دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

" اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1]۔اللہم ربنا ارض عنا بکر مك و منك ورأفۃ حبیبك محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ووفقنا لتجارۃ لن تبور یاعزیز مگریہ کہ ہو وہ تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے،اے اللہ ہمارے پروردگار! اپنے فضل واحسان کے صدقے سے اور اپنے محبوب محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مہربانی کے طفیل ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں ایسی تجارت کی توفیق عطا فرما جس

یا غفور اٰمین والحمد ﷲ رب العلمین وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علی سیدالمرسلین محمد و اٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین سبحنك اللہم وبحمدك اشہدان لا الہ الاانت استغفرك واتوب الیك سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون و سلم علی المرسلین و الحمد ﷲ رب العلمین۔

میں خسارہ نہ ہو اے عزت والے اے بخشنے والے! ہماری دعا قبول فرما،تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تما م جہانوں کا پروردگار ہے،بہترین درود اور کامل ترین سلام ہو رسولوں کے سردار محمد مصطفی اور آپ کی تمام آل واصحاب پر اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما،تو پاك ہے اور ہم تیری ہی تعریف کرتے ہیں،میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں،تیرا رب رب العزت پاك ہے ان اوصاف سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں اور سلام ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔ (ت)

الحمدﷲ! کلام اپنے منتہٰی کو پہنچا اور تحقیق مسئلہ ذروہ اعلٰی کو تیس سال ہوئے کہ اس کا سوال فقیر سے ہوا اور مسئلہ بالکل حادث تازہ اوراپنی بے بضاعتی کا خوف واندیشہ لہذا آغاز جواب ان لفظوں سے کیا،ظاہر ہے کہ نوٹ ایك ایسی حادث چیزہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جزئیہ بالتصریح پایا جائے مگر اس وقت جہاں تك خیال کیا جاتا ہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہے،اور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور انتہا ان لفظوں پرکہ ھذاما ظہر لی واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اللہ سبحانہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ت)پھر بفضل رب قدیر عزجلالہ برابر اس کے مؤیدات ظاہر ہوتے رہے:

مؤید اول: محرم ۱۳۲۴ھ میں مکہ معظمہ کے دو علمائے کرام مولانا عبداللہ احمد میرداد امام مسجد الحرام اور ان کے استاذ مولانا حامد احمد محمد جداوی دوامابالاکرام نے نوٹ کے متعلق جملہ مسائل فقہیہ کا سوال اس فقیر سے کیا جس کے جواب میں بفضل وہاب عزجلالہ ڈیڑھ دن سے کم میں رسالہ کفل الفقیہ وہیں لکھ دیا،پہلا فتاوٰی ایك خفیف ساعت کی نظر تھا یہ رسالہ بفضلہ تعالٰی پہروں کا خوض کامل جہاں تك غور کیا وہی رنگ کھلتا گیا اور کوئی شك سد راہ نہ ہوا،یہ نظر اولین کا پہلا مؤید تھا۔

مؤید دوم: اس سے پہلے فتوائے مولوی لکھنؤی صاحب چھپ کر زیر نظر آچکا تھا،رسالہ میں اس پر بھی خوض تام کیا اور نظر انصاف نے وہی حکم صاف دیا،یہ دوسرا مؤید اقوی ہوا ایك ذکی طباع عالم کی دلیل خلاف آگے رکھ کر تنقیح کامل کی اور اس کی بے اثری ظاہر ہوئی۔

مؤید سوم: مکہ معظمہ کے اجلہ علمائے کرام ومفتیان عظام نے کفل الفقیہ کو ملاحظہ فرمایا پڑھواکر سنا اس کی نقلیں لیں ا ور بحمد اللہ سب نے یك زبان مدحیں کیں،جسے حضرت شیخ الائمہ والخطباء کبیر العلماء حضرت مولانا احمد ابوالخیر میرداد حنفی حضرت عالم العلماء مفتی سابق وقاضی حال علامہ مولٰنا شیخ صالح کمال حنفی،حضرت مولانا حافظ کتب الحرم فاضل سید اسمٰعیل خلیل حنفی، حضرت مولانا مفتی حنفیہ عبداللہ صدیق حفظہم اللہ تعالٰی،ان فاضل جلیل نے کہ اس وقت یہی جانب سلطانی سے افتائے مذہب حنفی کے عہدہ جلیلہ پر ممتاز تھے،کتب خانہ حرم محترم میں کفل الفقیہ رکھا دیکھ کر بطور خود مطالعہ فرمانا شروع کیا فقیر بھی حاضر تھا،مگر ان سے کوئی تعارف نہ تھا،نہ اس سے پہلے میں نے ان کونہ انہوں نے مجھ کو دیکھا،حضرت مولانا سید اسمعیل افندی اور ان کے بھائی سید مصطفی افندی وغیرہما بھی تشریف فرماتھے،حضرت مفتی حنفیہ نے رسالہ مطالعہ کرتے کرتے دفعۃً نہایت تعجب کے ساتھ اپنے زانوپر ہاتھ مارا اور فرمایا:

این کان الشیخ جمال بن عبداللہ بن عمر من ہذا البیان اولفظا ہذا معناہ۔ شیخ جمال ابن عبداللہ ابن عمر اس بیان تك کیوں نہ پہنچ سکے یا اس کے ہم معنی لفظ کہے۔(ت)

حضرت مفتی اعظم مکہ معظمہ مولانا جمال بن عبداللہ بن عمر حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ سند حدیث وفقہ میں اس فقیر کے استاذ الاستاذ ہیں،اور اپنے زمانہ مبارك میں وہی مفتی حنفیہ تھے اس جناب رفیع سے نوٹ کے بارے میں استفتاء ہوا تھا حضرت ممدوح قدس سرہ نے علمائے ربانی کی جو شان ہے اس کے مطابق صرف اتنا تحریر فرما دیا کہ"العلم امانۃ فی اعناق العلماء واللہ تعالٰی اعلم۔علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے واللہ تعالٰی اعلم یعنی کچھ جواب عطا نہ فرمایا،حنفیہ کے مفتی حال نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت ممدوح قدس سرہ کا ذہن مبارك ان دلائل کو کیوں نہ پہنچا جو اس رسالہ کا مصنف لکھ رہا ہے، حضرت مولانا سید اسمعیل افندی نے تعریف فرمائی کہ مصنف رسالہ یہ موجود ہے حضرت مفتی حنفیہ نہایت کرم واکرام سے ملے اور بہت دیر تك بفضلہ تعالٰی علمی تذکروں کی مجلس گرم رہی،ان تمام حضرات علماء کے مدائح وقبول کیسے مؤید جلیل ہوئے،والحمد ﷲ رب العلمین۔

مؤید چہارم: اب کہ کفل الفقیہ دوباہ مع ترجمہ چھپا،مولوی گنگوہی صاحب کا فتوٰی نظر پڑا اس کی طرف توجہ کی اور ساتھ ہی چاہا کہ فتوائے جناب مولوی لکھنوی صاحب پر بھی مستقل نظر ہوجائے خیال تھا کہ مباحث تورسالے ہی میں تمام ہوچکے ہیں غایت درجہ چھ ورق بس ہوں گے،مگر فیض قدیر سے اضافہ مضامین کی لگاتار بارش ہوئی اور قلم روکتے روکتے چھ ورق کی جگہ تین جزء کا رسالہ ہوگیا جس نے دونوں کلام مخالف میں کوئی فقرہ لگانہ رکھا یہ بحمداللہ تعالٰی اور بھی قوی تر مؤید عظیم ہوا۔رائیں ملنے سے علم پختگی پاتے ہیں اور اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ ذی رائے اثر ثابت ہوں یہ پہلی صورت سے بھی اقوی ہے کہ جب مخالفانہ کوششیں اثبات خلاف میں عرق ریزی کرکے ناکام رہیں واضح ہوجاتاہے کہ بحمداللہ تعالٰی مسئلہ حق ہے اور خلاف کی طرف راہ مسدود،بفضلہ تعالٰی اس مسئلہ نے دونوں قسم سے حظ وافی پایا بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے ہے آسمان فیض مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے متواتر تائیدوں کا نزول ظاہر ہے وﷲ الحمد،بایں ہمہ حاشا فقیر مجتہد ہے نہ ائمہ مجتہدین کے ادنٰی غلاموں کا پاسنگ ان کی خاك نعل کے برابر بھی منہ نہیں رکھتا۔نہ معاذ اللہ شرع الہٰی میں اپنی عقل قاصر کے بھروسے پر کچھ بڑھاسکتا۔اس فتوٰی اور ان دونوں رسالوں میں جو کچھ ہے جُہد المقل ہے یعنی ایك بےنوا محتاج کی اپنی طاقت بھر کوشش،اگر حق ہے تو محض میرے مولا پھر اس کے حبیب اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کرم ہے اور اسی کے وجہ کریم کے لئے حمدا وراس کے فضل سے امید ہے کہ ان شاء اللہ الکریم ضرور حق ہے اس کے گھر کی



[1]           القرآن الکریم ۴/ ۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن