30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہدایہ وغیرہ کی اتباع میں مصنف پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ یہ کہ اگر کسی نے مذکورہ مدتوں کا عقدمیں ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن کو ان میعادوں کے ساتھ مؤجل کردیا تو بیع صحیح ہے کیونکہ یہ شرط فاسد کے حکم میں ہے جیساکہ ہم نے وہاں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ اھ(ت)
اس طریقہ سے ایك اور نفع عظیم کی امید ہے وہ دستاویز جو بطور مذکور لکھی جاتی ہیں نراوعدہ ہی وعدہ ہوتی ہیں کہ اس شخص کو اس پر جبر کا اصلا اختیار نہیں ہوتا اگروہ رس نہ دے تو یہ صرف اپنے روپے کا اس سے تقاضا کرسکتاہے رس کا مطالبہ نہیں پہنچتا کہ وعدہ کی وفا پر قضاء جبر نہیں کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ اس پر تمام فقہاء نے نص کی ہے۔ ت)اور یہ صورت جو ہم نے لکھی علماء فرماتے ہیں ایسی شکل کا وعدہ وعدہ لازمہ ہوجاتاہے کہ اس کے ایفاء پر جبر پہنچتاہے،جامع الفصولین میں ہے:
لوذکر البیع بلا شرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد اذ المواعید قد تکون لازمۃ فیجعل لازما لحاجۃ الناس [1]۔
اگر بائع اور مشتری نے بغیر شرط کے بیع کا ذکر کیا پھر بطور وعدہ شرط کا ذکر کیا تو بیع صحیح ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا کبھی ضروری ہوتاہے لہذا لوگوں کی حاجت کے لئے اس کے پورا کرنے کو ضروری قرار دیا جائے گا۔ (ت)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
قد صرح علماؤنا بانہما لوذکرا البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد [2]۔
ہمارے علماء نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اگر بائع اور مشتری نے بیع کو بلاشرط ذکر کیا پھر بعدمیں شرکاء کاذکر وعدہ کے طور پر کیا تو بیع جائز ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لوبعدہ علی وجہ المیعاد جاز ولزم الوفاء بہ لان المواعید قد تکون لازمۃ لحاجۃ الناس وھوالصحیح کما فی الکافی والخانیۃ واقرہ خسرو ھنا والمصنف فی باب الاکراہ وابن المالك فی باب الاقالۃ الخ [3]۔
اگر عقد کے بعد شرط کاذکر بطور وعدہ کیا تو بیع جائز ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدوں کو پورا کرنا لوگوں کی حاجت کے پیش نظر کبھی لازم ہوتاہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ اور کافی میں ہے خسرو نے یہاں مصنف نے باب الاکراہ میں اور بن الملك نے باب الاقالہ میں اس کو برقرار رکھا الخ(ت)
بزازیہ میں ہے:
اذا قال معلقا بان قال ان لم یؤد فلان فانا ادفعہ الیك ونحوہ یکون کفالۃ لماعلم ان
اگر کوئی بطور تعلیق ضامن بنایا بایں صورت کہ کہا اگر فلان نے قرض کی ادائیگی نہ کی تو میں تجھے ادا کروں گا یا اس جیسی کوئی اور صورت کی تویہ کفالت درست ہے
المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ فان قولہ انا احج لایلزم لہ شیئ ولو علق وقال ان دخلت الدار فانا احج یلزم الحج [4]۔ کیونکہ تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ وعدے تعلیق کی صورت میں لازم ہوتے ہیں چنانچہ کسی کے یوں کہنے سے کہ میں حج کروں گا اس پر کچھ لازم نہیں ہوتا اور اگر یوں کہاکہ اگر میں گھرمیں داخل ہوا تو حج کروں گا یعنی تعلیق کی تو اس صورت میں(دخول دار سے)اس پر حج لازم ہوگا(ت)
اہل اسلام اس نفیس طریقہ کے بجالانے میں کابلی نہ کریں اس میں نہ کوئی خرچ ہے نہ حرج نہ وقت صرف زبانی دو تین لفظوں میں مطلب کامل مراد حاصل گناہ زائل،دستاویز تو لکھواتے ہی ہیں صرف اتنا زائد ہے کہ اس سے پہلے ایك چیز اس کے ہاتھ گھنٹہ بھر کے وعدے پر بیچ کر قبضہ میں دے کر فورا خریدلے اور روپیہ دے دے اور گھنٹہ کزرنے کے بعد دین کی نسبت اس کا وہ وعدہ لے لے،اس الٹ پھیر میں نہ کچھ وقت ومحنت ہوگی نہ کوئی پیسہ خرچ ہوگا اور معصیت الٰہی سے بچ کر مال حلال ہاتھ آئے گا الله عزوجل توفیق بخشے،آمین!
تنبیہ:یہ قیدیں جوہم نے ذکر کیں کہ پہلی بیع میں ثمن مؤجل ہو دوسری میں معجل اور دوسری میں بیع اور اس کے ثمن کا ادا کر دینا پہلے ثمن کے میعاد مثلا گھنٹہ گزرنے سے پیشتر ہولے اور دوسری بیع کاشتکار کی طرف سے شیئ بیع پر قبضہ کرلینے کے بعد ہو انھیں ضرور ملحوظ رکھیں زائد وبیکار تصور نہ کریں یہاں منظور تو یہ ہے کہ کہ کاشکار کو روپیہ پہہچ جائے او اس کا دین اس پر قائم رہے تاکہ اس کی نسبت وہ عدہ ہوسکے اگر دونوں ثمن معجل ہوتے تو جیسے بیع ثانی میں سوروپے اس پر لازم ہوئے اور اس کے سو روپے اس پر لازم تھے دونوں پرسے برابر ہوکر اتر جاتے،یونہی اگر یہ بیع ثانی اور اس کے ثمن دے دینے کی کاروائی اس میعاد مقررہ سے پہلے نہ ہو لیتی تو میعاد گزر کرو وہ دین پر معجل ہوجاتا اور دونوں بری الذمہ ہوجاتے اب کہ کاشتکار کا دین اس پر معجل ہوا او راس کا دین اس پر ہنوز مؤجل ہے کہ اس کی میعاد نہ آئی اور اس نے اس کے روپے دے دئے اس نے لے لئے تو اس کا دین اس پر قائم رہے گا۔
فی ردالمحتار عن الحلی عن البحر سائر الدیون ای ماسوی النفقۃ یقع التقاص فیہا تقاصا اولا بشرط
ردالمحتار میں حلی سے بحوالہ بحر منقول ہے کہ نفقہ کے سوا تمام قرضوں میں ادلہ بدلہ ہوسکتاہے چاہے فریقین خود ایسا کریں نا نہ کریں بشرطیکہ دونوں طر ف کا
التساوی فلواختلفا کما اذا کان احدہما جیدا وردیًا فلا بد من رضا صاحب الجید [5] وفی الاشباہ علیہ الف قرض فباع من مقرضہ شیئا بالف مؤجلۃ ثم حلت فی مرضہ وعلیہ دین تقع المقاصۃ [6] الخ قال فی غمز العیون انما قید بالحلول لانہا لو لم تحل تقع المقاصۃ لاختلاف الوصف کالجید مع الردی [7]۔
[1] ردالمحتار بحوالہ جامع الفصولین باب البیع الفاسد داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴/ ۱۲۰
[2] فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۳۸
[3] درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۸،۵۷
[4] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالہ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳
[5] ردالمحتار
[6] الاشباہ والنظائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۴۷
[7] غمز عیون البصائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع