30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاول جاز عندہ خلافا لہما لان تصرف الوکیل عندہ یقع لنفسہ [1] الخ اقول:وبالجملۃ النقل فی المسألۃ فاش مستفیض فما وقع فی ردالمحتار لواشتروا بالوکالۃ عن البائع لایجوز لوکانوا اجانب عنہ کما فی قول المصنف اوبوکیلہ [2] اھ سہو عظیم یجب التجنب عنہ ومنشأہ ان المصنف قال فسد شراء ماباع بنفسہ اوبوکیلہ [3] الخ والظرف کان متلعقا بباع وحدہ وتوھم العلامۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی تعلقہ بکلا لفظی الشراء وباع علی سبیل التنازع حیث قال قولہ بنفسہ اووکیلہ تنازع فیہ کل من شراء وباع الخ [4]، ثم نقل من البحر کلاما لایوھم مابتخیلہ اصلا انما فیہ منع شراء البائع
امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیك جائز ہے بخلاف صاحبین کے کیونکہ امام صاحب کے نزدیك وکیل کا تصرف اپنی ذات کے لئے واقع ہوتاہے اھ۔میں کہتاہوں خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں نقل عام تواتر کے ساتھ ہے اور جو ردالمحتار میں واقع ہوا ہے کہ اگر بائع کے وکیل ہوکر انہوں نے خریدا تو ناجائز ہے اگرچہ وہ بائع سے اجنبی ہوں _____ جیسا کہ مصنف کے قول"اوبوکیلہٖ"میں ہے اھ یہ بہت بڑا سہو ہے جس سے بچنا واجب ہے،اس سہو کا منشا یہ ہے کہ مصنف نے کہا اس چیز کو خریدنا فاسد ہے جس کو بائع نے بذات خود بیچا یا اس کے وکیل نے بیچا الخ اس عبارت میں ظرف(جارمجرور)صرف"باع"سے متعلق تھا جبکہ علامہ شامی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے وہم کیا کہ یہ بطور تنازع"باع" اور "شراء"دونوں لفظوں سے متعلق ہے اسی لئے علامہ نے فرمایا کہ شراء اور باع میں سے ہر ایك نے مصنف کے قول "بنفسہٖ او وکیلہٖ"میں تنازع کیا الخ اس کے بعد علامہ شامی نے بحر سے ایسا کلام نقل فرمایا جو علامہ شامی کے تخیل کاوہم تك نہیں رکھتا کیونکہ اس میں تو بائع
سواء باع لنفسہ اولغیرہ ومن باع لہ وکیلہ وسواء کان شراء لنفسہ اولغیرہ اماالذی لم یبع ولا بیع لہ فلا تعرض فیہ لمنعہ من الشراء اصلا سواء شری لنفسہ او لغیرہ کوکیل البائع بالشراء اما مافی مختصرا لکرخی فی صدرالکلام المذکور لایجواز ان یشتری ذٰلك وکیل البائع فی قولہم جمیعا [5] (ملخصا) فمعناہ وکیلہ بالبیع کما قدمناہ عن التبیین وفیہ لو وکل رجلا ببیع غیرہ فباع ثم اراد الوکیل ان یشتری باقل لنفسہ اولغیرہ بامرہ لم یجز [6] اھ(ملخصا) ومثلہ فی الہندیۃ عن المحیط نعم وکیل البائع فی کلام الفتح المذکور بمعنی وکیلہ بالشراء فتثبت ولا تزل وباللہ التوفیق واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کی خریداری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے چاہے بائع نے بذات خود بیچا ہو یا اس کے وکیل نے اور چاہے اپنے لئے خریداری کرے یا غیر کے لئے لیکن وہ شخص جس نے نہ تو خود بیچا نہ ہی اس کے لئے اس چیز کو بیچا گیا اس کی خریداری کی ممانعت سے اس عبارت میں بالکل کوئی تعرض نہیں چاہے وہ اپنے لئے خریدے یا غیر کے لئے جیسے خریداری کے لئے مقرر کردہ وکیل اور وہ جو کلام مذکور کے شروع میں مختصر کرخی میں مذکور ہے کہ بائع کے وکیل کا اس چیز کو خریدنا تمام فقہاء کے قول میں ناجائز ہے اس کا معنی وہ وکیل جس کو بیع کے لئے مقرر کیا گیا تھا جیسا کہ تبیین کے حوالے سے ہم اس کا ذکر پہلے کر چکے ہیں،اسی میں ہے کہ کسی نے دوسرے کو کسی چیز کی بیع کا وکیل بنایا اور اس نے وہ چیز فروخت کردی پھر اسی وکیل کا ارادہ ہوا کہ اس چیز کو ثمن اول سے کمتر ثمن کے عوض اپنی ذات کے لئے یا کسی اور کے لئے اس کے حکم پر خریدے تو یہ ناجائز ہے اھ اور اس کی مثل ہندیہ میں بحوالہ محیط ہے،فتح کے کلام مذکور میں وکیل بائع سے مراد بائع کا وہ وکیل ہے جس کو خریداری کے لئے اس نے مقرر کیا چنانچہ ثابت قدم رہ مت ڈگمگا،اور توفیق الله تعالٰی ہی کی طرف سے اور الله تعالٰی سبحنہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۳)جائز ہے اگر عمرو نے کہا کہ خرید لاؤ اور اس نے زید سے خرید کر اس جلسہ میں قبضہ کرلیا اس صورت میں عمرو کا تمسك لکھ دینا خریداری نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ دلال زید سے خریدنے کے بعد روپے کے اطمینان کے لئے یہ تمسك اسے دے دے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ہاں اگر دلال نے آکر عمرو سے کہا اور عمرو نے جواب دیا کہ میں نے خریدا یعنی عقد بیع وشراء یہیں ہولیا اور تمسك لکھ گیا بعدہ دلال نے نوٹ زید سے لاکردیا تو حرام وباطل ہے کہ جلسہ بیع میں نہ نوٹ پر قبضہ ہوا نہ روپوں پر۔
فکان افتراقا عن دین بدین وقد نہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع الکائی بالکائی [7]واللہ تعالٰی اعلم۔
تو یہ دین سے دین کے بدلے جدائی ہے حالانکہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ادھار کی ادھار کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور الله تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۶: از بنارس محلہ کندی گرٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ حکیم عبدالغفور صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلابتوں کی بیع ادھار جائز ہے یانہیں۔ بظاہر معلوم ہوتاہے کہ ناجائز ہوگی کہ گو اس میں تین جز وشریك ہیں یعنی سونا چاندی ریشم لیکن چونکہ حصہ چاندی کا زیادہ ہے لہذا کلابتوں مذکور حکمًا چاندی قرار دیا جائے گا اب بوجہ اتحاد جنس یعنی چاندی درمیان کلابتوں اورروپیہ کے بیع ادھارناجائز ہونا چاہئے،یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہزار ہا بندہ خدا اس معاملہ میں مبتلا ہیں اگر واقعی بیع مرقومہ بالاناجائز ہے اور اشخاص مرتکب فعل ہذا بیع مذکور سے روك دئے جائیں تو باب تجارت خصوصا اہالیان بنارس پارچہ فروش کا مسدود ہوجائے گا نوبت فاقہ کشی کی پہنچے گی،بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب:
کلابتوں میں سونے کا تو صرف رنگ ہی رنگ ہے اور نرے رنگ کا کچھ اعتبار نہیں جبکہ جلانے سے سونا اس میں سے جدا نہ ہو سکتاہے۔
[1] فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۶۸
[2] ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۱۵
[3] درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۲۶
[4] ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت۴ /۱۱۴
[5] حاشیہ الشلبی تبیین الحقائق بحوالہ مختصر الکرخی باب بیع الفاسد الطبعۃ الکبرٰی مصر ۴ /۵۴
[6] تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴
[7] سنن الدارقطنی کتاب البیوع حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳/ ۷۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع