30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اس کے قول کو تقابض (دو طرفہ قبضہ)پر محمول کیا جائے اور اس سے ایك پیسے کی دو پیسوں کے عوض بیع میں تقابض کا شرط ہونا اخذ کیا جائے تو پھر ایك کھجور کی دو کے عوض،ایك انڈے کی دو کے عوض اور ایك اخروٹ کی دو کے عوض بیع میں بھی تقابض شرط ہوگا کیونکہ ان تمام مسائل کا سیاق ایك ہی ہے(لہذا حکم بھی ایك ہوگا)حالانکہ ہمارے ائمہ کرام اس کے قائل نہیں ہیں لہذا
علی اشتراط التعین وکان قولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ باعیانہا تفسیر القولہ یدا بید و الا لکان حشوا مستغنی عنہ فان التقابض فیہ التعیین مع شیئ زائد فذکرہ بعدہ خال عن الفوائد ولذا لما نقل الامام صاحب الہدایۃ ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیر اسقط عنہا تلك الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال (ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ[1]) یجوز بیع البیضۃ بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین و الجوزۃ بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانہما[2] انتہی، فلیس فی الجامع ان شاء اللہ تعالٰی دلیل علی ماذکر ھٰؤلاء الاعلام وان کان فمع احتمال الغیر احتمالا بینا لایراد ولایرام بخلاف عبارۃ الاصل اعنی المبسوط فانہا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما ستری ان شاء اللہ تعالٰی فعلیہ فلیکن التعویل واللہ تعالٰی ولی التوفیق ہذا ما سنح للعبد القاصر
اس کو اشتراط تعیین پر محمول کرنا واجب ہے اور امام صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا قول"باعیانہا"ان کے قول"یدا بید" کی تفسیر ہوگا ورنہ یہ قول لغوا ور بلاضرورت ہوگا کیونکہ تقابض میں تعیین کچھ اضافے سمیت موجود ہے توپھر اس (تعیین)کو تقابض کے بعد ذکر کرنا فائدہ سے خالی ہوگا،یہی وجہ ہے کہ جب امام صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ کو جامع صغیر سے نقل کیا تو اس میں سے یہ کلمہ(یدابید)ساقط کرکے فقط عینیت کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یعنی امام محمدرحمۃ الله تعالٰی علیہ(بنایہ علامہ عینی)نے فرمایا کہ جائز ہے بیع ایك انڈے کی دو انڈوں کے عوض اور ایك کھجور،کی دو کجھوروں کے عوض اورایك اخروٹ کی دو اخروٹوں کے عوض اورایك معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوض،انتہی، چنانچہ جامع صغیر میں تو ان شاء الله اس پر کوئی دلیل نہ ہوگی جوان بزرگوں نے فرمایا اور اگر ہو بھی تب بھی غیر کا احتمال بین ہوتے ہوئے اس کا ارادہ نہیں کیاجائے گا، بخلاف اصل یعنی مبسوط کی عبارت کے کہ وہ تقابض کے شرط نہ ہونے پر نص ہے جیسا کہ عنقریب ان شاء الله تعالٰی تو دیکھے گا چنانچہ اسی پر اعتماد کرنا چاہئے اور الله تعالٰی ہی مالك توفیق ہے یہ وہ ہے جو اس قاصر بندے
فتاملہ فان وجدتہ حقا فعلیك بہ والافارم بہ الجدار۔
پر منکشف ہوا اس میں غور کر اگرتو اس کو حق پائے تو عمل کرنا تجھ پر لازم ہے ورنہ اس کودیوار پر دے مار۔(ت)
بالجملہ مذہب راجح پر بیع الفلوس بالدراہم والدنانیر میں ایك ہی جانب کا قبضہ کافی،پس صورت مستفسرہ میں بیع بلا تردد صحیح اور صراف پر مشتری کے لئے باقی پیسے لازم،
فی المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ [3] کذا فی الہندیۃ و فیہا عن الحاوی وغیرہ لواشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و لم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا و لوقبض خمسین فلسا فکسدت بطل البیع فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس [4] اھ ملتقطا، وفی التنویر وشرحہ باع فلوسا بمثلہا او بدراہم او بدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلا قبض احدہما لم یجز[5] اھ ومسئلۃ المقام یستدعی اکثر من ھذا وفیما ذکرنا کفایۃ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مبسوط میں ہے کہ جب کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے اور ثمن نقدا ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تو بیع جائز ہے اھ ہندیہ میں یونہی ہے،اسی میں حاوی وغیرہ سے منقول ہے اگرکسی نے ایك درہم کے عوض سو پیسے خریدے،بائع نے درہم پر قبضہ کرلیا مگر مشتری نے ابھی پیسوں پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو قیاس کی رو سے بیع باطل نہیں ہوئی اوراگر پچاس پیسوں پر قبضہ کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع باطل ہوگئی اگر وہ کھوٹے نہ ہوتے بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری باقی پیسے لینے کا حقدار ہوتا اھ تلخیص، تنویر اور اس کی شرح میں ہے کہ کسی نے پیسوں کو ان کی مثل کے عوض یا درہموں کے عوض یا دیناروں کے عوض بیچا پس اگر دونوں میں سے ایك نے نقد ادائیگی کردی توبیع جائز ہے اور اگر دونوں قبضہ کئے بغیر متفرق ہوگئے تو ناجائز ہے اھ اس مقام کا مسئلہ اس سے زیادہ تفصیل کا تقاضا کرتاہے اورجو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں کفایت ہے اور الله تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۸: از دھوراجی ملك کاٹھیا وار کوچہ کھٹچرا سٹریٹ مسئولہ عبدالکریم ابن قاسم ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ
بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم مجدد مائۃ حاضرہ،تکلیف دینے کا باعث یہ ہے کہ جو رسالہ کفل الفقیہ آپ کی جانب سے شائع ہوا ہے اس میں بعض لوگوں کو شك ہے کہ یہ رسالہ مولاناصاحب کے نام سے کسی دوسرے نے چھپواکر شائع کردئے ہیں اس بات کا بہت چرچا ہورہا ہے کہ نوٹ کو مال قرار دیا ہے وہ کس طرح سے ہوسکتاہے،ہمارا اعتماد آپ کے اوپر ہے،مطلب ہمارا یہ ہے کہ اگر حضور کی جانب سے کفل الفقیہ شائع ہوا ہو تو آپ اپنے دست مبارك سے ہم کو جواب دیں تاکہ ان پر عمل کریں اورشك دورہوجائے اور جب تك آپ کی طرف سے جوا ب نہیں آئے گا وہاں تك لوگوں کو بحث بھی رہے گی اور ہم لوگوں کے دل پر شك رہے گا توآپ برائے خدا جلد جواب تحریر کریں۔
الجواب:
رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فقیر ہی کی تصنیف ہے مکہ معظمہ میں وہاں کے ایك عالم جدہ نے فقیر سے اس کا سوال کیا اور فقیر نے وہیں تصنیف کیا اور متعدد علمائے کرام مکہ مکرمہ نے اس کی نقلیں لیں پھر بعد واپسی فقیر نے اسے طبع کرایا پھر حاجی عیسیٰ خاں محمد صاحب نے مع ترجمہ چھپوایا،مدینہ طیبہ میں مصر کے دو جلیل عالموں مدرسین جامع ازہر نے اسے دیکھا اور فرمائش کی کہ اس کے نسخے ہم کو ضرور بھیج دو،ان کو بھیج دئے گئے،نوٹ کا مال ہونا اس رسالہ میں دلائل ساطعہ سے روشن کردیاہے۔
و الله تعالیٰ اعلم۔
[1] البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع باب الربٰو المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۳ /۱۵۴
[2] الہدایہ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
[3] المبسوط للسرخسی کتاب البیوع باب البیع بالفلوس دارالمعرفۃ بیروت الجزء الرابع عشرص۲۴،فتاوی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۲۵
[4] فتاوی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۵
[5] درمختار کتاب البیوع با ب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع