دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

مسئلہ ۲۲۷: ۴ رمضان المبارک

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسامیان کو بدنی پر روپیہ اور فی روپیہ ۲۰ ثاریا ۹ا ثار گندم عمدہ ماہ فلاں میں لینے ٹھہرے لیکن اسامی کے یہاں پیداوار کم ہوئی اور غلہ مذکور ادا نہ کرسکا تو اسے زر قیمت غلہ لینا جائز ہے یا ناجائز۔یاکہ جو روپیہ دیا ہے وہ لیا جائے اوراگر غلہ وقت معینہ پر لیا جائے تو آیا صاف کراکر عمدہ لیا جائے یا جیسا پیدا ہوا ہےکس طور پر اوراگر بحالت باقی آئندہ سال پر غلہ لیا جائے تو کس شرح سے یعنی کہ زرقیمت بقیہ غلہ کے گندم بحساب بدنی مذکور لئے جائیں یا کہ بقیہ زردادہ کے گندم بحساب بدنی لئے جائیں بینوا توجروا

الجواب:

روپیہ دینے والے کو دوہی بات کا اختیار ہے چاہے جو غلہ جتنا لینا ٹھہرا ہے اب خواہ آئندہ سال اسی قدر لے کر دانہ بڑھانے کا اختیار نہیں ہے اور چاہے تو اس صورت میں اپنا اتنا ہی روپیہ جس قدر دیا تھا پوراخواہ حساب سے کہ مثلا سو روپے پچاس من گیہوں پر دئے تھے پچیس من ملے تو باقی پچاس روپے واپس لے ایك کوڑی زیادہ حلال نہیں اوریہ جو کرلیتے ہیں کہ جو باقی رہا اس وقت کے بھاؤ سے اس کے دام کاٹے اور بدنی کے حساب سے ان داموں کا غلہ اس کے ذمہ کردیا یہ نرا سود قطعی حرام بلکہ سود درسود ہے۔

فی الدرالمختار لو انقطع بعد الاستحقاق خیر رب السلم بین انتظار وجودہ والفسخ واخذ راس مالہ [1] اھ وفیہ لایجوز التصرف للمسلم الیہ فی رأس المال و لالرب السلم فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحوبیع و شرکۃ ومرابحۃ و تولیۃ ولوممن علیہ حتی لووھبہ منہ کان اقالۃ اذا قبل وفی الصغرٰی اقالۃ بعض السلم جائزۃ [2] الخ۔ درمختار میں ہے کہ اگر مسلم فیہ استحقاق کے بعد نایاب ہوگئی تو رب السلم کو اختیار دیا جائے گا کہ یا تو اس کے دستیاب ہونے کا اتنظار کرے یا عقد فسخ کرکے راس المال واپس لے لے اھ،اور اسی میں ہے قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ تصرف جیسے بیع،شرکت، مرابحہ اور تولیہ جائز نہیں اگرچہ یہ تصرفات اسی شخص سے کئے جائیں جس پر راس المال یا مسلم فیہ ہے یہاں تك کہ اگر رب السلم نے مسلم الیہ کو مسلم فیہ ہبہ کردیا تو یہ اقالہ ہوگا جبکہ مسلم الیہ اسی کو قبول کرے اور صغرٰی میں ہے کہ بعض سلم کااقالہ جائز ہے الخ(ت)

اور گیہوں جیسے ٹھہرے تھے ویسے لینے کا مستحق ہے اگر عمدہ صاف کی شرط تو عمدہ صاف ہی لے گا۔

فی الہندیۃ اسلم فی کندم نیکواو ہندیہ میں ہے اگر کسی نے نے گندم میں عقد سلم کیا اور قال نیك او قال سرہ یجوز ھذا ھوالصحیح والماخوذ بہ کذا فی الغیاثیۃ [3] اھ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کہا گندم نیکو یا کہا نیك یا کہا سرہ یعنی کھری تو جائز ہے اور یہی صحیح اور مختار ہے،یوں غیاثیہ میں ہے اھ،والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)

مسئلہ ۲۲۸: غرہ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اینٹوں کی بیع سلم جائز ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ ابھی بیچنے والے نے صرف زمین اس نیت سے لی ہے کہ بعد چار ماہ کے اسی سے مٹی کھود کر اینٹ بنائی جائے گی،خالد نے ابھی سے دو روپیہ ہزار کا نرخ کاٹ کر چار ماہ کے وعدہ پر دوسو روپے اسے دے دئے یہ صورت شرعا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

جائز ہے جبکہ سانچا معین کردیا گیا ہو اور باقی شرائط بیع سلم متحقق ہوں اور یہ شرط نہ کی گئی ہو کہ اس مٹی سے جو اینٹ بنے گی وہ لی جائے گی۔

لانہ منقطع فی الحال کحنطۃ جدیدہ قبل وجودھا وفی التنویر یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون ومثمن وعددی متقارب کجوز وبیض وفلس و لبن واٰجربملبن معین [4] واللہ تعالٰی اعلم۔ کیونکہ وہ فی الحال نایاب ہے جیسے نئی گندم کی بیع اس کے وجود سے قبل اور تنویرمیں ہے کہ جس چیز کی صفت کوضبط کرنا اور اس کی مقدار کی پہچان ممکن ہو اس میں سلم جائز ہے جیسے کیلی چیز ایسی وزنی چیز جومبیع ہو اور عددی متقارب اشیاء مثلا اخروٹ،انڈے،پیسے اورمعین سانچے کی بنی ہوئی کچی پکی اینٹیں،(ت)والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۲۹: از آنولہ شفاخانہ مرسلہ شیخ محمد بخش صاحب ڈاکٹر ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس بارہ میں کہ فلوس سکہ رائج الوقت بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس۳۳ ٹکہ فروخت ہوتے ہیں اگر زید کسی قدر روپیہ عمرو کو دے اور عمرو سے بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس۳۳ ٹکہ بلا تعیین وقت روزیاماہ کے کٹوتری کرلے اور عمرو بتدریج فلوس ادا کرے توکٹوتی فلوس اس صورت سے شرعا درست ہے یانہیں اور اگر عمرو فلوس کے ہمراہ دونی یا چونی زید کو دے تو دونی یا چونی ہمراہ فلوس کے عمرو سے لینا جائز ہے یانہیں ا ور اگر عمرو باجازت زید کے کسی قدر فلوس کٹوتری شدہ بہ نرخ رائج الوقت خود فروخت کرکے زید کو نقد روپیہ بعوض فلوس دے تو درست ہے یانہیں ؟

الجواب:

پیسوں کی بیع سلم(یعنی کٹوتی)میں یہ تینوں صورتیں ناجائز وگناہ ہیں،بیع سلم کی ایك ضروری شرط یہ بھی ہے کہ میعاد عقد میں معین کردی جائے جب یہاں تعین وقت نہ ہوا بیع حرام ہوگئی۔

فی الدرالمختار شروط صحتہ التی تذکر فی العقد بیان جنس ونوع وصفۃ و قدر واجل [5] اھ ملخصا۔

 



[1]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷

[2]         درمختار کتاب البیوع باب السلم ۲ /۴۹۔۴۸

[3]         فتاوٰی ہندیۃ الباب الثامن عشرالفصل الاول نورانی کب خانہ پشاور ۳ /۱۷۹

[4]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۷

[5]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن