دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

بعوض کم روپیہ کے کہنا باطل ہے نوٹ والے کی طرف سے تو نوٹ ہے،روپیہ ایك بھی نہیں نہ کم نہ زائد۔ہاں یوں کہے کہ کم روپیوں کا مال دے کر زیادہ روپے حاصل کرنا،۔ہاں یہ بیشك مقصود ہے پھر اس میں کیا گناہ ہے دنیا بھر کی تجارتیں اسی لئے ہوتی ہیں آپ خود جلد ۳ میں بحرالرائق سے نقل کرچکے ہیں کہ مطلقًا زیادتی بالاجماع حرام نہیں،تمام جہاں میں بازار اسی لئے کھولے گئے ہیں کہ زیادتی ملے نفع حاصل ہو۔

ثانیًا: آپ کی"علاوہ ازیں"کہہ رہی ہے کہ اب ربا وشبہہ ربا دونوں سے قطع نظر فرماکر یہ تیسر ا پہلو لیا ہے کہ اگرچہ یہاں ربا سے کچھ علاقہ نہ ہو،ربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہ ہو،مگر اس نے زیادہ ملنے کا حیلہ کیا اس لئے (زبردستی)حرام ہے،اب فرمائیے اگر زید عمرو سے سو روپے قرض مانگے عمرو کا غذ کا ایك سادہ پرچہ اس کے ہاتھ مثلًا سال بھر کے وعدہ پر یا نقد پچیس روپے کو بیچے وہ قبول کرلے پھر عمرو سو روپے زید کو قرض دے اور قرض کے بدلے سو ہی لے پچیس اپنے اس کاغذ کے جدا لازم کرے تو اس میں حرمت کدھر سے آئے گی آیا اس لئے کہ کاغذ کا سادہ پرچہ پچیس روپے کو بیچا،تو آپ تو ابھی فرمانے والے ہیں کہ سادہ پرچہ ہزار روپیہ کو بیچنا جائز ہے پچیس کو کیوں حرام ہوا،یا اس لئے کہ اس نے اس فعل سے نفع حاصل کرنا چاہا تو وہ صورت بتائیے کہ کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچے اور نفع لینانہ ہو،یا اس لئے کہ قرض پر نفع لیتا ہے قرض میں تو وہ پورے سو کے سولے رہا ہے اس پر نفع کہاں،یا اسلئے کہ یہ نفع بسبب قرض ہے تو قرض تو اس وقت تك دیا بھی نہیں سبب کہاں سے متحقق ہوا،یا اس لئے کہ ان کے دل میں تو آئندہ قرض لینے دینے کی نیت ہے تو اس کا ثبوت شرع سے دیجئے کہ آئندہ سال قرض کا لین دین ہونے والا ہو تو آج بیع پر نفع لینا حرام ہوجائے وہ بیع کہ بلا شبہہ حلال تھی حکم تحریم پائے،حالانکہ یہاں تو آیندہ لین دین ہونا بھی معلوم نہیں آئندہ غیب ہے اور غیب مجہول او رانسانی ارادہ ممکن التخلف نکاح میں کہے کہ میں نے تجھے مہینہ بھر یا دس برس بلکہ سو برس کے لئے اپنے نکاح میں لیا تو ناجائز وحرام،اور اگر نکاح کرے اور ارادہ صرف مہینہ بھر یا ایك ہی دن رکھنے کا ہو تو بیشك حلال۔

ثالثًا: صٖحفہ ۱۹۴ پر وہ تصریحات ائمہ کرام مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام شمس الائمہ زر نجری و امام بکر خواہر زادہ و بحرالرائق وردالمحتار وغیرہا یا د کیجئے کہ پہلے بیع کرکے پھر قرض کا لین دین کریں تو ہمارے ائمہ مذہب امام اعظم،امام ابویوسف اور امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سب کے نزدیك بالاتفاق بلا کراہت جائز وحلال ہےکہئے یہ کیوں حلال ہوا،ظاہر ہے کہ یہ معاملہ اس نے زیادہ لینے ہی کے لئے بطور حیلہ کیا۔

رابعًا:اپنی یاد کیجئے جلد دوم فتوٰی نمبری ۴۴ میں حکم تھا کہ گیہوں قرضوں نرخ بازار سے کم کو بیچنا جائز ہے،اس پر سائل نے شبہہ کیا تھا کہ یہاں ربا نہیں تو شبہہ تو ہے اور شبہہ بھی مثل حقیقت حرام۔اس کا آپ نے جواب فرمایا کہ"خدشہ ربا کا یوں مدفوع ہے کہ گندم وغیرہ اقسام غلہ بعوض دراہم و دنانیر کے فروخت کرنے میں ربا نہیں ہے اور نہ شبہہ ربا،اگر دو سیر گیہوں کہ بازار میں مثلًا دو آنے کو ملتا ہے کوئی شخص بعوض ایك روپیہ نقد بیچے تو بھی درست ہے ایسے ہی اگر نسیہ میں قیمت بڑھائے اور مشتری راضی ہوجائے تب بھی درست ہے"[1]

اقول:یہ"اب بھی تب بھی"فقط اٹھ گنی قیمت تك حلال ہے یا بلا قید۔بر تقدیر اول کیا دلیل شرعی ہے کہ ۲ / کے گیہوں ایك روپے کو بیچنا حلال اور دو یا دس یا سو کو حرام۔چو آب از سر گزشت چہ یك نیزہ چہ یك دست(جب پانی سر سے گزرگیا تو کیا ایك نیزہ اور کیا ایك ہاتھ،یعنی دونوں برابر ہیں۔ت)برتقدیر ثانی ہر عاقل جانتا ہے کہ کوئی ذی عقل دوآنے کے گیہوں سو روپے بلکہ انصافًا ایك روپے کو بھی ہر گز خریدنے نہ بیٹھے گا جب تك کوئی دباؤ نہ ہو اوربیچنے والا۲/کا مال دے کر سو روپے لینے میں ضرور براہ حیلہ زیادہ ستانی ہی چاہے گا،پھر ربا و شبہہ ربانہ سہی جیسا کہ اب آپ کو اس تیسرے پہلو پر نوٹ میں بھی ملحوظ نہیں مگر معاملہ حیلہ کے سبب حکم حرمت آنا لازم تھا۔

خامسًا:(۸۰تا۸۵)وہ چھ حیلے یاد کیجئے جو ائمہ کرام نے ارشاد فرمائے اور رسالہ ص۱۷۰سے ۱۷۴ تك گزرے یہاں ارتکاب حیلہ سے حکم حلت کیسے ہوگیا۔

سادسًا: یہی چھ کیا ہزار حیل ہیں جن کی تصریحات جلیلہ کلمات ائمہ میں مذکور اگر ان کو جمع کیجئے تو آپ کی اس جلد بھر سے زیادہ ہونگے سر دست عالمگیری کی کتاب الحیل ہی ملاحظہ وہ کہ ساری کتاب کی کتاب اسی میں ہے۔

سابعًا:آپ خود اپنی ہی نہ کہئے،سید ناامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مؤطا میں روایت فرمائی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:"خرما خرما برابر کرکے بیچو"۔اس پر عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! خیبر پرحضورکے صوبہ دار تو دو صاع کو ایك صاع لیتے ہیں،ارشاد ہوا:انہیں بلاؤ۔وہ حاضر ہوئے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:ایسا نہ کرو۔عرض کیا: یا رسول اللہ!وہ قسم جمع کی دو ہی صاع کو جنیب کی ایك صاع بیچتے ہیں یعنی برابر کو مل ہی نہیں سکتی،رسول اللہ صلیﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:

بع الجمع بالدراہم ثم ابتع بالدراہم جنیبا [2]۔

یہ قسم(جمع)روپوں سے بیچ کر وہ قسم(جنیب)روپوں سے خریدلے۔

اس پر آپ حاشیہ لکھتے ہیں:

علمہ صورۃ لاتدخل فیہ الربا مع حصول المقصود [3]۔

رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کو وہ صورت سکھا دی جس میں ربانہ آنے پائے اور مطلب حاصل ہوجائے۔

جناب من ! اسی کا نام تو حیلہ شرعیہ ہے پھر اس سے حکم حلت نہ ہو سکنا کیا معنی،کیا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہ بات بتارہے ہیں جس سے حلت نہ حاصل ہو حرام کا حرام رہے،والعیاذ باللہ تعالٰی۔

 



[1]         مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۱

[2]         المؤطا للامام محمد باب الربوٰ فیمایکال ویؤ زن نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۵۴۔۳۵۳

[3]         التعلیق الممجد علی مؤ طا محمد باب الربوٰ فیمایکال ویؤ زن نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن