دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اسی کو میں نے ان صحیح و مختصر الفاظ سے تعبیر کیاکہ عمومًا اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے میں نے امر سوم میں جو اس کا رد کیا تھا کہ اس سے ثمن اصطلاحی ہو ا نہ خلقی اس کا جواب غائب۔

ثالثًا:اس پر دوسری دلیل بھی وہی وہم والی لائے جسے بیگھیوں میں پھیلایا اور بات اتنی ہی ہے جو میں نے لکھی کہ لین دین میں سو کانوٹ اور سو روپے میں تفاوت نہیں سمجھا جاتا اور میں نے امر چہارم میں جو اس کا رد کیا کہ عرف نے اسے ثمن بنایا اور اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوگا لہٰذا اس نوٹ کا اندازہ سو سے کیا اور سو روپے کی جگہ کام آیا جیسے سولہ آنو ں کا اندازہ روپے سے کیا اور روپے کی جگہ کام آئے نہ یہ کہ نوٹ یا پیسے روپے کا عین ہوگئے اس کا جواب غائب۔

رابعًا:امر پنچم میں جو میں نے ایك عظیم قاہر رد کی طرف اشارہ کیا تھا جو سب کچھ مسلم ٹھہرکر لگی نہ رکھی جس کا بیان ابھی صفحہ ۱۳۴ میں گزرا اور جس پر نصوص جلیلہ کتب مذہب اور خود قرآن عظیم واحادیث نبی کریم علیہ و علٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم شاہد اس کا جواب غائب۔

خامسًا:تین امر باقی کہ میں نے اسی امر پنچم کے نظائر دکھائے تھے ان میں بھی امر پنچم یعنی روپے اشرفی کی کری مثال کا جواب غائب،اور ہفتم کے جواب کی خدمت گزاری سن چکے اور ششم کا جو مزہ دار جواب سب میں آخر میں دیا ہے اس کا لطف ان شاء اللہ تعالٰی عنقریب اٹھائیے گا،غرض آٹھ باتوں میں پانچ کا جواب کچھ نہ دیا اور تین کا جواب وہ دیا کہ نہ دینا اس سے ہزار جگہ بہتر تھا۔

الحمد ﷲ اہل انصاف ملا حظہ فرمائیں گستاخی معاف وہ اجلہ اکابر فضلاء کہ ائمہ مجتہدین عظام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اقوال کو پرکھنے کا ادعارکھیں کہ قال ابوحنیفۃ کذا والحق کذا(ابوحنیفہ نے یوں کہا اور حق یوں ہے)"استدلو ا لابی حنیفۃ بوجوہ والکل باطل(ابوحنیفہ کے لئے متعدد دلائل بیان کئے گئے اور سب باطل ہیں)"ھھنا وھم اٰخر لصاحب الکتاب"(یہاں اس کتاب والے(یعنی سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کاایك اور وہم ہے)ایسے گرانمایہ اجتہاد پایہ حضرات کسی مسئلہ میں ابوحنیفہ کے گدایان در کے غلامان غلام کے خاك پاکے زلہ رباؤں کے ادنٰی خوشہ چیں سے خلاف کریں تو اپنے لئے دلیل اسی سے سیکھ کر لکھیں اور وہ بھی جس رو ش پر اس نے ادا کی ادا نہ کرسکیں پھر اس نے جو اس کے جواب دیئے ان سے عہدہ بر آنہ ہوں،اس کے کلام کے مقاصد و فوائد تك نہ پہنچیں اکثر سے سکوت کریں اور بعض کا جواب محض ناصواب دیں،طولانی تقریر فرمائیں جس کا فقرہ فقرہ جملہ جملہ والکل باطل(اور سب باطل ہے۔ت)کے گہرے رنگ میں رنگا ہوا ایك ایك لفظ ایك حرف پرھٰھنا وھم آخر(یہاں ایك اور وہم ہے۔ت)کا ویرا پڑا ہو یہ امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ مالك الازمہ نائل العلم

من الثریا ابوحنیفہ اور ان کے چھوٹے بیٹے امام ربانی محرر المذہب محمد بن الحسن شیبانی رضی ا ﷲ تعالٰی عنہما کی کرامت نہیں توکیا ہے۔حاشا میں اس سے مولوی صاحب کی کسر شان نہیں چاہتا،وہ ایك وسیع الباع طویل الذراع فاضل طباع ہیں او رفقیر حقیر ایك غریب طالب علم قاصر القدرۃ قلیل المقدار اپنے مولائے کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی بشارت عظیم فطو باللغرباء (غریبوں کے لئے خوشخبری ہے۔ت)کا بلا استحقاق محض ان کے فضل سے امید وار،بلکہ مقصود اپنے ائمہ کرامت عالیہ کا اظہار ہے وبس،الٰہی ! تیری بے شمار رضائیں ابوحنیفہ پر اور ان سب پر جو عقائد میں ان کے موافق ہو کر اعمال میں ان کے مقلد ہیں، یونہی بقیہ ائمہ مجتہدین کرام اور ان کے ایسے ہی مقلدوں پر تار وز قیام وعلٰی حبیبنا وشفیعنا افضل الصلٰوۃ والسلام(ہمارے حبیب اور شفاعت فرمانے والے پر بہترین درود سلام ہو۔ت)

تنبیہ:اتنا ملحوظ رہے کہ میدان بحمد اللہ تعالٰی ہمارے ہاتھ ہے مقاصد بحث پر ہمارے سب اعتراض حق ولا جواب ہیں اور بعض کے بیان مولوی صاحب پر ہیں اگر اہل تاویل تبدیل وتحویل کریں تو بعد ورود اعتراض تسلیم اعتراض ہے،کاش مولوی صاحب اس شبہہ کا بیان ہم سے کرالیتے تو بہت بادی چھنٹ جاتی اور ہمارے قلم کو بھی آرام ملتا کہ رد میں ایك مختصر ساکلام ہوتااور کوئی آپ کو یہ بھی نہ کہتا کہ کہا اور کہہ نہ جانا مگر مولوی صاحب کی عنایات نے وسعت دکھائی کہ یہاں تك نوبت آئی بہر حال ہمیں ہر طرح نفع ہے وﷲالحمد۔

تسجیل جلیل:چلتے وقت سب سے بھاری خود اپنی دھوم دھامی گواہی لیتے جائیے کہ نوٹ اور روپوں میں ربا ممکن ہی نہیں آپ کے فتاوٰی کی تیسری جلد جس کے سوالات خود آپ نے پیدا کرکے انکے جواب لکھے اور ان میں دو جلدیں پیشین کے اغلاط کی جا بجا اصلاح کی،جیساکہ ناظرین پر مخفی نہیں اسی کے باب الربا کا پہلا سوال وجواب دیکھئے جس میں آپ نے ربا کی تعریف لکھی اور دل ہی دل میں انصاف کرلیجئے کہ یہ تعریف مسئلہ نوٹ میں کیونکر صادق آسکتی ہے،آپ فرماتے ہیں:

سوال:ربا چیست ؟

جواب:فضل احدالمتجا نسین کیلًا یا وزنًا بردیگرے درمعاوضہ مالیہ بلا عوض،دربحرالرائق آورد ولیس المراد مطلق الفضل بالاجماع فان فتح الاسواق فی سائر بلاد المسلمین للاستفضال والاسترباح وانما المراد فضل مخصوص سوال:سود کیا ہے؟

جواب:مالی معاوضہ میں دوہم جنس چیزوں سے ایك کی کیل یا وزن کے اعتبار سے دوسری پر بلا عوض زیادتی۔بحرالرائق میں وارد ہے کہ مطلق زیادتی بالاجماع مرا دنہیں کیونکہ تمام مسلم ممالك میں بازاروں اور منڈیوں کا کھلنا زیادتی اور نفع کے حصول کےلئے ہوتا ہے بلکہ بیشك مخصوص زیادتی وھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال ای فضل احد المتجانس علی الاٰخر بالمعیار الشرعی ای الکیل و الوزن[1]،انتہی۔

مراد ہے اور وہ مال کے عوض مال میں بلا عوض مالی اضافہ اور زیادتی ہے یعنی دوہم جنس چیزوں میں سے ایك کی دوسری پر زیادتی معیار شرعی یعنی کیل ووزن کے ساتھ،انتہی۔(ت)

دیکھئے کیسی کھلی تصریح ہے کہ ہر زیادت سو دنہیں،بازار کھلے ہی اس لئے ہیں کہ زیادت ملے نفع ہاتھ لگے بلکہ سود ہونے کو ضرور ہے کہ دو متحد الجنس چیزوں میں کہ دونوں وزنی یا دونوں کیلی ہوں کہ تول یا ناپ سے بکتی ہوں ایك دوسری سے خاص اسی ناپ یا وزن میں زائد ہو اس کے سوا کسی اور بات میں زیادتی کایہاں لحاظ نہیں،بیشك ہمارے علماء کے اجماع سے ربا کی یہی تعریف ہے شکر ہے کہ اس کے آپ مقر ہوئے اور والکل باطل(اور سب باطل ہے۔ت)نہ فرما دیا مگر اس اقرار نے اس تقریر کو والکل باطل(اور سب باطل



[1]         مجموعہ فتاوٰی باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۹۴،۹۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن