دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

فان حٍ تمویہ والتمویہ لاعبرۃ بہ لانہ مستہلك کما صرحوا بہ قاطبۃ وفی کافی الامام الحاکم الشہید اذا اشتری لجاما مموہا بفضۃ بدراہم اقل مما فیہ او اکثر فہو جائز لان التمویہ کیونکہ اس صورت میں یہ سونے کا پانی چڑھانا ہے اوراس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ ہلاك ہونے والی چیز ہے جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے امام حاکم شہید کی کافی میں مذکور ہے اگر کسی نے ایسا لگام خریدا جس پر چاندی کا پانی چڑھا یا گیا تھا کچھ درہموں کے بدلے میں جو اس چاندی سے کم

لایخلص الا تری انہ اذا اشتری الدار المموہۃ بالذہب بثمن مؤجل یجوز ذٰلك وان کان مافی سقوفہا من التمویۃ بالذھب اکثر من الذھب فی الثمن [1]۔ہوں جس کا پانی لگام پر چڑھا یا گیا یا اس سے زیادہ ہوں تو یہ بیع جائز ہے کیونکہ پانی چڑھانے میں مستعمل چاندی لگام سے الگ نہیں ہوسکتی۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی ثمن مؤجل کے بدلے ایسا مکان خریدے جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیاہے تو یہ بیع جائز ہوگی اگرچہ پانی چڑھانے میں مستعمل سونا ثمن کے سونے سے زیادہ ہو اھ۔(ت)

مگر چاندی کا خود عین مستقل طو ر پر اس میں قطعا موجود کہ وہ چاندی اور ریشم یا سوت کے تار ہیں ایك دوسرے پر بٹے ہوئے تو اس کی بیع غایت یہ کہ چاندی اور اس کے ساتھ ایك اور چیز کی بیع ہوئی یہ اسے حکم صرف سے خارج نہ کرے گا جبکہ دوسری جانب بھی ثمن خلقی یعنی سونا یاچاندی یا روپیہ یا اشرفی ہو پس صورت اتحاد جنس کہ روپیہ یاچاندی کے عوض کلابتوں بیچیں تماثل وتقابض دونوں اور بحالت اختلاف کہ سونے یا اشرفی سے مبادلہ کریں صرف تقابض بدلین بلاشبہہ لازم ہوگا تماثل یہاں یوں کہ ثمن کی طرف چاندی ان تاروں کی چاندی سے جو کلابتوں میں ہیں وزن میں زیادہ ہوتاکہ اس میں سے ان کے مقابل اورباقی اس دوسری چیز ریشم یاسوت کے مقابل ہوجائے اگر ثمن کی طرف چاندی اس کلابتوں کی چاندی سے وزن میں کم یا برابر ہے یا کمی بیشی معلوم نہیں تو بیع حرام وباطل ہے،اور تقابض یوں کہ اس مجلس میں خریدنے والا کلابتوں اور بیچنے والا اس کی قیمت پر قبضہ کرلے اگر کسی طرف سے ایك لمحہ کے لئے بھی ادھار ہو تو بیع باطل و حرام ہے درمختار میں ہے:

الاصل انہ متی بیع نقد مع غیرہ کمفضض ومزرکش بنقد من جنسہ شرط زیادۃ الثمن فلو مثلہ اواقل اوجہل بطل ولو بغیر جنسہ شرط التقابض [2] فقط۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب نقد کوغیر کے ساتھ ملاکر بیچا جائے جیسے مفضض اور مزر کش(جن چیزوں پر سونے یا چاندی کے پتر چڑھائے گئے ہوں تو اگر نقد مبیع کے ہم جنس نقد کے بدلے بیچا جائے تو ثمن کا زیادہ ہونا شرط ہے اگر برابر ہو یا ثمن اس سے کم ہو یا کمی بیشی مجہول ہو توبیع باطل ہے اور اگر غیر جنس کے نقد کے بدلے میں بیچا جائے تو فقط تقابض(دو طرفہ قبضہ) شرط ہے۔(ت)

احکام الہیہ جل وعلا کے اتباع وامتثال سے ہر گز باب رزق مسدود نہیں ہوسکتا جبکہ وہ رب کریم رؤف رحیم احکام نفس وشیطان کی پیروی اپنی شدید شنیع نافرمانی پر دروازہ رزق بند نہیں کرتا ع

گناہ بیند وناں برقرار میدارد

(وہ گناہ دیکھتاہے اور اس کے باوجود روزی برقرار رکھتاہے۔ ت)

تو اپنے احکام کریمہ کے اتباع پر کیوں بند فرمائے گا مگر ہمارے مسلمان بھائیوں کی حالت سخت قابل افسوس ہے جو شخص جس کام میں ہاتھ ڈالے اس پر فرض عین ہے کہ اس کے متعلق جو احکام شرع ہیں انہیں سیکھ لے تاکہ معصیت الہی میں نہ پڑے ہمارے بھائیوں نے یہ مسئلہ دنیاوی قانونی میں جاری کیا اور قانون ربانی میں چھوڑدیا اگر کوئی مقدمہ دو روپے کا دائر کریں گے پانچ وکیلوں سے پوچھیں گے کہ اس میں کوئی خامی نہ رہ جائے کسی طرح قانون انگریزی کی مخالفت نہ آئے کہ مقدمہ ہاتھ سے جائے مگر کسی دینی کام میں علماء سے دریافت کرنے کی اصلا حاجت نہیں کہ یہ کیونکر حلال ہے کس طرح حرام کس صورت میں صحیح،کس طورپر فاسد،تو وجہ کیا کہ دو روپے استغفرالله بلکہ دو۲ پیسے کا نقصان گراں گزرتا ہے دین کی پرواہ کیاہے،یہاں بھی اپنی ناواقفی سے یہ گناہ عظیم سر پر لیا ہے،اگر علم رکھیں یا علماء سے پوچھیں تویہ کارخانہ بدستور یوں ہی جاری رہے اور خالص حلال وطیب ہو فقط اتنا کریں کہ قیمت میں سونے چاندی،روپیہ،اشرفی،اٹھنی،چونی،دونی نہ کہیں بلکہ جتنے روپوں کو بیچنا ہو اتنے کے پیسوں یا نوٹ کانام لیں مثلا سو روپیہ کا کلابتوں بیچنا ہے تو یوں کہے کہ میں نے یہ کلابتوں تیرے ہاتھ ایك ہزار چھ سوآنے فلوس رائحۃ الوقت کو بیچا یا بعوض نوٹ احاطہ فلاں رقمی صد روپیہ کے بیع کیا اب نہ اتحاد جنس ہے کہ تماثل شرط ہو،ظاہر ہے کہ کلابتوں میں چاندی ہے اور یہاں پیسے یا کاغذ نہ یہ بیع صرف ہے کہ قرضوں مطلقًا حرام ہوتا،بنائے کاغذ اصل آفرینش میں ثمن نہیں اور صرف وہی کہ ثمن خلقی ثمن خلقی سے بیع کی جائے،یہ صرف سونا یا چاندی ہے وبس،ہاں ازانجا کہ فلوس ونوٹ اصطلا حا ثمن ہیں ایك جانب سے قبضہ ضرور ہے کیلا یلزم الافتراق عن دین بدین(تاکہ دین کے بدلے میں دین سے جدا ہونا لازم نہ آئے۔ ت)لہذا اگر روپیہ کے پیسے خریدے روپیہ دے دیا اور پیسے پھر دئے جائیں گے تو مذہب راجح ومعتمد میں کچھ مضائقہ نہیں بعینہٖ یہی حال کلابتوں اور پیسوں یانوٹ کی ہے کہ صرف ایك طرف سے قبضہ ہوجانا کافی اگرچہ دوسری جانب قرض ہو،درمختار میں ہے:

الصرف شرعا بیع الثمن بالثمن ای ماخلق للثمنیہ [3] اھ ملخصًا

صرف اصطلاح شرع میں ثمن کے بدلے ثمن کی بیع ہے یعنی جسے ثمنیت کےلئے پیدا کیا گیا اھ تلخیص۔

وفی رد المحتار عن البحر عن الذخیرۃ فی مسألۃ بیع فلس بفلسین باعیانہما ان محمداذکر ھا صرف الاصل ولم یشترط التقابض(وعلله من اعتمد من المشائخ)بان التقابض مع التعیین شرط فی الصرف و لیس بہ [4] کما فیہ عنہ عنہما عنہم قلت وقد حققنا المسألۃ بتوفیق اللہ تعالٰی فی فتاوٰنا العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ بمایتعین الوقوف علیہ فانہ بحمدہ تعالٰی نفیس لہم قال ابن عابدین سئل الحانوتی عن بیع الذھب بالفلوس نسیئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین لما فی البزازیۃ لواشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال ومثلہ مالو باع فضۃ اوذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط [5] الخ۔

 



[1]          ردالمحتار بحوالہ کافی الحاکم کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۳۷

[2]          درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵

[3]          درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵

[4]          ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴

[5]          ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن