دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اعمال نیتوں پر ہیں اور ہر شخص اور اس کی نیت اس سے کیا ثابت ہوا کہ نوٹ عرفًا جمیع احکام میں ثمن خلقی کا عین ہیں ہاں یہ کہئے کہ جب اہل عرف نے دیدہ و دانستہ کاغذکوکاغذ،سیم و زر کو سیم و زر سمجھتے ہوئے نیت کرلی کہ یہ کاغذ جمیع احکام میں سونے چاند ی کا عین ہے تو ان کے حق میں عین ہوگیا کہ اعمال نیت پر ہیں اور ہرشخص اور اس کی نیت۔

اقول:نوٹ کا بعینہ سونا چاندی ہونا کوئی عمل نہیں،بیع وشراء وغیرہ معاملات عمل ہیں اور نوٹ ان کا محل اور محل تابع نیت نہیں ورنہ عندیہ کا مذہب لازم آئے زوجہ میں ماں ہونے کی نیت اسے حرام ابدی کردے حالانکہ بنص قطعی قرآن اسے ماں کہنے کی صریح تصریح بھی حرام نہیں کرتی صرف یہ قول باطل و گناہ ہوتا ہے۔

قال تعالٰی" اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْؕ-اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ- وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ(۲) "[1]۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا:تم میں جو اپنی عورتوں کو اپنی ماں کہیں وہ ان کی ماں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بیشك ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشك اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

اور عکس کی نیت او بھی شنیع و ناپاك تر ہے یوں ہی اگر بفرض غلط تسلیم کرلیا جائے کہ اہل عرف نے نیت کرلی کہ نوٹ بعینہ ثمن خلقی اور بذاتہ سونا چاندی ہے تو ان کی نیت سے نہ وہ کاغذ سے سونا چاندی ہوجائے گا نہ اصطلاحی سے خلقی،ان کا اختیار اصطلاح تك ہے تو اس سے ثمن اصطلاحی ہوگا،نہ خلق وآفرینش پر کہ ثمن خلقی ہوجائے۔" لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ "[2](اللہ تعالٰی کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ت)پھر فرمائیے حدیث کو یہاں کیا علاقہ ہوا۔قولہ ولکل امرئ مانوی[3] (ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت) 

اقول:الحمدﷲ حدیث کایہ جملہ تو ہمیں کو مفید ہے آپ کی خاطر سے پہلا باطل یہ تسلیم کرلیں کہ اہل عرف نے وضو کرکے نیت باندھ لی ہے کہ نوٹ بعینہ سونا چاندی ہے دوسرا اس سے بڑھ کر اشد باطل __________یہ مان لیں کہ دیدہ و دانستہ ان کی اس غلط نیت سے شرع نے بھی ان کے حق میں اسے سونا چاندی کردیا،تیسرا باطل یہ اوڑھ لیں کہ شر ع نے اسے سونا چاندی مان کر خود سونے چاندی میں جو حکم شرعی تھا کہ تفاضل وزن میں حرام ہے نہ کہ مالیت میں،اس زبردستی کے سونے چاندی میں اسے بالکل پلٹ دیا کہ اس میں تفاضل مالیت میں حرام ہے نہ کہ وزن میں،اب تو بالکل سب گھڑتیں آپ کی من مانتی مان لیں مگر الحمد اللہ یہ حدیث بتارہی ہے کہ اب بھی دس روپے کا نوٹ زید وعمرو باہم سوروپے کو بچیں مول لیں خواہ ایك روپیہ کو سب حلال جناب من! جب یہاں تفاضل کا مبنی مالیت پر ٹھہرا اور نوٹ کی یہ مالیت بھی خلقی نہیں محض اصطلاحی ہے آپ خود فرماچکے ہیں کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں تو اہل عرف ہی کی اصطلاح و نیت نے اسے دس روپے کا کردیا اور ان کی اصطلاح و نیت ان دونوں عاقدوں پر حاکم نہیں انہیں اپنی جدا اصطلاح و نیت کا اختیار ہے آپ خود حدیث نقل کرتے ہیں:لکل امرئ مانوی[4] (اور ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)ہر شخص کے حق میں اس کی نیت کا اعتبار ہے، نیز رسالہ کا صفحہ ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷،۱۵۸،۱۵۹،۱۳۴،۱۶۴،۱۶۵ملاحظہ ہو،تو جب زید و عمرونے اپنے معاملہ میں اس اختیار کی بناء پر جو شرع مطہر نے ان کو دیا اصطلاح عام کی پیروی نہ کی بلکہ اس سے عدول کرکے جو نوٹ عرف عام نے دس روپے کا ٹھہرایا تھا سو روپے یا ایك ہی روپیہ کا قرار دیا ان پر اصلًا اس میں مواخذہ نہیں،نہ زنہار مالیت میں کچھ تفاضل ہوا کہ مالیت بربنائے اصطلاح تھی،ان کے حق میں وہی مالیت ہے جو انہوں نے باہم قرار دے لی اس لئے کہ لکل امرئ مانوی [5](ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)ہر شخص اور اس کی نیت حدیث سے اچھا استدلال کرنے چلے کہ اور لینے کے دینے پڑگئے۔

لطیفہ جلیلہ:یہ چمکتی ہوئی دلیل جسے مولوی صاحب ے گل سر سبد بنایا اور آخر میں ھذا سنح لی [6](یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ت)فرمایا یعنی یہ وہ ہے جو اچانك میرے خیال میں آیا مولوی صاحب کی انی سعی بازو نہیں بلکہ اسی فقیر بارگاہ قدیر غفرلہ کے فتوی سے اخذ کی ہے تیس برس ہوئے فقیر کے پاس اس کاسوال آیا تھا کہ نوٹ پر بٹا لگانا مثلًا سو روپے کا نوٹ ننانوے میں خرید لینا جائزہے یا نہیں،فقیر نے نظر فقہی کا مقتضٰی جواز بتایا اور تنویر الابصاورعامہ کتب سے اس پر استدلال کیا،میرا یہ فتوٰی مولوی صاحب کے یہاں پہنچا جسے انہوں نے اپنے مجموعہ فتاوٰی میں درج کیا کہ اس کی جلد دوم میں میں فتوٰی حامی سنت جناب مولٰنا مولوی محمد ارشادحسین صاحب رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ طبع ہوا اور وہیں سے مجھے ملا کہ اس وقت تك مجھے اپنے فتاوے رکھنے کا التزام نہ تھا اور اسی سے حضرت فاضل رامپوری کا فتوٰی معلوم ہوا جس پر مجموعہ فتاوٰی مولوی لکھنوی صاحب میں نمبر۱۲۳ہے اور میر فتوٰی نمبر ۱۲۴ ہے،دونوں میں حکم جواز ہے،پھر ایك چار سطری فتوٰی بعض علمائے مدراس کا نمبری ۱۲۵ ہے اس میں بھی جواز ہی کا حکم ہے اس کے متصل نمبر ۱۲۶ میں مولوی صاحب کا یہ فتوٰی ہے جس میں انہوں نے فتوی فقیر کے بعض کلموں سے تعرض کیا اور باقی کا کچھ جواب نہ دیا، میں نے اس بنا پر کہ نوٹ بہت جدید حاد ث ہے کتب فقہیہ میں اس کا ذکر مصرح نہیں مگر تمام کتب کاضابطہ کلیہ حکم جواز بتارہا ہے حکم لکھ کر اوہام کا جواب دے کر آخر میں ماظہر لی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ہوا،اور اللہ سبحانہ،وتعالٰی بہتر جانتا ہے۔ت)مولوی صاحب نے اس بنا پر کہ میرا کا کوئی جواب کتاب سے نہ دے سکے اپنے مخیلات پر عامل ہوئے آخر میں ھذا ماسنح لی واللہ اعلم بالصواب [7](یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اللہ سبحنہ اللہ تعالٰی علیہ بہتر جانتا ہے۔ت)لکھا یہ دلیل کہ مولوی صاحب کی معتمد ہوئی فقیر نے پہلے ہی اپنے فتوٰی میں بنام وہم لکھ کر رد کردی تھی مولوی صاحب نے دلیل تو اٹھالی اور رد کے جواب سے عہدہ برآئی نہ کی میرے فتوٰی میں بعد بیان حکم و عبارت کتب تھا"مسئلہ کاجواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو ایسی جگہ یہ وہم گزرتا ہے کہ ہر چند اصل



[1]        القرآن الکریم ۵۸/ ۲

[2]        القرآن الکریم ۳۰ /۳۰

[3]        مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷

[4]          صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲

[5]         صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲

[6]         محموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸

[7]         مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن