30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اموال ربویہ میں عمدہ کی بیع ردی کے ساتھ صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ برابر برابر ہوں کیونکہ یہاں وصف میں تفاوت معتبر نہیں(ت)
اگر نوٹ عرف میں بفرض غلط روپے کا عین ہی سمجھا جاتاہو تواب ہم پوچھتے ہیں کہ شرعا بھی اس پر روپے کی تمام احکام جاری ہونا ضروری ہے یانہیں،اگرنہیں تو ربا کدھرسے آیا،ابھی فتح القدیروردالمحتار وغیرہا سے تصریح گزری کہ کاغذ کاا یك پرچہ ہزار روپے کو بیچنا جائز ہے اور جائز بھی ایسا جس میں نام کو کراہت تك نہیں،خدا انصاف دے تو یہ نوٹ کی بیع مذکور کا صریح جزئیہ ہے جسے علمائے کرام حدوث نوٹ سے صدہا سال پیشتر تحریر فرماگئے اور ثمنیت اصطلاحیہ سے فرق محض جہالت ہے جس کا بیان مشرح گزرا اور اگر آپ کے زعم میں شرعا بھی نوٹ پرروپے ہی کے احکام ہیں تواب الٹا ربا تم پروارد ہوگا روپے کا حکم یہ نہ تھا کہ دوسرے روپے سے اسے بدلو تو مالیت برابر دیکھ لو بلکہ وزن برابر کرنے کاحکم تھا تو چاہئے کہ جولوگ دس کا نوٹ دس کوبیچیں حرام قطعی اور سود ہو کہ ایك طرف ماشہ بھر وزن ہے اور دوسری طرف دس تولہ بلکہ واجب ہوکہ کانٹے میں نوٹ رکھ کر جتنی چاندی اس پر چڑھے اسی قدر کو بیچیں تو نوٹ میں برابری فرض کرنے والے خود ہی اپنے زعم کے رو سے سود حلال کررہے ہیں اس سے بھی قطعی نظر سہی نوٹ اگر عین ہوگیا تو روپے کا ہوا اشرفی کا تونہ ہوگا یا ایك ہی چیز سونے اور چاندی دونوں کا عین ہوجائے گی اور ابھی درمختار سےگزرا کہ ایك روپےکی بیع ایك اشرفی سےصحیح ہےاور ہر گز ربا نہیں۔ نوٹ جبکہ روپے کا عین ٹھہرا تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کوبیچنا قطعا ربا نہ ہوگا اب یہ عجیب حکم پیدا ہوگا کہ دس کا نوٹ بارہ روپے کو بیچو جب تو سوداور دس کے نوٹ پر بارہ اشرفیاں لے جاؤ تو اصلا سود نہیں،غرض ان لوگوں کی مخالفت اصلا کسی اصل شرعی کی طرف راجع نہیں محض اپنے تخیلات بے سروپا ہیں یہ حکم بیع کا تھا البتہ دس کا نوٹ قرض دینا اور یہ ٹھہرا لینا کہ ادائے قرض کے وقت بارہ روپے یا پیسہ او پردس روپے لوں گا یہ حرام اور سود ہے۔ حدیث میں ہے:
قال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا [1]۔ رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ۔
رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے،اس کو حارث بن ابواسامہ نے سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم سے روایت کیا۔(ت)
اوریہ خیال کہ بیع میں زیادہ کو بیچنا کیوں جائز ہوا اور قرض دے کر زیادہ ٹھہرالینا کیوں حرام ہوا تو دونوں ایك ہی سے ہیں یہ وہ مہمل اعتراض ہے کہ کافروں نے شریعت مطہرہ پر کیا اور قرآن عظیم نے اس کا جواب دیا:
قال اللہ تعالٰی " قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[2]۔
الله تعالٰی نے فرمایا:کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہےجیسے سود اور ہے یہ کہ الله نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
فقیر ان مضامین عالیہ کی تفصیل میں بعونہ تعالٰی ایك رسالہ لکھ سکتاہے مگر عاقل ذی انصاف کو یہی جملے بس ہیں مسلمان انھیں بغور وانصاف دیکھیں اور اہل حق پر جاہلانہ اعتراض سے احتراز کریں والھادی وولی الایادی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نوٹ قیمتی(عہ/)روپے کا زید نے عمرو کے ہاتھ مبلغ(ع عہ/) روپے کو اس شرط پر بیع کیا کہ ایك روپیہ ماہوار قسط کرکے بارہ مہینہ میں اس زرثمن کو پورا کردے جو زید نےعمرو سے مقرر کی ہے اور اس کے اطمینان کے لئے عمرو نے اپنے مکان وغیرہ کو مستغرق کردیا کہ اگر روپیہ نہ ادا ہو تو اس سے وصول کرسکے۔ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ حقیقۃً بائع ومشتری دونوں کو فی الواقع بیع صحیح شرعی مقصود ہو اور فریقین کی سچی رضامندی سے عقد واقع ہو اور نوٹ اسی جلسہ میں مشتری کے قبضہ میں دے دیا جائے تو اختلاف جنس کی حالت میں شرع مطہر نے بازار کے بھاؤ پر کمی بیشی منع نہ کی، اور جہاں قرض دینا اور اس پر زیادہ لینا ہو وہ ضرور سودا ور حرام ہے جہال اگر اس فرق کو نہ جانیں تو یہ وہی امر ہے جس کی خود قرآن عظیم میں تصریح ہے:
قال اللہ تعالٰی" قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[3]۔
الله تعالٰی نے فرمایا:کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہے جیسے سود اور ہے یہ کہ الله نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
اورخالی استغراق بے قبضہ شرعا کوئی چیز نہیں قال اللہ تعالٰی " فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ-"[4](الله تعالٰی نے فرمایا:پس رہن قبضہ کیا ہوا۔ ت) اور بعد قبضہ اس سے نفع اٹھانا حلال نہیں مثلا زید کو اس مکان میں رہنا یا کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ لینا حرام ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: از مارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضاحسین صاحب ۱۴ رجب ۱۳۲۶ھ
بیع الفلس بالفلسین جائز یا ناجائز؟ زیادہ نیاز
الجواب:
راجح یہ کہ ناجائز ہے،
کما حققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح واقرہ علیہ من بعدہ من المحققین کالبحر والنہر والغزی و المقدسی و الشرنبلالی وفی الدر المختار حرم الکل محمد وصحح [5]۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع