30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیوفی دینہ [1] الخ لکھ دے تاکہ وہاں اس کا قرض ادا کیا جائے۔(ت)
اور یہاں صراحۃ شرط نہ بھی کریں تاہم بحکم عرف اس کا مشروط ہونا قرض دینے لینے والے دونوں پر ظاہر وآشکارہ ہوتاہے۔
والمعہود عرفا کالمشروط لفظا فی ردالمحتار من اٰخر الحوالۃ عن الفتح عن الواقعات قالوانما یحل ذٰلك عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاہر فان کان یعرف ان ذٰلك یفعل کذلك فلا [2]۔
جو عرف میں معہود ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے لفظ شرط لگائی گئی ہو ردالمحتار میں باب الحوالہ کے آخر میں فتح سے بحوالہ واقعات منقول ہےفقہاء نے کہا ہے کہ عدم شرط کے وقت یہ قرض اس وقت حلال ہے جب اس میں(دوسرے شہر کی طرف لکھنے کا)عرف ظاہر نہ ہو چنانچہ اگر معروف ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو حلال نہیں۔(ت)
غرض یوں بھی جواز حاصل نہ ہوا،ہاں اس کی صورت یہ ہے کہ جس قدر کا رس خریدنا ہو اتنے روپوں کے عوض اپنی کوئی چیز اس کا شتکار کے ہاتھ ایك قریب وعدہ پر بیچے مثلا کہے میں نے یہ شیئ تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی اس شرط پر کہ یہ روپے ایك گھنٹہ کے بعد ادا کئے جائیں گے وہ کہے میں نے خریدی اس سے زائد کوئی رس وغیرہ کا ان لفظوں می نہ ہو پھر وہ شیئ مبیع اس کاشتکار کے قبضہ میں دے دے اور اس سے زرثمن نہ لے جب وہ قابض ہوجائے اسی چیز کو اب کاشت کار اس بائع کے ہاتھ سو روپے پر بیع کردےء اور اس میں کوئی میعاد ادائے ثمن مقرر نہ کرے یہ خریدے اور اس وقت کاشتکار کو روپے دے کر شیئ مبیع لے لے،یہ مبیع ثانی اور اس کے روپے ادا کرنے کی کاروائی اس مدت وعدہ سے پہلے ہولے جس مدت تك کاشتکار کے لئے بیع سابق میں ثمن مؤجل کیا ہے مثلا وہاں ایك گھنٹہ کا وعدہ ٹھہرا تھا تو یہ کاروائی گھنٹہ گزرنے سے پہلے ہولے وعلی ہذا القیاس،اور بہت ضرور ہے کہ ان دونوں بیعوں سے حقیقۃ خرید وفروخت کا قصد کریں،فقط فرضی طور پر نہ ہوں اب اس کی چیز تو اس کے پاس واپس آئی اور کاشکار کو سو روپے مل گئے اور اس کے سو روپے اس کے ذمہ پر دین رہے،جب گھنٹہ یامیعاد جو قرار پائی تھی گزر جائے یہ اپنے اس دین کا کاشتکار سے مطالبہ کرے وہ کہے گھڑی بھر میں تیرا دین دیتاہوں اگرنہ دوں گا تو معاہدہ کرتاہوں کہ اس دین کے عوض فلاں مہینے میں اس نرخ سے اتنا رس ادا کروں گا بعدہ اسی مضمون کا اقرار نامہ لکھا جائے جیسا کہ کھنڈ ساری میں رائج ہے جس کی نقل عبارت اوپر گزری اس طور پر نہ تو بیع سلم ہوئی جس میں اس شے کابازر میں ہونا مشروط ہوتا نہ قرض ہوا جس سے انتفاع مشروط حرام ٹھہرتا بلکہ بذریعہ بیع صحیح ایك دین اس کا شتکار پر لازم ہوا بعدہ،اس دین کی نسبت یہ وعدہ ومعاہدہ قرار پایا بیع سابق کے بعد جو یہ قرار داد ہوئی اس عقد کی شرط نہ ٹھہرے گی کہ بوجہ شرط فاسد بیع فاسد ہوکر پھر گناہ لازم آئے۔
فانہ لیس بشرط رأسابل وعد مستأنف و قد قال فی ردالمحتار ذکر فی البحر انہ لو اخرجہ مخرج الوعد لم یفسد وصورتہ کما فی الولوالجیۃ قال اشترحتی ابنی الحوائط [3] اھ،قلت والذی فی الہندیۃ عن الظہیریۃ اشتربصیغۃ[4] الامرفاذا کان ھذا فی الوعد لمقارن فکیف فی المفارق فہذا یوجب الصحۃ اجماعا و لوسلم فالشرط المتأخر لایلتحق باصل العقد عندھما،وفی روایۃ عنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم وفی اخری لہ یلتحق وقد صححتا فعند اختلاف التصحیح لك العمل بایتہما شئت لاسیما ماوافق علیہ الصاحبان رضی اللہ تعالٰی عن الجمیع قال فی ردالمحتار قولہ ولا بیع بشرط اشار بقولہ
کیونکہ یہ سرے سے شرط ہی نہیں بلکہ نیا وعدہ ہے تحقیق، رد المحتار میں بحوالہ بحر فرمایاکہ اگر اس نے بطور وعدہ اس کو ذکر کیا تو بیع فاسد نہ ہوگی اور اس کی صورت جیسا کہ ولو الجیہ میں ہے یوں ہے کہ بائع نے کہا تو(انگور کے خوشے)خریدلے میں (باغ کی)دیواریں بنادوں گا اھ میں کہتاہوں کہ ہندیہ میں بحوالہ ظہیریہ امر کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی "اشتر" (توخرید) یہ اس وعدے کے بارے میں ہے جو عقد سے مقترن ہو اگر اس سے جدا ہو تو کیسے بیع فاسد ہو سکتی ہے تو یہ صحت بیع کو بالاجماع ثابت کرتی ہے اور اگر تسلیم کرلیا جائے (کہ یہ شرط ہے)تو شرط مؤخر صاحبین کے نزدیك اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوئی،اورامام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے منقول ایك روایت یوں ہی ہے اور ان سے منقول دوسری روایت میں ہے کہ لاحق ہوتی ہے،تحقیق دونوں روایتوں کی تصحیح کی گئی ہے،اور جب تصحیحیں مختلف ہوجائیں تو تجھے اختیار ہے ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے خصوصا وہ تصحیح جس پر صاحبین بھی امام اعظم سے متفق ہوں رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین،ردالمحتار
بشرط الی انہ لابد من کونہ مقارنا للعقد لان الشرط الفاسد لو التحق بعدالعقد قیل یلتحق عند ابی حنیفۃ وقیل لا وھوالاصح کما فی جامع الفصولین فی فصل ۳۹ لکن فی الاصل انہ یلتحق عند ابی حنیفۃ وان کان الالحاق بعد الافترق عن المجلس وتمامہ فی البحر قلت ہذہ الروایۃ الاخری عن ابی حنیفۃ وقد علمت تصحیح مقابلہا وہی ولہما ویؤیدہ ماقدمہ المصنف تبعاللہدایۃ وغیرہا من انہ لوباع مطلقًا عن ہذہ الاٰجال ثم اجل الثمن الیہا صح فانہ فی حکم الشرط الفاسد کما اشرنا الیہ ھناك [5] اھ۔
میں کہا کہ ماتن نے اپنے قول"ولابیع بالشرط"میں لفظ بشرط سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شرط کا عقد کے مقارن ہونا ضروری ہے کیونکہ شرط فاسد اگر عقد کے بعد لگائی گئی تو ایك قول یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیك عقد کولاحق ہوگی اور ایك قول یہ ہے کہ لاحق نہیں ہوگی اوریہی زیادہ صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین فصل ۳۹ میں ہے لیکن اصل میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیك لاحق ہوگی اگرچہ اس کا الحاق مجلس سے عاقدین کے جدا ہونے کے بعد ہو اور اس کی پوری بحث بحرمیں ہے،میں کہتاہوں یہی امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی دوسری روایت ہے حالانکہ اس کے مقابل روایت کی تصحیح تومعلوم کرچکا ہے اور وہ صاحبین کا قول ہے اور اس کی تائید کرتا ہے وہ جو
[1] درمختار کتاب البیوع باب القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰
[2] ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۶
[3] ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۰
[4] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۳۶
[5] ردالمحتار باب البیع الفاسد مطلب فی البیع بشرط فاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع