30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ناجائز ہے اگرچہ کوڑیاں بھی نہ لے،
کما ہومذھب الامام محمد وھوالراجح والاقرب الی الصواب لتحقق العلۃ اعنی القدروالجنس ووجود التفاضل قطعا وورود الشرع بحرمتہ یقینا واما ما ذکر وا من حدیث التفرقۃ
جیسا کہ امام محمد کا مذہب ہے او روہی راجح اور حق کے قریب ترین کیونکہ اس میں علت ربا یعنی قدروجنس متحقق ہے اور قطعی طورپر تفاضل موجودہے،اور اس کی یقینی حرمت پر شرع وارد ہے اور وہ جو فقہاء نے فرق والی بات ذکر کی ہے کہ اگر کوئی چیز
بین مااذادخل تحت المعیار فلا یجوز وامااذالم یدخل کفنۃ بحفنتین وفلس بفلسین فیجوز فقد زیفہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح [1] بما ترکن الیہ البصائر وتسکن لدیہ الخواطر فلیراجعہ من شاء،قال الشامی وقد نقل من بعدہ کلامہ ھذا و اقروہ علیہ کصاحب البحر والنہر والمنح والشرنبلالیۃ والمقدسی [2] انتہی قال العلائی وحرم الکل محمد و صححہ کما نقلہ الکمال [3]انتہی فافہم، واللہ تعالٰی اعلم۔
معیار کے تحت داخل ہو تو بیع ناجائز اور اگر نہ داخل ہوجیسے ایك مٹھی دو مٹھی کے بدلے میں اور ایك پیسہ دوپیسوں کے بدلے میں تو جائز ہے اس کا رد علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح میں کیا ہے جس کی طرف نظریں مائل ہوتی ہیں اور دل سکون پاتے ہیں تو جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے،شامی نے کہا کہ اس کے بعد والوں نے اس کا یہ کلام نقل کیا ہے اور انہوں نے اس کوبرقرار رکھا ہے جیسے صاحب البحر،نہر، منح، شرنبلالیہ اور مقدسی(انتہی)علائی نے کہاامام محمد نے اس سب کو حرام کہا اور ان کے قول کی تصحیح کی گئی جیسا کہ کمال نے اس کو نقل کیا(انتہی)پس سمجھ،اور الله تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۳ تا ۲۶۵: از کاٹھیا واڑ دھوراجی محلہ سیاہی گران مسئولہ حاجی عیسی خان محمد صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ
(۱)زیدنے عمرو کے ہاتھ روپے سے نوٹ ایك وعدہ پر بیچا عمرو بوقت ادا نوٹ لایاا ور اس نوٹ کے عوض زید سے روپے لے کر قبضہ کرلیا پھر روپے زید کو اداکردئے یہ جائزہے یانہیں؟
(۲)زیدنے عمرو کے ہاتھ ہزار وپے کا نوٹ گیارہ سو کو آٹھ ماہ کے وعدہ پر بیچا اور عمرو سے تمسك لکھا لیا پھر زید نے یہ تمسك بکر کو دے دیاکہ تم روپے وصول کرلو عمرو نے بجائے گیارہ سو روپوں کے گیارہ سو کانوٹ دیا،یہ جائز ہے یانہیں؟
(۳)زید نے دلال سے کہا میں ہزار کانوٹ گیارہ سو کو بیچتاہوں تم خرید ار تلاش کردو،دلال عمرو کے پاس آیا عمرو نے دلال سے کہا میرے لئے خرید لاؤ دلال نے عمرو سے تمسك لکھوالیا اور زید سے نوٹ خرید کر تمسك دے دیا اور نوٹ لاکر عمرو کو دے دیا،یہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)جائز ہے مگر ایك صورت میں کہ وہی نوٹ لے کر آئے اور پہلی قیمت سے کم کو بیچے تو یہ ناجائز ہے،
لکونہ شراء ماباع باقل مما باع فان قلت ھو ثمن و الاثمان لاتتعین فی العقود فلا یحکم بانہ یبیع ما شری قلت المناط ثمہ ایراد العقد علی عین ما مبلکہ سابقا وھذا منتف عند عدم التعین اماھہنا فالمناط ان یعود الیہ عین مبلکہ کما خرج قال فی التبیین فی تعلیل المسألۃ لان الثمن لم یدخل فی ضمان البائع قبل قبضہ فاذا عادالیہ عین مالہ بالصفۃ التی خرج من مبلکہ وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقی لہ علیہ فضل بلا عوض فکان ذٰلك ربح ما لم یضمن وھو حرام بالنص اھ [4] وقال فی الفتح وھذا الان الثمن
کیونکہ یہ اپنی ہی فروخت کردہ شیئ کو اس قیمت سے کم پر خریدنا ہے جس پر اس نے فروخت کی تھی اور تو کہے کہ وہ ثمن ہے اور ثمن عقود میں متعین نہیں ہوتے چنانچہ یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ وہ اسی چیز کو بیچ رہا ہے جس کو اس نے خریدا۔ میں کہتاہوں کہ وہاں دارومدار عقد کے بعینہٖ اس چیز پر وار دکرنے پر ہے جس کا وہ سابق عقد میں مالك ہواا ور وہ عدم تعین کے وقت منتفی ہے لیکن یہاں دارومدار اس پر ہے کہ اس کا مملوك بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آئے جیسے اس کی ملك سے خارج ہوا تھا،تبیین میں اس مسئلہ کی تعلیل یوں فرمائی کہ چونکہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوا اورجب اس کا مال بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آیا اسی صفت کے ساتھ جس کے ساتھ اس کی ملك سے خارج ہوا تھا اور بعض ثمن بعض کا بدلہ ہوگئے تو اس کے لئے دوسرے پر کچھ زیادتی بلاعوض رہ گئی تو یہ نفع ہے اس چیز پر جو ابھی ضمان میں نہیں آئی،اور یہ نص سے حرام ہے اھ،فتح میں کہا یہ حکم اس لئے ہے کہ ثمن
لایدخل فی ضمانہ قبل البقض فاذا عادالیہ الملك الذی زال عنہ بعینہ وبقی لہ بعض الثمن فہو ربح حصل لا علی ضمانہ من جہۃ من باعہ [5] اھ ومثلہ فی سائر الکتب المعللۃ ومعلوم ان الاثمان لاسیما الاصطلاحیۃ وان لم تتعین فی العقود متعینۃ فی الملك قطعا فلیس للمودع ان یبدل دراہم الودیعۃ بدراہم من عندہ فعود ماملك کما خرج ثابت قطعا وعلیہ تدور رحی المنع کما علمت ھذا ماظہر لی وارجوان یکون صوابا ان شاء اللہ تعالٰی،واللہ تعالٰی واعلم۔
قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتے پھر اس کی مملوك جواس کی ملکیت سے زائل ہوئی تھی بعینہٖ اس کی طرف لوٹ آئی اورا س کے بعض ثمن باقی رہے تویہ ایسا نفع ہے جو اس چیز پر حاصل ہوا جو اس کی ضمان میں نہیں اور اس شخص کی طرف سے حاصل ہوا جس کو اس نے یہ چیز بیچی تھی اھ اور اس کی مثل تمام تعلیل بیان کرنے والی کتابوں میں ہے،اور یہ معلوم ہے کہ ثمن خصوصا اصطلاحی ثمن اگر چہ عقود میں متعین نہیں ہوتے مگر ملك میں قطعی طور پر متعین ہوتے ہیں لہذا جس کے پاس امانت کے طور پر درہم رکھے گئے
[1] ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱،فتح القدیر باب الربٰو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۶۳۔ ۱۶۲
[2] ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱
[3] درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱
[4] تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴
[5] فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۷۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع