30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پیسے کوڑی بیچنے کا پیشہ کرتاہے جووقت خریداری روپیہ قیمت کا دیتاہے اس کو پونے سولہ گنڈے پیسے دیتاہے اور جو روپیہ قیمت کا اسی وقت نہیں دیتے ہیں دوسرے وقت کا وعدہ کرتے ہیں ان کو یازدہ گنڈے پیسے دیتاہے اور مدت وعدہ اور کمی بیشی نرخ کا جیسے سودکا شبہ پڑے کچھ حساب نہیں کرتا بطور نوٹ فروشی یہ بیع بھی صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صراف کہ نقد روپیہ دینے والے کو پونے سولہ آنے دے یہ بیع بلاکراہت جائز ہے اور جوروپیہ اس وقت نہ دے دوسرے وقت کا وعدہ کرے اسے روپے کے عوض بارہ آنے دینا بھی جائز ہے،سود وحرام وگناہ نہیں،صرف مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولٰی ہے کہ نہ کرے تو بہتر ہے او رکرے تو حرج نہیں۔
فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرہما من الاسفار لا کراھۃ فیہ الاخلاف الاولی لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ القرض [1]۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
فتح القدیر اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں میں مذکور ہے کہ اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولٰی ہے کیونکہ اس میں یہ قرض دینے کے احسان سے اعراض ہے،اور الله تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۴: از بدایوں محلہ سوتہنہ مرسلہ مولوی حامد بخش صاحب خان بہادر ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے دس روپیہ کاسرکاری نوٹ بکرکے ہاتھ بارہ روپے میں اس شرط سے بیچا کہ بکر اس کو ایك سال میں بارہ روپیہ باقساط یاکل یکشمت ادا کردے تویہ بیع صحیح ہے اور سود تونہیں ہے؟
(۲)زید نے مختلف دھات کے سکہ دس روپیہ کے جمع کرکے بکر کے ہاتھ(صہ عہ/)روپیہ میں بیع کئے او ر یہ روپیہ چار ماہ کے بعدلینا چاہا تو یہ بیع صحیح ہے یانہیں؟ یا اس پندرہ روپیہ کاغلہ کسی قسم کا کسی نرخ پر ٹھہرالیا تو وہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)نوٹ اگرقرض دیا جائے اور ایك پیسہ زیادہ لینا ٹھہرالیا جائے تو قطعی حرام ہے قال اللہ تعالٰی " وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[2](الله تعالٰی نے فرمایا:اور الله تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ ت) اور اگر نوٹ روپیہ کے عوض بیع کریں اور اس پر جو قیمت مکتوب ہے اس سے کم یا زیادہ برضائے باہمی معجل خواہ مؤجل باجل معلوم ثمن قرار دیں تو ضرور حلال ہے قال اللہ تعالٰی " وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ "[3](الله تعالٰی نے فرمایا:اور الله تعالٰی نے بیع کو حلال کیا۔ ت) جس شخص نے یہ گمان کیا کہ نوٹ عرفًا چاندی کا عین ہو رہا ہے تو دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا گویا دس روپے بارہ روپیہ کو بیچنا ہے اور سود ہے یہ اس کی محض نافہمی اور قواعد شرعی سے بیگانگی بہ استیلا ئے وہمی ہے نوٹ اگر چاندی کا ہم جنس نہیں اور قطعا نہیں جب تو کمی بیشی حرام ٹھہرانا کیا معنی کہ ہمارے ائمہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کے اجماع سے اختلاف جنس کی حالت میں تفاضل حلال ہے اور اگر بفرض غلط اسے چاندی کا عین سمجھ لیجئے تو اب دس کانوٹ دس کو بیچنا عین سود اور حرام مردود ہوگا،اموال ربویہ میں شرع نے مالیت کالحاظ نہیں فرمایا بلکہ وزن وکیل میں برابری کاحکم دیا ہے تمام کتب میں تصریح ہے کہ جیدہ وردیہ سواء(اس کا عمدہ اور ردی برابر ہیں۔ ت)سادہ کاری کا زیور ایك ماشہ وزن کا ایك ایك روپیہ کی مالیت کا ہوتاہے پھر کیا شرعا ماشہ بھر چاندی کی انگوٹھی ایك روپے کی بیچنی حلال ہوگی،حاشا بلکہ قطعا سود ہوگی واجب یہ کہ تول میں بلا تفاوت یکساں ہوں تو نوٹ بھی اگر چاندی ہی کا قرار پاگیا تو ہرگز اس کا لحاظ جائز نہیں کہ مالیت میں دس یا سو یا ہزار روپے کا ہے بلکہ وزن معتبر ہوگا کانٹے میں ایك طرف نوٹ دوسری طرف چاندی رکھئے دونی چونی جو کچھ چڑھے بس اتنے کو بیچنا حلال ا ورا س سے ایك پیسہ زیادہ لیا اور سود کا وبال تو ظاہر ہوا کہ نوٹ کو چاندی ٹھہرا کر جو لوگ دس کا نوٹ دس ہی کو بیچنا بتارہے ہیں اب اپنے منہ آپ سود کو حلال کرتے اور بندگان خدا کو حرام کا راستہ سکھا رہے ہیں،جانے دیں ان کی خاطر ہم نے تسلیم کرلیا کہ نوٹ بالکل چاندی ہے اور روپے سے بدلنے میں اس کی مالیت ہی کی برابر لازم ہے بہت اچھا،جب وہ چاندی ٹھہرا تو سونا تونہ ہوسکے گا یا ایك ہی چیز یا سونے دونوں کی عین ہے اور جب سونا نہیں تو نوٹ اور اشرفی ضرور مختلف الجنس ہیں اور اب تفاضل یقینا سود نہیں دو روپے اور ایك اشرفی کو دو اشرفیوں اور ایك روپے کے عوض بیچنے کا جزئیہ درمختار وغیرہ کتب مذہب میں مصرح ہے صرفا للجنس الی خلاف الجنس [4](جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرتے ہوئے۔ ت)یعنی یہ قرار دینگے کہ ایك اشرفی ایك روپے کو بیچی اور دو۲ روپے دو۲ اشرفیوں کے عوض بیع کئے اور یہ صحیح ہے کہ جنس مختلف ہے تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کو بیچنا تو سود نہ ہوگا اب اپنے اس مسئلہ کا اندازہ خود وہی کرسکیں گے کہ دس روپے کا نوٹ بارہ روپے کو بیچنا تو سود اور بارہ اشرفیوں کو بیچنا صحیح وغیر مردود۔
بالجملہ یہ سب ہوسات بے معنی ہیں جن پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیں اور ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کی کرامت ہے کہ حدوث نوٹ سے صدہا سال پہلے اس کا جزئیہ ارشاد فرماگئے۔ فتح القدیر میں فرمایا:
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ [5]۔
یعنی اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچا جا ئز ہے اور اصلا کراہت بھی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع