دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایك مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بیعنہٖ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یك بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔

فی رد المحتار عن البدائع من شروطہ بیان جنس المصنوع ونوعہ وقدرہ وصفتہ وان یکون ممافیہ تعامل وان لایکون مؤجلا والاکان سلما [1] الخ وفیہ المراد بالاجل ماتقدم وھو شہر فما فوقہ [2] الخ وفی الطحطاوی الاجل تارۃ یکون کاجل السلم بان کان شہرا فازید وھو عندہ سلم من غیر تفصیل [3] الخ،

وفی الہندیۃ ان ضرب الاجل صار مسلما(حتی لایجوز الابشرائط السلم)ھذا اذا کان ضرب المدۃ علی وجہ الاستمہال بان قال شہرا ومااشبہ ذٰلك امااذا ذکر علی وجہ الاستعجال بان قال علی ان تفرغ منہ غدا اوبعد غد لایصیر سلما کذا فی الصغرٰی[4] اھ ملخصا۔

 ردالمحتار میں بحوالہ بدائع ہے استصناع کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ مصنوع(جو چیز بنوانا مطلوب ہے)کی جنس،نوع، صفت اور مقدار کو بیان کرنا اوریہ کہ اس میں لوگوں کا عرف جاری ہو اور یہ کہ اس کی کوئی میعاد مقرر نہ کی جائے ورنہ وہ عقد سلم ہوجائے گا الخ اور اسی میں ہے کہ میعاد سے مراد وہی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے یعنی ایك ماہ یا اس سے زیادہ الخ، طحطاوی میں ہے کہ میعاد کبھی سلم کی میعاد جیسی ہوتی ہے یعنی ایك ماہ یا اس سے زائد تو اس صورت میں بغیر کسی تفصیل کے یہ سلم ہے الخ،ہندیہ میں ہے کہ اگر میعاد مقرر کی تویہ عقد سلم ہوگاجو کہ سلم کی شرطوں کے بغیر جائز نہیں) یہ اس وقت ہے جب بیان مدت مہلت طلب کرنے کے طور پر ہو مثلا ایك ماہ یا اس کی مثل ذکر کیا اور اگر مدت کا بیان طلب عجلت کے طور پر ہو مثلا کہا تجھ سے یہ چیز اس شرط پر بنواتا ہوں کہ توکل یا پرسوں اس کو بناکر فارغ ہوجائیں تو یہ عقد سلم نہ ہوگا یہ صغرٰی میں ہے اھ تلخیص(ت)

یہاں کہ میعاد ایك مہینہ یا زائد ہی کی تھی عقد بیع سلم ہوگیا اور بوجہ تردید کہ ایك مہینہ میں تیس اور زیادہ میں چوبیس نہ قیمت معین ہوگی نہ مدت،حالانکہ ان کی تعیین سلم میں ضرور ہے لہذا عقد فاسد ہوگیا بلکہ عند التحقیق استصناع ہر حال میں بیع ہی ہے۔

کما نص علیہ فی المتون وصححہ المحققون من الشراح ففی النقایۃ الاستصناع باجل سلم تعاملوا فیہ او لا،وبلا اجل فیما یتعامل فیہ بیع والمبیع العین لاالعمل اھ [5] ومثلہ فی الاصلاح والملتقی والتنویر وغیرھا وفی الہدایۃ الصحیح انہ یجوز بیعا لاعدۃ والمعدوم قد یعتبر موجودا حکما و المعقود علیہ العین دون العمل ھوالصحیح اھ مل[6]خصا ونحوہ فی الایضاح والدر وغیرھما من الاسفار الغر و قد اوضحنا المقام مع ازالۃ الاوھام بتوفیق الملك العلام فیما علقناہ علی ردالمحتار۔

جیسا کہ متون میں اس پر نص کی گئی اور محقق شارحین نے اس کی تصحیح فرمائی،چنانچہ نقایہ میں ہے استصناع میں اگر مدت مقرر کی جائے تو وہ سلم ہوجاتاہے چاہے لوگوں کا عرف اس میں جاری ہویا نہ ہو اور بغیر مدت مقرر کرنے کے اگر اس میں عرف جاری ہو وہ بیع ہے اور مبیع عین(مصنوع)ہے نہ کہ عمل اھ اور اصطلاح،ملتقی اور تنویر وغیرہ میں اس کی مثل ہے،ہدایہ میں ہے کہ یہ بطور بیع جائز ہے نہ کہ بطور وعدہ اور معدوم کو کبھی کبھی حکمی طورپر موجود اعتبار کرلیا جاتاہے اور معقود علیہ(مبیع)عین ہے نہ کہ عمل،اور یہی صحیح ہے اھ تصحیح،اور اسی کی مثل ہے ایضاح اور در وغیرہ روشن کتابوں میں اور ہم نے الله تعالٰی کی توفیق سے ردالمحتار پر اپنی تعلیقات میں اس مقام کی وضاحت کرتے ہوئے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہے۔(ت)

اور بیع ہر گز ایسی جہالت ثمن کا تحمل نہیں کرسکتی کہ اتنی مدت ہو تو یہ قیمت اور اتنی ہو تو وہ

فی الخلاصہ رجل باع شیئا علی انہ بالنقد بکذا وبالنسئۃ بکذا اوالی شہر بکذا اوالی شہرین بکذا لم یجز [7]۔

خلاصہ میں ہے ایك شخص نے کسی شیئ کی بیع اس طرح کی نقد اتنے کی اورادھار اتنے کی یا ایك ماہ کے ادھار پر اتنے کی اوردو ماہ کے ادھار پر اتنے کی،تو جائز نہیں۔(ت)

تو استصناع میں اگرچہ ایك مہینہ یا اس سے زائد نہ ہو جب ایسی تردید کی جائیگی عقد فاسد ہوگا اور فسخ واجب،ھذا ماظہر لی، واللہ تعالٰی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ اورالله تعالٰی بہتر جانتاہے۔ ت)

مسئلہ ۲۴۵:زید کے دوست نے فرمائش لکھی کہ مجھ کو کحل الجواہر بھیج دو،زید عمروکے دکان سے قرض خرید لایا،اور بعد دو ایك روزکے واپس کردیا،اس کے یہاں جاکر اورخیال دل میں یہ تھاکہ شاید وہ دوست قیمت نہ بھیجے تو مجھ کو دینا ہوگی،غرض اس کے سامنے یعنی مالکان دکان کو دے دیا اور یہ اس سے کہا بھی مالك کحل الجواہر نے،میاں ذراسی بات کے لئے پھر شرمندہ ہونا پڑا ہے،اورقیمت تومیری پڑیا کحل الجواہر پر لکھی ہوئی ہے وہ بھیج دیں گے تم کو قیمت،تم ان کوکحل الجواہر بھیج دو،پس بامر بائع دوبارہ زید نے اس کو لاکر بھیج دیا اپنے دوست کے پاس،سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مالك کحل الجواہر زید سے قیمت وصو ل کرنے کا مجاز ہے یانہیں؟ اب زید نے اس کے امر سے بھیجا ہے۔ بینوا توجروا

الجواب:

 



[1]          ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۲

[2]          ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۲

[3]          الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع باب السلم دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۶

[4]          فتاوٰی ہندیہ ابواب التاسع عشرفی القرض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۰۸

[5]          مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب البیع نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۳

[6]          الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۲

[7]          خلاصہ الفتاوٰی کتاب البیوع فصل فی خامس الجنس الاول فیما یتعلق بالثمن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۶۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن