30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثامنًا: اس کے متصل امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ابو سعید خدری و ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کی وہ حدیث [1]روایت فرمائی جو رسالہ کے ص۱۹۵و۱۹۶ پر گزری اس میں بھی حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہی حیلہ تعلیم فرمایا ہے جس پر آپ نے خود حاشیہ لکھا کہ:
اشارالیہ بما یجتنب عن الربا مع حصول المقصود[2]۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں ایسی بات کا اشارہ فرمایا جس میں ربا سے بچ جائے اور مطلب ہاتھ آئے۔
سیدنا امام محمد نے یہ حدیثیں روایت کرکے فرمایا:
بھذاکلہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ و العامۃ من فقہائنا[3]۔
یہ سب باتیں ہماری مختار ہیں اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ اور ہمارے سب فقہاء کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ہے۔
رہا حاشیہ میں آپ کا فرمانا کہ حنفیہ وغیرہم نے اس سے جواز حیلہ پر استدلال کیا اور حق یہ کہ ایسی جگہ اعتبار نیت کا ہے[4]۔
اقول اولا: یہاں کی کیا تخصیص ہے سبھی جگہ اعتبار نیت کا ہے بایں معنی کہ بدنیت فاسد ارادے سے جو کام کیاجائےگا ممنوع ہوگا، حیلہ تو حیلہ اگر بدنیت سے نماز پڑھئے تو وہ بھی حرام ہو ؎
کلید دردوزخ ست آں نماز کہ در چشم مردم گزاری دراز
(وہ نماز دوزخ کی چابی ہے جس کو تو لوگوں کے دکھلاوے کیلئے لمبا کرکے پڑھے)
ثانیًا: رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تعلیم فرمارہے ہیں جس کا خود آپ نے اقرار کیا،تمام ائمہ مذہب اس پر عمل فرمارہے ہیں جس کا امام محمد نے اظہار کیا،اب یہ آپ کی"والحق"اگر اس کے موافق ہے چشم ماروشن دل ماشاد(ہماری آنکھیں روشن اور ہمارا دل خوش ہے۔ت)اور اگر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشاد اور ائمہ مذہب کے اتفاق کے خلاف کچھ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ چننی چاہتے ہیں جیسا کہ ظاہر عبارت ہے تو وہ آپ ہی کو مبارك رہے اہل حق کے نزدیك بجوئے نیر زد"(ایك جو کے لائق بھی نہیں۔ت)
ثالثًا: آپ نے کچھ کھولی نہیں کہ کیا نیت ہو تو حیلہ جائز ہے اور کیا ہو تو ناجائز،اگر یہ مقصود کہ بیچ میں مبادلہ دراہم صرف برائے نام ہو،نہ یہ قسم خرما دراہم سے بیچنی مقصود ہو نہ وہ قسم دراہم خریدنی،بلکہ منظور انہیں دو قسم کا باہم مبادلہ ہو اور ذکر دراہم بیع تلجیہ کے طور پر محض اسم فرضی تو یہ ضرور صحیح ہے،مگر امام اعظم وامام محمد وجملہ ائمہ مذہب نے معاذاللہ اسے کب جائز کیا تھا،حضرت وہ توحیلہ شرعیہ کو جائز فرمارہے ہیں جس کی خود آپ کے اقرار سے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم دی یہ ناپاك حرکت"حیلہ شرعیہ ہی کب ہوئی"بلکہ قصدًا شرع کی مخالفت اور صورۃً عالم الغیب کو دھوکا دینا،پھر آپ نے جملہ ائمہ مذہب کے مقابل اپنی"والحق"کی الگ چنائی کا ہے پرچنی۔اور اگر یہ مقصود کہ اگرچہ یہ قسم روپیوں سے بیچ کر وہ قسم روپیوں سے خریدنی مقصود ہو مگر اس فعل پر باعث وہی غرض ہو کہ یہ قسم ہماری ملك سے خارج ہو کر وہ قسم داخل ہوجائے اسے ناجائز کہتے ہو تو قصور معاف،یہ معاذاللہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اصلاح دینی ہے ابوحنیفہ وغیرہ ائمہ تو درکنار رہے، ظاہر ہے کہ اسی غرض کی تحصیل کےلئے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ طریقہ تعلیم فرمایا،خود حدیث صحیح مسلم و صحیح بخاری سے صفحہ ۱۹۵و۱۹۶پر گزرا کہ جب تو مول لینا چاہے تو یوں کر۔حدیث کی نہ سنئے اپنی ہی،دونوں جگہ لفظ دیکھئے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہ صورت سکھادی جس میں ربا سے بچ جائے اور مقصود حاصل ہوجائے،کہئے تو وہ کیا مقصود تھاجس کا حاصل کرنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمایا،اس کے بعد جو آپ نے امام اعظم و امام محمد وائمہ مذہب کے رد میں ابن قیم گمراہ کی ایك نقل اس کے استاذ ابن تیمیہ بد مذہب سے ذکر کی ہے اس کا ایك ایك حرف حرف ہذیان یا مجنون کی بڑ ہے،آپ خود اس کے بعد اتنا لکھ گئے کہ یہاں طویل بحثیں ہیں کہ مبسوط کتابوں میں ملیں گی [5]جس سے آپ کو کہنے کی گنجائش رہی کہ میں نے اس نقل کو مقبول نہ رکھا لہٰذا ہم بھی اس کے رد سے تطویل نہ کریں کہ یہاں تو غرض آپ سے مکالمہ ہے۔
تاسعًا جانے دیجئے گول ہی رہیں اور نیت کا پردہ نہ کھولیں اتنا تو آپ کے بیان سے بھی ثابت ہوا کہ حیہ نیك نیت سے حلال ہے،جناب من ! پھر یہاں یہ مطلق جبروتی حکم کیسا کہ ایسے ارتکاب حیلہ سے حکم حلت نہیں ہوسکتا[6]۔
قولہ:تہذیب الایمان میں ہے [7]۔
اقول:مولوی صاحب ! عجب ہے کہ آپ جیسا محقق جو اتنے اعلٰی پائے پر ہو کہ ائمہ مجتہدین کی جانچ پڑتال کرے ان کا حق وباطل نکالے وہ اور مسائل شرعیہ کے لئے سند لانے میں ایسا گرے کہ مجاہیل وبے قدر و بے وقعت زید و عمرو سب سے استناد کرے کہیں آپ مجالس الابرار سے سند لاتے ہیں کہیں رسالہ اسلمی سے،اور اترکر اربعین میاں اسحٰق دہلوی سے،کہیں اور گھٹ کر ان کے کسی شاگرد کی عمدۃ التحریر سے،کہیں سب سے بدتر صراط مستقیم اسمٰعیل دہلوی سے،انہیں مجاہیل میں یہ آپ کی تہذیب الایمان ہوگی جس پر بعض اصحاب نے کہا کہ
[1] الموطاللامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
[2] التعلیق الممجد علی موطال محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
[3] الموطا للامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
[4] التعلیق الممجد علی موطا محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
[5] التعلیق الممجد علٰی مؤطا اما م محمد باب الربوٰ فیما یکال ویؤزن نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۷
[6] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
[7] مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع