعرف اذ لا وجہ للحکم علی المتعاقدین بمالم یقصد أفلیس قضاء بخلاف

امام نسفی نے جو ذکر فرمایا وہ اس بات پر مبنی ہے کہ مذکور ظاہر الروایۃ وہاں ہے جہاں کوئی عرف نہ ہو کیونکہ متعاقدین پر ان کے مقصود کے خلاف حکم کی کوئی وجہ نہیں چنانچہ یہ ظاہر الروایۃ کے

ظاہر الروایۃ [2]۔ خلاف قضاء نہ ہوئی۔(ت)

پس صورت مستفسرہ میں قطعا حکم یہی ہے کہ ۱۸ فروری کے بعد کفالت نہ رہی،بالجملہ اسی مسئلہ میں حق ناصح یہ ہے کہ کفالت بالنفس تو ۱۸ فروری کو جزمًا حتمًا ختم ہوگئی اوراس کے بعد مطالبہ ظلم ہے اور لفظ مطالبہ سے کفالت بالمال کا ایجاب محض بے دلیل ہے اگرچہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ثابت بھی ہو اوراگر اس کا ثبوت نہ ہو جب تو مطالبہ مال کا معنی مجازی پر بھی اصلا احتمال ہی نہیں،غرض صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس یقینا زائل اور خالد پر مطالبہ مال کا بھی حکم باطل یہ حکم قضا ہے،رہی دیانت اگر فی الواقع خالد نے مطالبہ سے مال مراد لیا،اور یہی مقصود مفہوم ہوا اور ۱۸ سے پہلے فرار کی شرط محقق ہوئی او رہندہ کا زید پر دین دین صحیح تھا تو عنداللہ خالد پر مال لازم آچکا اگرچہ قاضی بوجہ مذکورہ حکم نہیں کرسکتا اللہ سے ڈرے اور بیجا حیلہ وعذر نہ کرے اور اگر ان تینوں امر سے ایك بھی منتفی ہو تو عنداللہ بھی وہ مطالبہ مال سے بری ہے،ھذا ھوالتحقیق واللہ ولی التوفیق وھوسبحانہ وتعالٰی اعلم(یہ ہی تحقیق ہے اور اللہ تعالٰی مالك توفیق ہے اور وہ سبحنہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ت)

مسئلہ ۲۸۱: ازرام پور مقام مذکور ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ دائنہ کے لئے ایك مدت معہودہ تك عمرو مدیون کا کفیل بالنفس ہوا اور حسب تعارف ومعنی مقصودومفہوم بین الناس اس مدت کے گزرنے تك انتہائے کفالت قرار پایا زید نے اس کفالت کے ضمن میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر مدیون اس مدت تك شہر سے بھاگ جائے تومیں مطالبہ مدعیہ کا ذمہ دارہوں،اب کہ مدت گزرگئی اور کفالت بالنفس ختم ہوچکی تو آیا وہ کفالت بالمال بھی جو اس کے ضمن میں ذکر کی تھی اس کے ختم سے منتہی ہوگئی یا وہ باقی رہے گی بینوا توجروا

الجواب:

ہاں صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس کے ختم ہوتے ہی کفالت بالمال بھی ختم ہوگئی کہ یہ اسی کی تاکید وتوثیق کے لئے اس کی تابع محض تھی جب اصل نہ رہی یہ بھی نہ رہی۔

کیف وان زوال الموقتۃ بمرورالوقت زوال من کل وجہ کالابراء فیعمل فی الاصل والفرع کیسے کفالت بالمال ختم نہ ہوگی حالانکہ وقت گزرنے کے سبب سے کفالت موقتہ کا زوال ہر لحاظ سے اس کا زوال ہوتاہے جیسے کہ بری کرنا لہذا وہ

 



[1]           ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۵

[2]           ردالمحتار کتاب الکفالۃ مطلب فی الکفالۃ الموقتۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن