30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا:ساری کوشش اتحاد جنس کی طرف تو مبذول فرمائی اتحاد قدر کی شرط کہاں بھلائی نرے اتحاد جنس سے تفاضل حرام نہیں ہوجاتا اتحاد قدر بھی تو لازم ہے نوٹ کے سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے نہ موزون بلکہ معدود ہے تو بہزار خرابی اگر اتحاد جنس کا چاك رفو بھی ہوجائے تو اتحاد قدر کا پیوند کدھر سے آئے گا تفاضل تو اب بھی حلال رہا۔
رابعًا:رسالہ نے ص۱۴۷ سے ص۱۵۷ تك دلیل قاہرہ سے ثبوت دے دیا کہ نوٹ روپیوں کے عوض ادھار بیچناجائز ہے اگر قدر یا جنس کوئی بھی ایك ہوتی تو نسیہ حرام ہوتا تو ثابت ہوا کہ یہاں اصلًا کچھ متحد نہیں۔
قولہ پس تفاضل بیع فلوس میں جائز ہونے سے یہ نہیں لکازم کہ نوٹ بھی جائز ہوجائے کیونکہ پیسے غیر جنس ثمن ہیں حقیقۃً بھی اور عرفًا بھی،گوبوجہ اصطلاح اور عرف کے اس میں صفت ثنیت کی آگئی ہو [1]۔
اقول اولًا: یہ دوسری"پس"اسی پس پیشین کی پس روہےجسے پیشتر پسپا کردیا گیا الشجرۃ تنبئی عن الثمرۃ(درخت پھل کی خبر دیتا ہے۔ت)
ثانیًا:بعینہ یہی حال نوٹ کا ہے ولکن لاتعلمون(لیکن تم نہیں جانتے۔ت)
ثالثًا:روپے اور اشرفی کا مسئلہ کہاں بھولے صفحہ ۱۶۳ دیکھئے ایك اشرفی کو ایك روپیہ بیچنا قطعًا درست ہے حالانکہ وہ تو دونوں یقینا جنس ثمن ہیں حقیقۃً بھی اور عرفًا بھی،اگرکہئے وہ جس ثمن ضرور ہیں مگر باہم تو متباین نوعین ہیں اقول:یونہی نوٹ بھی،کون عاقل کہے گا کہ روپیہ اوراشرفی دو چیزیں جدا ہیں مگر اشرفی اور نوٹ ایك ہی چیز ہے اور تفصیل تحقیق یہ ہے کہ ثمن ایك جنس ہے جس کے تحت دو جنسیں ہی،خلقی،اصطلاحی،اصطلاحی کی نوعیں نوٹ،پیسے کوڑیاں،اور خلقی پھر ایك جنس ہے جس کے نیچے دو جنسین ہیں،سونا،چاندی۔شرع میں جنس وہ کلی ہے جس کے افراد مختلفۃ الاغراض ہوں،ظاہر ہے کہ روپے یا اشرفی کی غرض اور ہے،اور سونے چاندی کے گہنے کی اور برتنوں کی اور،گوٹے پٹھے کندلے کی اور،تونوٹ کہ نوع حقیقی ہے جس کے سبب افراد متفقۃ الاغراض ہیں کسی جنس کا بھی عین نہیں ہوسکتا کہ اتفاق و اختلاف متباین ہیں نہ کہ جنس الجنس کا او دخول تحت الجنس کا حال اوپر گزرا۔
رابعًا:جانے دیجئے ثمن خلقی کی نوع سے ہی اتحاد سہی تو دو نوع متباین سے تو متحد نہیں ہوسکتا ورنہ مباین باہم متحد ہوجائیں گے اور شیئ اپنے نفس کی مباین ہوگی ناچار ایك سے اتحاد مانئے گا اور وہ نہیں مگر روپیہ کہ آپ دس کا نوٹ بارہ روپے کو بیچنا حرام کررہے ہیں تو اشرفی سے یقینا متحد نہ ہو گا اب دس روپے کا نوٹ ہزار اشرفی کو بیچنا حلال کیجئے او ر دوانی اوپر دس روپے کو بیچنا حرام،دنیا میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی عجیب فتوٰی ہوگا۔دیکھئے رسالہ کا صفحہ ۱۸۸: قولہ پس ہر گاہ نوٹ عرفًا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا[2]۔
اقول اولًا: اغراض کہئے کہ یہی اہل عرف کے ہاتھ میں ہیں نہ کہ احکام شرعیہ جو نہ ان کے ہاتھ میں ہیں نہ ان کے اکثر کو معلوم،نہ ان کی طرف انہیں التفات بلکہ اکثر کو ان پر ایمان بھی نہیں تو احکام شرعیہ میں اہل عرف کا اسے عین سمجھنا محض کذب اور اپنی اغراض میں یکساں جاننا احکام شرعیہ میں اتحاد کو مستلزم نہیں اور بقیہ کلام رد قول اول میں گزرا۔
ثانیًا:جیسی عینیت آپ یہاں بتاسکتے ہیں بیعینہا ویسی ہی اکنیون اور پیسوں کو دوانی چوانی اٹھنی سے ہے وہاں تفاضل کیوں جائز ہوا۔
ثالثًا: روپے اشرفیاں تو خود عین ثمن خلقی ہیں کسی کے سمجھنے پر موقوف نہیں ان میں کیونکہ درست ہوا۔
قولہ:باب تفاضل میں اسی بنا پرحکم دیا جائے گا اور تفاضل اس میں حرام ہوگا[3]۔
اقول اولًا: یہاں آکر اس تیسری"پس"کا خاتمہ ہوا ور پہلی دلیل نے دم توڑا مگر یہ"پس"پسینہ تو سب پسہائے پشیینہ سے علاقہ بہ عقل میں پس اور وضوح بطلان بطلان میں پیش ہے سب خرابیاں اوڑھ کر فرض کرلیجئیے کہ ہان تفاضل حرام ہوا تو وہ تفاضل تو حرام ہوگا جو ثمن خلقی میں حرام تھا جس کا اسے عین سمجھا گیا یا دلیلل لاتے وقت تك عینیت تھی اور نتیجہ دیتے وقت غیر یت کا یا پلٹ ہوکر کوئی نیا حکم نکالے گی جوثمن خلقی میں اصلا نہیں آخر اس بنا پر تو حکم لگاتے تھے کہ نوٹ ثمن خلقی کا عین ہے تو وہی حکم لازم ہوگا جو ثمن خلقی میں تھا،نہ اس کاغیر کہ حکم لازم شیئ ہوتا ہے اور تغیر لازم نافی عینیت ملزوم،اب دیکھ لیجئے کہ ثم خلقی میں کون سا تفاضل حرام ہے قدر میں یعنی کانٹے کی تول وزن میں برابر ہونا لازم اگر چہ مالیت میں کتنا ہی فرق ہو،اب جو آپ سو روپے کا نوٹ سو روپے کو بیچنا حلال کررہے ہیں اپنے طور پر یقینا سود حلال کررہے ہیں کہ سو کا نوٹ کبھی وزن میں سیر بھر نہ ہوگا،دیکھئے رسالہ ص۱۹۰ تا ۱۹۲۔
ثانیا(۴۸ تا۵۷)تفاضل مالیت کے جواز پر دس دلیلیں رسالہ میں گزریں صفحہ ۱۷۵ تا ۱۸۰ملاحظہ ہو۔
قولہ فانما الاعمال بالنیات[4] (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ت)
اقول:جناب گرامی نے صفحہ بر کی دلیل میں محض اپنے تخیلات سے کام لیا کوئی حرف سند نہ لائے اور یہ بھی پسند نہ فرمایا کہ دلیل یونہی من گھڑت پر گزر جائے اصلًا سند کانام نہ آئے لہٰذا یہ حدیث شریف صرف وزن بنانے دلیل کا بھرم رکھنے کو ذکر فرمادی،اگر عرض کیجئے کہ اسے محل سے کیا علاقہ آپ کی دلیل کے کس مقدمہ کا اس سے ثبوت،تو جواب یہی ہوگا کہ کچھ نہیں مگر آخر حدیث صحیح ہے اس کا پڑھنا ثواب سے توخالی نہیں اگرچہ محل سے بے علاقہ ہو اسی نیت سے ہم نے لکھ دی وانما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی(اعمال کا دار مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)دلیل کا حاصل صرف اتنا ہے کہ نوٹ اہل عرف کے نزدیك جمیع احکام میں ثمن خلقی کا عین ہے کچھ تفاوت نہیں سمجھتے اور جو جمیع احکام میں بلاتفاوت عین ہو تفاضل میں بھی عین ہوگا کہ یہ بھی ایك حکم لہٰذا نوٹ میں تفاضل حرام،اس میں کبرٰی تو واضح ہے کہ محتاج استدلال نہیں،اور حدیث کا اس سے بے علاقہ ہونا بھی واضح۔ساری عرق ریزی ثبوت صغری میں فرمائی ہے جس کی خدمت گزاری گزری کہ ایك حرف بھی ٹھکانے کا نہیں مگر یہ فرمائیے کہ حدیث اس کا کیا ثبوت دیتی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع