دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

حقیقت میں نوٹ صرف ایك چھپے ہوئے کاغذکا نام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اس لئے ہر جگہ روپے کا کام دیتا ہے لین دین میں سو روپے کا نوٹ دینے اور سو روپے دینے میں ہر گز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عمومًا اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو گویا وہ سو روپے تھے کہ بعوض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہہ نہیں تو صورت مستفسرہ میں حکم تحریر دینا چاہئے"۔دیکھئے اسی وہم کو مولوی صاحب نے اخذ کیا اور دلیل بنایا جس مضمون کو میں نے چار پانچ سطر میں ادا کیا تھا مولوی صاحب نے اسی کو

صفحہ بھر میں پھیلا یا مگر افسوس کہ پھربھی ویسا ادا نہ ہوسکا،اولًا:مولوی صاحب نے ثمن خلقی سے عینیت لی جس کے تحت میں اجناس داخل،اور اس کے سبب جو اعتراضات ہوئے آپ نے سنے میں نے ابتداءً ہی روپے کی تخصیص کی کہ گویا وہ بعینہ روپیہ ہے۔

ثانیًا:مولوی صاحب نے عینیت فی الواقع ثابت مان لی کہ بار بار فرمایا"عین ثمن سمجھا جاتا ہے"فرمایا"عین ثمن خلقی ہے"اس پر جو اعتراضات قاہرہ وارد ہوئے ناظرین کے پیش نظر ہیں فقیر نے انہیں کے انسداد کو لفظ گویا زائد کردیا تھا"گویا بعینہ روپیہ ہے،گویا وہ سوروپے تھے"۔

ثالثًا:ولوی صاحب نے اہل عرف کے سر یہ تھوپاکہ نوٹ عرفًا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا جس کا رد سن چکے،میں نے اسے ان لفظوں میں ادا کیا تھا کہ"عمومًا اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے"جس سے وہ اعتراض کہ بربنائے لفظ احکام واردہے وارد نہ ہوا،ہاں میں نے غیر فقیہ کےلئے بی یہ وہم پسند نہ کیا تھا کہ نوٹ بیچنے میں اس کی قیمت لینی مقصود نہیں ہوتی بلکہ سو روپے بیچنا اور روپیوں کی قیمت لینا منظور ہوتا ہے یہ خاص مولوی صاحب کا حصہ ہے اس کے اعتبار سے ان کا ما سنح لی فرمانا بجا ہے لکل ساقطۃ لاقطۃ(ہر گری پڑی شیئ کو کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے۔ت)اب جواب کی طرف چلئے،فقیر نے دفع دخل کے لئے وہ وہم ذکر کرکے لکھا"مگرجسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیك اس وہم کا ازالہ نہایت آسان ہے"(پھر مال کی چاورں قسمیں جورسالہ کے ص۱۳۳ سے۱۳۷تك گزریں بیان کرکے لکھا"نوٹ کے ساتھ اگر معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو غایت درجہ قسم رابع سے قرار پائے گا کہ اصل خلقت میں سلع ہے مگر بسبب تعارف ثمن ٹھہراہوا ہے اور ازانجا کہ اثمان اصلیہ سوا سیم وزر کے کچھ نہیں لہٰذا اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں تو ناچار اس کی تقدیر اثمان خلیقہ ہی سے کریں گے اس لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفًا ثمن کرنا چاہا اس کے اندازہ میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں ٹھہرایا گیا کہ فلاں نوٹ سو روپے کا فلاں دو سو کا فلاں ہزار کا،مگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس و قدر ہر گز لاز نہیں آتا جیسے اندازہ فلس سے چونسٹھ پیسے کا عین نہ ہوگئے یونہی اس قرار داد سے وہ نوٹ حقیقۃً سو روپے یا چاندی نہ ہوجائے گا پس علت ربا کا تحقق ممکن نہیں،باقی رہا عرف و اصطلاح اس کا اتباع عاقدین پر بایں معنی ضرور نہیں کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی ہے یہ اس سے کم و بیش نہ کرسکیں،یہ دونوں اپنے معاملہ میں مختار ہیں چاہے سو روپے کی چیز ایك پیسے کو بیچ ڈالیں یا ہزار اشرفی کو خریدلیں صرف تراضی درکار ہے و بس۔ امام علامہ محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:

لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ [1]الخ۔

اگر کسی نے ایك کاغذ ہزار کا بیچا تو بلا کراہت جائز ہے۔الخ (ت)

آخر نہ دیکھا ایك روپے کے پیسے بتعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچنا روارکھا اور سب جانتے ہیں کہ ایك اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہاء نے ایك روپے کے عوض ایك اشرفی خریدنا جائز ٹھہرایا تو وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں رہتا،(پھر ان مسائل کے ثبوت میں درمختار کی عبارتیں لکھ کر کہا"جب یہاں تك شرعًا جائزرہا تو سوروپے کا نوٹ ننانوے کے عوض خریدنے میں کیا حرج ہوسکتا ہے کہ یہاں نہ تو قدر متحد نہ جنس واحد الی اٰخرہ"۔یہ ہے بحمد اللہ تعالٰی وہ نفیس منیر تقریر کہ بنگاہ اولیں قلب فقیر پر فیض قدیر سے فائز ہوئی تمام رسالہ گویا اسی کی شرح اسی کے اجمال کی تفصیل ہے والحمدﷲ رب العالمین میرے بیان کا حاصل چند امر تھے:

(۱)نوٹ اور روپے ایك جنس نہیں۔

(۲)ان میں قدر مشترك نہیں۔

(۳)نوٹ کے ساتھ اہل عرف کا معاملہ اثمان برتنا اسے اصطلاحی کرے گا نہ کہ خلقی۔

(۴)روپیوں سے اندازہ قیمت نے اسے روپے نہ کردیا ہر اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوتا ہے جیسے پیسے۔

(۵)اصطلاح کی پیروی عاقدین پر نہیں وہ اپنی تراضی سے جو چاہیں کم و بیش کریں۔

(۶)علماء نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے کو بیچنا جائز فرمایا۔

(۷)پیسوں میں اصطلاح عام کی مخالفت جائز فرمائی۔

(۸)خود ثمن خلقی روپے اشرفی میں مخالفت عرف عام کی اجازت دی کہ ایك روپیہ ایك اشرفی کو بیچیں۔

مولوی صاحب نے اولا یکم کے جواب کو وہی وہم سیکھا جسے لفظ گویا اڑاکر بالکل کھویا،مگر دوم سے کچھ تعرض نہ کیا یا شاید اپنے زعم میں عینیت عرفیہ فی الاحکام کہتے کہتے عینیت حقیقیہ فی الاجسام سمجھ لئے ہوں یعنی ہم نے کاغذ کو پیٹ پاٹ کر چاندی سونا کردیا پھر اتحاد قدر کیوں نہ ہوگا کہ شے اپنے نفس سے مختلف نہیں ہوسکتی۔

ثانیًا: ادعائے عینیت پر وہی وہم والی ایك دلیل لائے کہ نوٹ عرفًا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا اور آخر فتوے میں اتنا اور بڑھائیں گے کہ اور تمام مقاصد ثمن خلقی کے اس کے ساتھ متعلق ہوئے

 

 



[1]         فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن