دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اور ردالمحتارمیں ایك معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوض بیع کے مسئلہ کے ضمن میں بحوالہ بحر ذخیرہ سے منقول ہے کہ بیشك امام محمد نے اس کو اصل کے باب الصرف میں ذکر کیا اور تقابض کو شرط قرار نہیں دیا،اور معتمد مشائخ نے اس کی تعلیل یوں بیان کی تعیین کے ساتھ تقابض تو صرف میں شرط ہے حالانکہ یہ صرف نہیں،جیسا کہ اس میں امام ابوحنیفہ، صاحبین اور ان تمام سے منقول ہے قلت(میں کہتاہوں) بے شك ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے فتاوٰی"العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ"میں اس اندازسے کردی ہے جس پر واقفیت حاصل کرنا متعین ہے کیونکہ بحمدالله یہ ان کے لئے بہت عمدہ ہے،امام ابن عابدین نے کہا کہ حانوتی سے سونے کی پیسوں کے عوض ادھار بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جائز ہے بشرطیکہ بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرلیا گیا ہو اس دلیل کی وجہ سے جو بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی نے سو پیسے ایك درہم کے عوض خریدے تو صرف ایك طرف سے قبضہ کافی ہے اور فرمایا کہ اگر کسی نے پیسوں کے عوض سونا یا چاندی بیچا تو اس کاحکم بھی ایسا ہی ہے بحر میں محیط کے حوالے سے یونہی منقول ہے۔ الخ(ت)

پھر لیتے وقت یہ ضرور نہ ہوگا کہ خاص پیسے یانوٹ ہی لیں بلکہ برضائے مشتری ان پیسوں یا نوٹوں کے روپے بھی لے سکتے ہیں،

فانہ بیع عین بدین کان علیہ فیجوز برضاہ وقد علمت انہ لیس بصرف ولا سلم قال فی الدرالمختار لوباع ابلا بدراہم اوبکُرّبرجاز اخذ بدلہما شیئا اٰخروکذا الحکم فی کل دین قبل قبضہ کمہرواجرۃ و ضمان متلف وبدل خلع وعتق بمال وموروث و موصی بہ والحاصل جواز التصرف فی الاثمان و الدیون کلہا قبل قبضہما عینی سوی صرف وسلم فلا یجوز اخذ خلاف جنسہ لفوات شرطہ [1]ھ۔

کیونکہ عین کی اس دین کے بدلے میں بیع ہے جو بائع پرہے تو اس کی رضامندی سے جائز ہے حالانکہ تو جان چکا ہے کہ یہ صرف اورسلم نہیں ہے،درمختار میں کہا گیا کہ اگر کسی نے درہموں کے بدلے یا ایك بوری گندم کے بدلے اونٹ بیچا تو ان دونوں کے بدلے کوئی اور شے بھی لے سکتاہے اور یہی حکم ہے قبضہ سے پہلے دین کا،جیسے مہر،اجرت،ضائع شدہ شیئ کا تاوان،خلع کا بدل،مال کے بدلے آزاد کرنا،مال مورث اور وہ مال جس کی وصیت کی گئی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام ثمنوں اور دینوں میں قبضہ سے پہلے تصرف جائز ہے(عینی)سوائے صرف اور سلم کے کہ ان میں خلاف جنس ثمن لینا ناجائز ہے بسبب فوت ہوجانے اس کی شرط کے اھ(ت)

ہاں یہ ضرور ہے کہ جس مجلس میں ان کے عوض روپیہ دینا ٹھہرے اسی مجلس میں تمام وکمال روپیہ اد ا کردیا جائے ورنہ یہ معاوضہ یعنی پیسوں یانوٹوں کے بدلے جوروپیہ دینا قرار پایا ہے ناجائز ہوجائیگا۔

للافتراق عن الکائی بالکائی فی ردالمحتار قولہ جاز اخذ بدلہما شیئا اٰخر لکن بشرط ان لایکون افتراقا بدین کما یاتی فی القرض [2]اھ(وقال فی قرض الدر)جاز شراء المستقرض القرض ولوقائما من المقرض بدراہم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضہا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ [3]فلیحفظ۔

دین کے بدلے دین کی بیع سے جدا ہونے کی وجہ سے ردالمحتارمیں ہے کہ مصنف کا قول کہ ان دونوں کے بدلے کوئی شے لینا جائز ہے مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ دین کے ساتھ بائع اور مشتری میں جدائی نہ ہو جیسا کہ قرض کے باب میں آرہا ہے اھ اور در کے باب القرض میں فرمایا مستقرض کے لئے جائز ہے کہ قرض دہندہ سے درہم مقبوضہ کے عوض قرض کو خریدے اگر قائم ہو پھر اگر وہ دونوں ان دراہم مذکورہ پر قبضہ سے پہلے متفرق ہوگئے تو خریداری باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ قرض سے افتراق ہے(بزایہ)اس کو

 محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)

تو دیکھئے صورت بعینہا وہی رہی جو ان بائعوں میں جاری ہے صرف ایك لفظ کے تغیر میں حرمت سے حلت ہوگئی اس مسئلہ کو خوب شائع کرنا چاہئے کہ اہل اسلام جو بلاوجہ گناہ میں مبتلا ہیں معصیت سے نجات پائیں،وبالله التوفیق۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۶۷: از بجنور درحدود ۱۳۰۰ھ مرسلہ مولوی غلام مصطفی صاحب تلمیذ حضرت والاعلام قدس سرہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع فلوس رائجہ کی جو حکم ثمن میں ہیں بمقابلہ روپیہ کے بیع صرف ہے یانہیں؟ اور اگر صراف کو روپیہ دیا اس کے پاس کل روپیہ کے پیسے نہ تھے موجود دئے باقی کا وعدہ کردیا تو یہ بیع جائز ہوگی یانہیں؟ اور جبکہ یہ بیع صرف بسبب صدق تعریف کے کہ بیع الثمن بالثمن ہے قرار دی جائے گی تو اس میں شرائط بیع صرف کے کہ متحد الجنسین میں تماثل اور تقابض اور مختلف الجنسین میں تقابض ہے درصورت جواز کے پائے جائیں گے یانہیں؟ بینواتوجروا

الجواب:

بیع الفلوس بالدارہم صرف نہیں نہ اس میں سب احکام صرف جاری۔

فان الصرف بیع ماخلق الثمنیۃ بماخلق لہا کما فسرہ بذٰلك فی البحر وتبعہ فی الدرالمختار [4] واقرہ الشامی وغیرہ و معلوم ان الفلوس لیست کذا وانما عرض لہاحکم الاثمان بالاصطلاح مادامت رائجۃ والافہی عروض کما فی اصل خلقتہا وبعدم کونہ صرفا صرح العلامۃ الشامی عن البحر وصاحب البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربٰو من رد المحتار [5]۔

کیونکہ صرف تو خلقی ثمن کو خلقی ثمن کے عوض بیچنے کا نام ہے جیسا کہ اس کی تفسیر بیان کی بحر نے اور درمختار میں اس کی اتباع ہے اور شامی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا اور یہ بات معلوم ہے کہ پیسے ثمن خلقی نہیں انہیں تو جب تك وہ رائج ہیں اصطلاح میں ثمنوں کاحکم عارض ہے ورنہ تویہ سامان ہیں جیسا کہ اصل خلقت میں تھے اور اسکے بیع صرف نہ ہونے کی تصریح علامہ شامی نے ردالمحتار کے باب الربٰو میں بحر کے حوالہ سے کی اور صاحب بحر نے بحوالہ ذخیرہ عن مشائخ نقل کیا۔(ت)

 



[1]          درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۸۔ ۳۷

[2]          ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۶۶

[3]          درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۹۔ ۴۰

[4]          بحرالرائق کتاب الصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۹۲،درمختار کتا ب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵

[5]          ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن