30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار[1]۔
تم میں سے جو فتوی میں زیادہ بیباك ہیں وہ جھنم کی آگ پر زیادہ بیباك ہیں(ت)
خیر یہ تو غیر مقلدی کے لئے لازم بین ہے"مگر بر اعتماد ایشاں"نے ان کے اجتہا د کی پوری قیامت توڑدی اے سبحان اللہ ! مجتہدی کا دعوی اور ایك ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا،اور اس کردہ شد کے لطف کو تو دیکھئے کیا شرمایا ہوا صیغہ مجھول ہے گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا،اللہ یوں اپنی نشانیاں دکھاتا اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اللہ العفو و العافیۃ(ہم اللہ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ت)
قولہ:باقی رہا فتح القدیر کا لوباع کاغذۃ بالف یجوز [2]انتھی(اگر کسی نے ایك کاغذ ہزار درہم پر بیچا تو جائز ہے انتھی۔ت)
اقول:انتہی نہیں اس کے بعد ولا یکرہ [3](اور مکروہ نہیں ہے۔ت)بھی ہے اور خود میرا فتوی آپ کے پیش نظر ہے اس میں بھی منقول یعنی"کاغذ کا ایك پرچہ ہزار روپے کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں اصلا کراہت بھی نہیں"اسے پردہ انتھی میں نہ چھپائیے یہ بہت کام کی چیز ہے آپ کو یہ"لایکرہ"مکروہ لگتا ہے تو محققی کی شان یہ تھی کہ اسے نقل کرکے رد فرماتے،آخر امام ابن ہمام اور ان کے ساتھ کے علمائے کرام جنھوں نے اس لایکرہ کی تصریح فرمائی امام الائمہ امام اعظم سے تو اعظم نہ تھے یہ نہ ہوسکا تھا اور اس کا نقل کرنا ناگوار تھا تو الی آخرہ لکھ دیا ہوتا یہ بھی نہ سہی"یجوز"تك لکھ کے یونہی چھوڑدیا ہوتا کہ اخفائے ظاہر کا الزام تو نہ آتا انتھی نے تو موضع تہمت میں غلط بیانی کی،یہ جناب کی شان سے بعید واقع ہوئی۔
قولہ: پس مراد اس کی یہ کاغذ نہیں کہ عین ثمنی خلقی سمجھاگیا کیونکہ اس کا وجود ان زمانوں میں نہ تھا بلکہ سادہ کاغذ [4]۔
اقول اولًا: عینیت تو بار ہا گھر تك پہنچا دی گئی اس کی آڑ تو چھوڑئیے اور اب فرمائیے کہ نوٹ اور اس پرچہ کاغذ میں وجہ فرق کیا ہے سادہ پرچہ تو ہزار روپے کو بك سکے مگر جس پر پانچ روپے کا لفظ و ہندسہ لکھ دیا وہ پانچ سے زیادہ کو بیچنا حرام ہوجائے بڑی منحوس گھڑی سے چھاپا تھا کہ چھپتے ہی نو سو پچانوےاڑ گئے۔
ثانیًا:عینیت کے جو قاہر رد ہوئے انھیں جانے دیجئے تو آپ خود اپنے تنزل اخیر میں اس سے یکسر گزرچکے ہیں مہربانی فرماکر اپنی اس اخیر تقدیر پر فرق کی تقریر سنادیجئے،جی ہاں سادہ کا غذ ہزار کو بیچنا جائزبتایا اورکیسا کاغذ ناجائز ہے ذرا بتائیے۔
ثالثًا: صاف انصاف تو یہ ہے کہ علماء نے مطلق کاغذ فرمایا ہے جو سادہ اور لکھے قلمی اور چھپے نوٹ اور غیر نوٹ سب کو شامل ہے یہ سادگی تو آپ کی زیادت ہے اور مطلق کا کوئی مقید نیا پیدا ہوتو صرف اس بنا پر اسے حکم مطلق سے اخراج سراسر خلاف فقاہت ہے،ہزارہا حوادث نئے پیدا ہوتے جاتے ہیں،اور تا قیامت ہوتے رہیں گے،ان کے احکام اطلاقاتِ ائمہ کرام سے لئے جاتے ہیں،اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں اس زمانے میں کب تھیں لہذا یہ ان کی مراد وزیرحکم نہیں۔
رابعًا:سنئے تو جناب نے اس جرم پر کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں بیچارے نوٹ کو قصد بیع کے قابل نہ سمجھا بلکہ خود سوروپے بیچنا مقصود بتایا تھا،اب یہ سادہ پرچہ کہ دھیلے چھدام کا بھی نہیں یہ کیسے ہزار روپے کو بکنے لگا یہاں کو ن سے روپے لائیےگا جن کا بیچنا مقصود بنائیے گا ،ایك محقق عالم کولکھتے وقت خود اپنے آگے پیچھے کا خیال تو رہے،نہ یہ کہ ایك ہی صفحہ میں نسی ماقدمت یداہ(بھول گیا وہ جو اسی کے ہاتھوں نے مقدم کیا۔ت)
خامسًا: جناب نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ امام ابن الہمام نے یہ یجوز ولایکرہ [5]بلاکراہت جائز ہے کس بحث میں فرمایا ہے۔بیع عینہ کی بحث میں،اب وہ بیع عینہ کی ممانعت کدھر گئی یہ تو پانچ ہی سطر میں"نسی ماقدمت یداہ"ہوگیا،کیا اسی دن کے لئے جناب نے"لایکرہ"چھوڑکر انتہی لکھ دی تھی اب تو کہہ دیجئے کہ سو کا نوٹ دو سو کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں کراہت بھی نہیں،آپ کی اسی انتہی پر انتہا کروں کہ رد واعتراض کا عدد بفضلہ تعالٰی ایك سو بیس تك تو پہنچ گیا وﷲ الحمد۔
قولہ: ھذا ماسنح لی [6](یہ وہ ہے جومجھ پر ظاہر ہوا۔ت)
اقول: ای من دون دلیل و مایلی لاخفی ولاجلی۔
میں کہتاہوں بغیر دلیل خفی اور دلیل جلی ہے۔(ت)
قولہ:واللہ اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب [7]
(اللہ تعالٰی درست بات کو خوب جانتاہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ت)
اقول: ھو المصوب سے یہاں تك فتوی بھرمیں ایك یہ جملہ حق وبجا ہے بیشك اللہ عزوجل اعلم بالصواب ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب اور اسی ام الکتاب میں یہ پاك خطاب ہے جس سے بیع مذکور برضائے عاقدین کا جواز حجاب ہے،
[1] سنن الدارمی باب الفتیا وما فیہ من الشدۃ نشرالسنۃ ملتان ۱/ ۵۳
[2] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
[3] فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
[4] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
[5] فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
[6] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
[7] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع