30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۴۹: از کانپور گورکھپور دکان مرسلہ محمد حی صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ مروجہ مبلغ یك صد روپیہ کا ہے اس کا خوردہ نوٹ لیا جائے کم بیش پر جائز ہے یانہیں؟ خوردہ میں نقد روپیہ ہو یا چھوٹے نوٹ ہوں سو روپے نقدکے مقابلہ میں سوروپے کا نوٹ لیا جائے یا اس پر کچھ بٹہ لے کر کمی بیشی جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقًا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے،اوراس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: از گونڈل معرفت قاضی قاسم صاحب مرسلہ سید غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موتی کے بیوپاری موتیوں کی خریدوفروخت کرتے ہیں سو روپیہ اور بروقت قیمت لینے دینے کے فیصدی دس روپے کم کے حساب سے معاملہ طے ہوتاہے پھر بھی اگر خریدنے والا نقد روپے ادا کرے تو فی صد پندرہ روپے کم سے معاملہ طے ہوتاہے ورنہ مہینے کی میعاد کے بعد ادا کرے تو وہی فیصدی دس روپے کم لینے دینے کا رواج ہے،آیا اس طرح کامعاملہ طے کرنا اور خرید وفروخت کرنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
جبکہ باہمی تراضی سے ایك امر متعین منقطع ہوکوئی حرج نہیں
قال تعالٰی " اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1]۔
واللہ تعالٰی اعلم۔ الله تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے والله تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۱: مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۳ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اندریں معاملہ کہ قصبہ سانگور کے مدرسہ انجمن اسلامیہ کا روپیہ عرصہ دراز سے جمع رہتاہے اس سے کوئی تجارت وغیرہ نہیں ہوتی ہے کہ جس سے روپے کی افزائش کی صورت ہو،لہذا اگر ان روپوں کی اشرفیاں کسی قدر کہ جن کا نرخ اس وقت کمی بیشی ہوجاتاہے خرید کر ہمراہ روپیہ ان اشرفیوں کا نرخ اس وقت کے حساب سے زیادہ قیمت پرلگا کر ادھار میں بیع کی جائیں تویہ عمل شرعا درست ہے کہ نہیں یا کہ برائے اطمینان اس عمل کے ساتھ زیور رہن لیاجائے تو یہ طریقہ بیع اشرفیوں کا درست تونہیں ہے جواب بطریق مذہب حنفی دیا جائے،آفرید گار عالم جزائے خیرعنایت فرمائے گا۔ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مذکورہ سوال حرام ہے
قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ الاھاء وھاء [2]۔
رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:مگر(یہ اس وقت جائز ہے)جب ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی مجلس میں دونوں طرف سے قبضہ کرلیا جائے۔(ت)
ہاں یہ جائز ہے کہ اشرفیاں وقت ارزانی خریدیں اور وقت گرانی بیچیں یا باجازت اہل چندہ نوٹ خرید کر ادھا ر زیادہ کو بیچیں مگرعقد ہو جس میں ثمن ایك مدت معینہ کے بعد دینا قرارپائے،یہ ہو کہ اس کانوٹ دو مہینہ کے وعدے پر قرض دیا اور پیسہ اوپر لینا قرار پایا کہ یہ حرام ہے،حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربٰو[3]۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
بخلاف بیع کہ اس پر نفع لینا جائز ہے۔
قال اللہ تعالٰی " وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[4]۔
الله تعالٰی نے فرمایا:اور الله تعالٰی نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا۔(ت)
حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم [5]۔
جب نوعیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو۔(ت)اور اس کی کامل تفصیل ہمارے رسالہ"کفل الفقیہ الفاھم"میں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: از بیرم نگر ڈاکخانہ سرگدا مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰ شوال ۱۳۲۲ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع