30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر اس قدر میں شك نہیں کہ جب تاعین رواج ان کے لئے حکم اثمان ہے تو احدالجانبین میں قبض بالید ہونا ضروری ہے۔
والالکان افتراقا عن دین بدین و قد نہی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع الکائی بالکائی [1]۔
ورنہ یہ دین کے بدلے دین سے افتراق ہوگا حالانکہ رسول اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔(ت)
اختلاف اسی میں ہے کہ آیا یہ قبضہ جانبین سے مشروط یا ایك ہی جانب میں کافی جس نے اصل خلقت پر نظر کی کہا صرف نہیں پھر تقابض کی کیا حاجت۔
وھم الاکثرون وعلیہ نص محمد فی المبسوط و اعتمدہ فی المحیط والحاوی والبزازیۃ والبحر الرائق والنہر الفائق وفتاوی الحانوتی وتنویر الابصار و الدر المختار والفتاوی الہندیۃ وغیرہا من متون المذھب وشروحہ و فتاوٰہ وھو مفاد کلام الامام الاسبیجابی کما نقلہ الشامی عن الزین عن الامام
اور وہ اکثر ہیں اسی پر امام محمد نے مبسوط میں نص فرمائی اور اسی پر اعتماد کیا گیا ہے محیط،حاوی،بزازیہ،البحرالرائق،النہر الفائق،فتاوٰی
حانوتی،تنویر الابصار،درمختار اور فتاوٰی ہندیہ وغیرہ مذہب کے متون،شروح اور فتاوٰی میں،اور یہی مفا دہے امام اسبیجابی کے کلام کا جیساکہ اس کو شامی نے بحوالہ زین امام اعظم سے نقل کیا ہے۔(ت)
اور جس نے ثمنیت مصطلحہ پر لحاظ کیا تقابض شرط ٹھہرایا۔
کما افتی بہ العلامۃ قاری الہدایۃ واولہ الفاضل عمر بن نجیم بما یخرجہ عن الخلاف ونازعہ المحقق الشامی قائلا انہ محمول علی مادل علیہ کلام الامام محمد فی الجامع الصغیر من اشتراط التقابض من الجانبین وکل ذٰلك مشرح فی ردالمحتار[2]
جیسا کہ اس پر فتوٰی دیا علامہ قاری الہدایہ نے اور فاضل عمر بن نجیم نے اس کی ایسی تاویل کی جو اس کو خلاف سے نکالتی ہے اور محقق شامی نے یہ کہتے ہوئے اس کے ساتھ منازعت کی کہ اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا جس پر جامع صغیر میں امام محمد کاکلام دلالت کرتاہے یعنی دونوں جانبوں سے تقابض شرط ہے اور اس تمام کی تفصیل ردالمحتار
وغیرہ من الاسفار،قال العبد الضعیف غفراللہ تعالٰی لہ وما جنح الیہ الفاضل الشامی سیدی محمد بن امین الدین اٰفندی ابن عابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ من دلالۃ کلام الجامع الصغیر علی ذٰلك الاشتراط فقد تبع فیہ صاحب البحر والعلامۃ زین الدین عول علی ماوقع فی الذخیرۃکما ھو ایضا مذکور فی الحاشیۃ الشامیۃ ولکن لی فیہ تأمل بعد فانی راجعت الجامع فوجدت نصہ ھکذا محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم رجل باع رطلین من شحم البطن برطل من الیۃ اوباع رطلین من لحم برطل من شحم البطن اوبیضۃ ببیضتین اوجوزۃ بجوزتین اوفلسا بفلسین اوتمرۃ بتمرتین یدابید باعیانہا یجوز وھو قول ابی یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وقال محمد رحمۃ اللہ علیہ لایجوز فلس بفلسین ویجوز تمرۃ بتمرتین [3] انتہی کلامہ الشریف نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتہ فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین۔
وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہے،یہ عبدضعیف(الله تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے)کہتاہے کہ جس معنی کی طرف علامہ سید محمد امین الدین آفندی ابن عابدین شامی رحمۃ الله تعالی مائل ہوئے اس میں انہوں نے صاحب البحر کی پیروی کی اور علامہ زین الدین نے اس پر اعتماد کیا جو ذخیرہ میں واقع ہوا جیساکہ حاشیہ شامیہ میں بھی مذکور ہے لیکن ابھی تك مجھے اس میں تأمل ہے بیشك میں نے جامع صغیر کی طرف رجوع کیا تو اس کی نص کو یوں پایا کہ محمد نے یعقوب سے اور اس نے ابوحنیفہ سے روایت کیا(رضی الله تعالٰی عنہم)کہ ایك شخص نے دورطل پیٹ کی چربی ایك رطل الیہ کی چربی کے عوض یا دو رطل گوشت ایك رطل پیٹ کی چربی کے عوض بیچا یا ایك انڈہ دوانڈوں کے عوض یا ایك اخروٹ دواخروٹوں کے عوض یا ایك پیسہ دوپیسوں کے عوض یا ایك چھوہارا دو چھوہاروں کے عوض فروخت کیا اس طور پر کہ ان تمام چیزوں کا لین دین ہاتھوں ہاتھ ہوا اور یہ تمام چیزیں معین تھیں تو یہ بیع ہے اور یہی قول امام ابویوسف رحمۃالله تعالٰی علیہ کا،او رامام محمد رحمۃالله تعالٰی نے فرمایا کہ ایك پیسے کی بیع دو پیسوں کے عوض ناجائز اور ایك چھوہارے کی بیع دو چھوہاروں کے عوض جائز ہے،امام صاحب کا کلام شریف ختم ہوا،الله تعالٰی ہمیں دنیاوآخرت
فمحمل الاستباط انما ھوقولہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یدا بید ولکن قددری من مارس الفقہ ان ھذا اللفظ لیس نصاصریحا فی التقابض بالبراجم الاتری علمائنا رحمہم اللہ تعالٰی فسروہ فی الحدیث معروف بالعینیۃ کما قال فی الہدایۃ ومعنی قولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام یدابید عینابعین کذا رواہ عبادۃ بن الصامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ [4] انتہی کیف وقد قال اصحابنا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ان التقابض انما یشترط فی الصرف واما ماسواہ ممایجری فیہ الربٰوا فانما یعتبر فیہ التعین فان حمل قول ھذا فی العبارۃ التی ذکر نا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذٰلك فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین و بیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین فان المسائل کلہا مسوقۃ بسیاق واحد وہذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ
میں اس کی برکات سے نفع عطا فرمائے آمین،تومحل استدلال امام صاحب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا قول"یدابید"(ہاتھ ہاتھ) ہے لیکن فقہی مہارت والاجانتاہے کہ بیشك یہ لفظ انگلیوں کے پوروں کے ساتھ قبضہ کرنے میں نص صریح نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہمارے علمائے کرام رحمہم الله تعالٰی نے حدیث معروف میں اس کی تفسیر عینیت کے ساتھ فرمائی ہے جیسا کہ ہدایہ میں کہا کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قول "یدابید""عینا بعین"ہے،یونہی روایت فرمایا ہے اس کو حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے،انتہی،اور یہ کیسے ہوسکتاہے حالانکہ ائمہ رضی الله تعالٰی عنہم نے فرمایا ہے کہ بے شك باہمی قبضہ تو فقط بیع صرف میں شرط ہے اس کے علاوہ جس میں ربا جاری ہوتاہے وہاں فقط تعیین معتبر ہے، اگر ہمای ذکر کردہ عبارت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع