30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وینبغی انقلابہ صحیحا لو فی المجلس ولو بعدہ فبیع بالمقاطی،نہر [1]۔
اور لائق ہے کہ بیع صحت کی طرف منقلب ہوجائے اگر تعیین مجلس عقد میں ہو اور اگر تعیین مجلس کے بعد ہو تو بیع بالتعاطی ہوگی۔نہر(ت)
ان صورتو ں میں بھی وہی ۲۴ گز معین ہوئی باقی پر مشتری کا قبضہ باطل ہے یہ سب یعنی بائع سے گواہ لینا اور ان کی گواہی پر اعتماد کرنا اس حالت میں ہے کہ بقیہ ۷۲ گز میں مشتری ثانی کے تصرفات مدت دراز سے بائع نے دیکھ کر سکوت نہ کیا ہو،اور اگر ایسا ہے جیسا مشتری ثانی کا یبان ہے کہ اسی وقت سے اس نے دالان اور کھپریل اور چبوترہ کل زمین میں بنوالیا اور بائعو ں نے خود کھڑے ہوکر بنیاد وغیرہ قائم کرادی جس کوعرصہ قریب آٹھ سال کا ہوگیا تو اس صورت میں دعوٰی بائع اصلا قابل سماعت نہ ہوگا۔
لما افتی بہ العلماء قطعا للتزویر والاطماع الفاسدۃ کما فی العقود الدریۃ [2] ومعین المفتی وغیرہما،واللہ تعالٰی اعلم۔
علماء کے اس فتوٰی کی وجہ سے جوانھو ں نے دھوکہ دہی اور فاسد خواہشو ں کو منقطع کرنے کے لئے دیا ہے جیسا کہ عقود الدریہ اور معین المفتی وغیرہ میں ہے،والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷: از پیلی بھیت محلہ محمد شیر مسئولہ جناب قمر الدین صاحب ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنا مال آڑھت میں دے کر دکان میں بیچنا چاہتاہے اور اس سے روپیہ مال جمع شدہ کا پیشگی چاہتاہے اور کہتاہے کہ جب فروخت ہوجائے گا تو اس وقت کاہم اور تم حساب کئے لیں گے،یہ روپیہ پیشگی دیناجائزہے یانہیں ؟
الجواب:
اگر علی الحساب بطور قرض لیتاہے تو دکاندار کی مرضی سے لے سکتاہے اس پر جبر نہیں کرسکتا اور اگر دکاندار سے اس مال کی قیمت لیتا اور یہ شرط کرتاکہ فروخت پر کمی بیشی کا حساب ہوجائے گا تو یہ حرام ہے۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۸: مسئولہ نواب وزیر احمد خان صاحب بہاری پور بریلی ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شے کا بیعنامہ معمولی رواجی الفاظ کے ساتھ تحریر ہوکر آخر میں یہ فقرہ لکھ دیا جائے کہ نفاذ اس بیع نامہ کا فلا ں مدت کے بعد عمل میں آئے گا مشتری کو قبضہ لینے اور داخل خارج کرنے کا مجاز بعد انقضائے مدت مذکورہ حاصل ہوگا اگر مشتری درمیان اس مدت کے قبضہ لے کر داخل خارج کرائے گا تو اس مدت کا ماحصل توفیر زرثمن کے علاوہ اداکرنے کا مستوجب ہوگا تو درمیان دستاویز میں جو "بعت" لکھ چکاہے وہ غالب رہےگایاآخر کایہ فقرہ؟ بینوا توجروا
الجواب:
دونو ں جملے اپنا اپنا عمل کرینگے،"بعت" کا یہ عمل ہوا کہ بیع ہوگئی اور اس شرط فاسد کا یہ عمل ہوا کہ بیع فاسد وحرام ہوئی ان دونوں پر واجب ہے کہ اسے فسخ کریں اگر نہ کریں گے توحاکم شرع جبرا فسخ کرادے گا،نہ مشتری مبیع لے سکتاہے نہ بائع ثمن،اور اگر بائع کی رضا سے مشتری مبیع پر قبضہ کرلے تو بحکم جملہ اولٰی اس کامالك ہوجائے گا،مگر بحکم جملہ ثانیہ وہ ملك خبیث ہوگی اور اب بھی اس پر واجب ہوگا کہ بیع فسخ کرے اور مبیع واپس کردے ہا ں اگر مشتری بعد قبضہ برضائے مبیع کسی دوسرے کے ہاتھ بیع صحیح یا ہبہ یادین یا وقف یا وصیت کردے تو اگر چہ مشتری گنہگار ہوگا مگر اب وہ بیع نافذ ہوجائے گی اور اس کا فسخ نہ ہوسکے گا اور اب بھی مشتری اس سے مبیع کے ثمن کا مستحق نہ ہوگا یعنی جو معاوضہ باہم قرار پایا تھا بلکہ قیمت لے گا یعنی بازار کے بھاؤ سے وہ مال جتنے کا ہو مثلا ایك شے ساڑھے پانچ ہزار کو خریدی ااور بازار کے نرخ سے وہ چار ہزار کی ہے تو چار ہزار ہی دینا آئیں گے بائع اس سے زائد نہیں لے سکتا یہ سب اس صورت میں ہے کہ اصل بیع اسی شرط پر ہوئی ہو اور اگر پہلے فروختم خریدم زبانی ہولئے تھے اور اس میں یہ عدم نفاذتا مدت مذکورہ کی شرط تھی بعد کو کاغذ بیعنامہ میں لکھی گئی ہو تو اس کا کچھ اعتبار نہیں بیع صحیح ونافذ ولازم ہوگئی فورا وقت عقد اس کا نفاذ ہوگیا اسی وقت سے مشتری کو اختیار ہوگیا کہ زرثمن جتنا باہم قرار پایا ہے دے کر مبیع پر قبضۃ کرلے اگر چہ بائع کی رضانہ ہو اور وہ شرط کہ اتنی مدت کی توفیر دینی آئے گی محض باطل ومردود ونامسموع ہے زرثمن سے زیادتہ ایك کوڑی دینی نہ ہوگی،والله اعلم
مسئلہ ۳۹: از سرنیا ں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
سودا خریدنے میں حجت کرکے بھاؤ بڑھانا کیساہے؟
الجواب:
بھاؤ کے لئے حجت کرنا بہترہے بلکہ سنت،سوا اس چیز کے جوسفر حج کے لئے خریدی جائے اس میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان اپنے دولڑکو ں عمرو وبکر کے نام سے بحصہ مساوی کیا اور اس کا بیعنامہ بھی انھیں دونو ں کے نامو ں سے ہے،ان میں عمر و بالغ ہے اور بکر نابالغ،بعد ازا ں زید نے اسی مکان میں سے ایك ربع اپنے بھائی خالد کو اس طرح دلایا کہ عمرو سے بیعنامہ لکھا دیا تو بقیہ مکان میں عمرو وبکر کاحصہ شرعا کس طرح رہا؟ بینوا توجروا
الجواب:
شرع میں گفتگوئے خریدوفروخت کا اعتبار ہے اس کے آگے بیعنامہ کا اعتبارنہیں،اگر زبانی خریداری لڑکو ں کے نام نہ ہوئی یعنی یہ نہ کہا کہ مکان عمرو بکر کے ہاتھ بیع کردے،اس نے کہا میں نے ان کے ہاتھ بیع کیا بلکہ صرف اپنے نام زبانی خریدا یا زبانی خریدم فروختم(میں خریدتاہو ں اور میں فروخت کرتاہو ں۔ت)میں کسی کانام نہ آیا تو اس صورت میں شرعا وہ مکان زید کاہوا،پھر زید نے جو اپنے بیٹو ں کے نام بیعنامہ لکھا یا یہ ان کے نام ہبہ ہوا اور ہبہ مشاع بلا تقسیم ہے لہٰذا عمرو بکر اس کے مالك نہ ہوئے،بیعنامہ کہ بنام خالد جانب عمرو سے ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع