30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دفعۃ بیچے خواہ متفرق یا اس سے قبل خواہ بعد،لان الملك مطلق للمتصرف مالم ینہ الشرع(کیونکہ ملك تو مطلق تصرف کے لئے ہوتا ہے جب تك شرع منع نہ کرے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
(۲)معمولی خرچ جوحسب عادت تجار مال پرڈالا جاتاہے اس کے ڈالے جانے میں تو شبہ نہیں رہا کچھ نقصان اس میں اگر عام عادت تجار مال پر ڈالنے کی ہے ڈالیں گے ورنہ نہیں،درمختارمیں ہے:
کل مایزید فی المبیع او فی قیمتہ یضم،درر،واعتمدا العینی وغیرہ عادۃ التجار بالضم ولایضم مایؤخذ فی الطریق من الظلم الا اذا جرت العادۃ بضمہ ھذا ھوا الاصل کما علمت فلیکن المعمول علیہ کما یفیدہ کلام الکمال [1] اھ(ملتقطا)،واللہ تعالٰی اعلم۔
جو چیز مبیع میں یا اس کی قیمت میں زیادہ ہو وہ ملائی جائے گی، درر،اور عینی وغیرہ نے تاجرو ں کے ملانے کی عادت پراعتماد کیا ہے،اور نہیں ملایاجائےگا اس کو جو راستے میں ظلم سے لیاجاتاہے مگر اس وقت ملایا جائے گا جب رواجب میں اس کے ملانے کی عادت ہویہی اصل ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے لہٰذا اسی پراعتماد ہونا چاہئے جیساکہ کمال کا کلام اس کا فائدہ دیتا ہے اھ(ملتقطا)والله تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۶: از لاہور مسجد سادھوا ں مرسلہ پیر جی عبدالغفار صاحب زید لطفہ ۲۵ صفر المظفر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو حقیقی اب وام بھائی ہیں،والدین کی حیات میں زید جو عمر میں بڑا ہے عمرو سے نسبتہ کم آمدنی رکھتاہے اور عمرو زید سےکثیرالاولاد ہے،لیکن دونوں بھائی جو کچھ کماتے ہیں والدین کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور والدین اپنے اختیار سے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں،ز ید وعمرو کے کل اخراجات کے ان کے والدین ہی کفیل ہیں اور زید وعمرو کے اہل وعیال کاخرچ سب ان کے ما ں باپ اٹھاتے ہیں،او ربچو ں کو جو کچھ وہ خرچ کے واسطے دیتے ہیں تو بالسویہ دیتے ہیں یعنی اگر ایك بچے کو پانچ روپے دیں تو سب بچو ں کو پانچ ہی پانچ دیتے ہیں،اور جوکوئی جائداد خرید کی جاتی ہے تو وہ بھی والدین کے اختیار سے،وہ جس کانام چاہیں درج کرادیں،علاوہ ازیں زید نے بوجہ اپنی ضعیفی اور دورادندیشی کے والدین سے روپیہ لے کر ایك جائداد خرید کی اور اپنے چھوٹے بھائی عمرو کے نام درج رجسٹر کرادی لیکن عمرو نے دوسرے وقت والدین سے روپیہ لے کر اور جائداد خرید کی،اس کی رجسٹری اپنے اور زید کے نام کرادی اور ان سب جائدادوں کی جو آمدنی ہوئی وہ بھی والدین کے قبض وتصرف میں آتی رہی، خلاصہ کلام یہ ہے کہ دونو ں بھائیو ں کی تمام وکمال آمدنی والدین کے قبض وتصرف میں رہی اور اس آمدنی سے جو کچھ جائداد خرید کی گئی بعض کی رجسٹری والدین کے نام ہے اور بعض کی زید وعمرو کے نام ہے اور بعض کی صرف عمرو کے نام ہے اور جملہ آمدنی نقد ہر دو کی اور جملہ آمدنی جائداد خرید کہ وہ والدین کے ہاتھ میں رہی،بعد انتقال پدر مرحوم کے چھ سال اور بعد وفات مادر مشفقہ کے دو سال تك دونو ں بھائی باتفاق حسب دستور زمانہ والدین خرچ کرتے رہے،اب بوجہ پیش آنے بعض امور نفسانی کے دونو ں بھائی انقسام جائداد ومنقولہ وغیرہ منقولہ کا چاہتے ہیں اور سوائے ان دوبھائیو ں کے اور کوئی وارث اور متخاصم نہیں ہےان کا آپس میں ازروئے شرع شریف کیا حصہ ہوگااور کے حصص پر کل جائداد کی تقسیم ہوگی؟ بینوا بالکتاب و توجروا من ملك الوھاب(کتاب الله سے بیان فرمائیں اور الله تعالٰی بہت زیادہ عطاکرنے والے بادشاہ سے اجرپائیں۔ت)
الجواب:
یہ مسئلہ بہت طویل الاذیا ں کثر الاشکال معرض الاشکال ہے ہم بتوفیقہ تعالٰی اسے ایسے طورپر بیان کریں کہ تمام اشکال کا جامع او رہر اشکال کا رافع ہو وبالله التوفقی اس کے لئے دو بیان لکھیں :
بیان اول:اس کی تحقیق کہ جو جائدادیں زیدیاعمرو یا ان کے والدین نے خریدیں اور ان کے نام ہوئیں ان میں کون سی بیع شرعا کس کے لئے واقع ہوئی۔اقول:(میں کہتاہو ں۔ت)خریداری تین طرح ہوتی ہے:
اول: بائع وطالب شرا میں زبانی گفتگو صرف فیصلہ قیمت وتصفیہ ودیگر زوائد کی ہوکر بیعنامہ لکھا جاتاہے اس سے پہلے ایجاب وقبول اشتریت فروختم خریدم یعنی بر کہے میں نے بیچی وہ کہے میں نے خریدی اصلا درمیان میں نہیں آتا بہت ہوتاہے تویہ کہ کتنے کو دو گے اس نے کہا اتنے کو یاا س نے کہا یہ چیزیں تمھارے یہا ں بکاؤ ہے کہا ہے،کہا کیا قیمت ہے،کہا یہ،یامیں فلا ں چیز مول لینا چاہتا ہو ں،کہا بہتر،کہا یہ دوں گا،کہا اچھا تو کاغذ کر دو،یا اس نے کہا یہ چیز بکتی ہے تمہیں خریدنا ہو تو خریدلو،کہا لیتا ہوں،کہا تو اتنا دینا ہوگا،کہا دو ں گا بیعنامہ لکھ دو،یہ الفاظ اور ان کے امثال ایجاب وقبول نہیں یا قرارداد ہوکر بیعنامہ دے دیا جاتاہے وہ بھی ایجاب وقبول نہیں بلکہ اس اقرار کی توثیق کی شرا سے باز نہ رہے ورنہ جاہل اسے ضبط کرلیتے ہیں اور یہ حرام ہے حدیث میں اس سے نہی فرمائی۔
مالك واحمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع العُربان [2]۔
امام مالک،احمد،ابوداؤداور ابن ماجہ نے عبدالله ابن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت کیا کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الایجاب والقبول عبارۃ عن کل لفظین ینبئان عن معنی التملك والتملیك ماضیین اوحالین اواحدہما ماض والاخرحال [3]۔
ایجاب وقبول ایسے دولفظو ں کانام ہے جو تملك و تملیك کے معنی کی خبر دیتے ہیں چاہے دونو ں ماضی ہو ں یا دونوں حال ہو ں یا ایك ماضی اور ایك حال ہو۔(ت)
فتاوٰی امام بزازی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
[1] درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مبطع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵
[2] سنن ابوداؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۹۔۱۳۸،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب بیع العربان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۹،مسند احمد بن حنبل از مسند عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما دارالفکر بیروت ۲/ ۱۸۳
[3] درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۔۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع