دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

قطعًا دو جنس متباین ہیں ولہٰذا باجماع امت وتواتر قطعی ان میں تفاضل روا ہے تو شیئ واحد دو نوع متباین سےکیونکر متحد ہوگئی۔ظاہر ہوا کہ اس عذر نہ ہونے کو مفید اتحاد جنس سمجھنا سخت وہم باطل تھا بلکہ اس کی وجہ وہی تساوی رواج و مالی تہے جس کا بیان صفحہ ۹۷ سے صفحہ ۱۰۱ تك گزرا۔

رابعًا: حل یہ ہےکہ بے عذری یعنی قبول ذی حق واتحاد جنس میں عموم خصوص من وجہ ہے کہیں اتحادجنس ہے اور قبول نہیں جیسے سونے کا گہنا خریدنے والا اس کے بدلے اشرفیاں نہ لے گا اور کہیں قبول ہے اور اتحا دجنس نہیں جیسے پندرہ روپے اور اشرفی،روپے اور نوٹ نوٹ اور اشرفی،اٹھنی اور پیسے،اٹھنی اور اکنیاں اور مادہ اجتماع ظاہر ہے تو ایك کے وجود سے دوسرے کے حصول پر استدلال ایسا ہے کہ یہ کاغذ ابیض ہے لہٰذا حیوان ہے کوا حیوان ہے لہٰذا ابیض ہے ولا حول ولا قوۃ الاباللہ۔

خامسًا:یہ شبہہ وہی ہے جو نوٹ ہلاك کرنے پر فرمایا تھا وہاں اہلاك سے ضمان آئی تھی یہاں قرض سے بات ایك ہی ہے اور یہی مولوی صاحب کے سارے شبہہ کی جڑ ہے اس غرض کے لئے کہ کچھ تو شاندار ہوجائے اسے بار بار دو ایك لفظ بدل کر فرماتے ہیں ہاں بیان میں اتنا ضرور ہوا کہ پہلی عبارت نہایت ناقصہ قاصرہ تھی مگر پوری بات اب بھی ادانہ ہوئی عذر نہ ہونا عذرنہ ہوسکنے کو مستلزم نہیں اور ممکن کہ بوصف تغایر جنس کسی غرض ووجہ خاص کے سبب عذر نہ ہوں ہاں عذر نہ ہوسکنا کچھ وہم ڈالتا مگر ہم انہیں صفحات میں بحرالرائق وردالمحتار سے اس کا ازالہ کرآئے کہ شرعًا بھی باوجود مغایرت جنس ہنگام استوائے رواج و مالیت قبول پر جبر کیا جاتا ہے اور عذر تعنت قرار پاتا ہے تواب جڑ کا شبہہ جڑ سے اکھڑ گیا وﷲالحمد۔

سادسًا:طرفہ مزہ یہ ہےکہ ابھی تو نوٹ کو بے قدر ٹھہراکر کہ وہ کاغذ دو پیسے کا بھی نہیں اسے معاملہ سے جدا اور خود روپوں پر ورود عقد باین کرچکے ہیں اور یہ بلافصل اس کے متصل ہی نوٹ پر ورود عقد اور اسکے عین جنس نقد بنادینے کی کوشش ہورہی ہے یہ تناقض کتنا بالطف ہے۔

سابعًا:میں ایك ہی تناقض کہہ رہا ہوں وہاں پہلے فقرے میں نوٹ کو سوروپے کا مال بتایا جس کا تاوان سو روپے آیا،دوسرے فقرہ میں اسے موار دعقد سے جلا وطن ہونے کا حکم فرمایا کہ حقیقۃً روپے بکتے ہیں وہ کاغذ تو ٹکے کا بھی نہیں،تیسرے فقرہ میں وہی کاغذ جو کروٹ لے تو پھر سو روپے کا بلکہ سوروپے سے متحدالجنس ہوگیا۔

ثامنًا:لطف یہ کہ دعوی تو وہ فرمایا کہ نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا ہے اور اخیر تك بار بار اسی کی تکرار ہوگی،اور اس کے دلائل میں یہ کہ روپیوں کا بیچنا مقصود ہوتا ہے نہ اس کاغذکا،اور ہر شخص جانتا ہے کہ نوٹ نہیں مگر یہ کاغذ تو اگر نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا خود اس کاغذ ہی کا بیچنا مقصود ہوتا نہ کہ روپیوں کا تودلیل مناقض دعوٰی ہے فافھم عــــــہ (پس تو سمجھ)۔

عــــــہ:اس طرف اشارہ ہے کہ ان تین اور ۱۳ تا ۲۲ میں اکثر سے عذر خواہی کیلئے(باقی اگلے صفحہ پر)

قولہ: بخلاف پیسوں کے کہ وہ بھی اگر چہ عرفًا ثمن ہیں مگر یہ کیفیت ان کی نہیں،اگر ایك روپے کے عوض میں کوئی چیز خریدے یا ایك روپیہ کسی سے قرض لے اور وقت ادا پیسے ایك روپے کے دے تو دائن اور فروخت کنندہ کو اختیار رہتا ہے کہ وہ لے یا نہ لے اور حاکم کی طرف سے اس پر جبر نہیں ہوسکتا کہ خواہ مخواہ وہ پیسے لے لے۔

اقول اولًا: خلاف منصو ص ہے جیساکہ گزرا۔

ثانیًا:مشاہدہ کے خلاف یوں اعتبار نہ آئے تو اسکا عکس کردیکھئے کہ ۶۴ پیسے قرض لئے یا ثمن قرار دئیے ہوں اور ایك روپیہ دے تو دائن و بائع کو ہر گز کچھ عذر نہیں ہوتا بے تکلف قبول کرلیتا ہے اور عذر کرے تو متعنت ہے اور متعنت کی بات مردود۔

ثالثًا:مولوی صاحب چوکے،سو روپے کی مثال لاتے تو بات نظر عوام میں لگتی ہوئی ہوتی،واقعی جو سو روپے قرض لے پھر ان کے بدلے چھ ہزار چار پیسے دینا چاہے تو دائن کہے گا کہ میں کہاں سیر بھر چاندی کی جگہ دو من پکے سے زیادہ تانبا لادتا پھروں صندوقچی کے ایك خانہ کی جگہ پیسوں سے مٹکا بھروں مگر ساتھ ہی دوانی،،چوانی،اٹھنی سب نقص کو آموجود ہوتیں ہر شخص جانتا ہے کہ دوانی کا کچھ خریدکر دو آنے پیسے دیجئے تو اصلًا جائے انکار نہیں ہوتی اور جب ریزگاری اور پیسے متحد الجنس ہوئے اور یرزگاری اور روپے ایك جنس ہیں تو روپے اور پیسے بھی ایك جنس ٹھہرے کہ متحد کا متحد متحد ہے بلکہ بالواسطہ عینیت کیوں لیجئے اسی کا عکس دیکھئے ۶۴۰۰ پیسے قرض لئے ہوں اور ادا میں سو روپے دیئے ابھی دیکھے بلا عذر قبول ہوں گے اور نہ مانے تو خبطی ٹھہرے تو ظاہر ہوا کہ یہاں بنائے عذر امر خارجی ہے مثلًا منوں بوجھ وغیرہ۔

رابعًا: اگر ہم آپ کی ارخائے عنان کو مان بھی لین کہ صحت عذر اگر چہ بعض صور میں ہو،نافی اتحاد جنس ہے،تو اب نوٹ میں اتحاد کی خیر نہیں ادائے قرض کے وقت عذر نہ ہو تسلیم مبیع کے وقت ضرور متصور،زیدکو سو روپے کا نوٹ ڈاك میں بھیجنا ہے کہ(۲ ۰/)کی رجسٹری بس ہوگی اور منی آرڈر ایک

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)شاید ایك تاویل گھڑتے کہ ہم نے اشارہ میں ذات من حیث المقدار مراد لی اورمع سائر الاوصاف اسی کو روپے جانا،مگر یہ گھڑت کے علاوہ بداہت سے صاف مکابرہ اوردعوٰی پر صریح مصادرہ ہے کما لایخفی،لہٰذا نہ قابل سماعت نہ بعد سماعت اعتراض سے نجات،بات بن جائے یہ بہر حال ناممکن ۱۲ منہ حفظ ربہ۔

روپے میں ہوگا خصوصًا اگر گنگوہی دھرم کجا ہو اتو وہ منی آرڈر کو حرام ہی جانے گا اس نے عمرو سےنوٹ خریدا عمرو تسلیم مبیع کے وقت روپے یا بیس بیس کی پانچ اشرفیاں دکھائے زید ہر گز نہ مانے گا تو معلوم ہوا کہ نوٹ اور ثمن ایك جنس نہیں،

قولہ: پیس پیسے اگرچہ عرفًا ثمن ہیں مگر عین ثمن خلقی نہیں سمجھے گئے ہیں بخلاف نوٹ کے کہ یہ عین ثمن خلقی ہے گو عینیت خلقیہ نہیں بلکہ عینیت عرفیہ ہو [1]۔

اقول اولًا: اس"پس"کا حل بھی وہی ہے جو پیشتر گزرا کہ قبول و اتحاد جنس،عام خاص من وجہ ہیں تو جس طرح ایك کے وجود سے دوسرے کے وجود پر استدلال باطل،یونہی عدم سے عدم پر 'آپ کا پہلا استدلال اس طرز کا تھا کہ کوا حیوان ہے لہٰذا یہ بیض ہے یہ دوسرا رنگ کا ہواکہ کوا ابیض نہیں لہٰذا حیوان نہیں۔

ثانیًا: آپ نے محنت بہت اٹھائی مگر افسوس کہ دعوٰی بے دلیل ہی رہا،آپ کو چاہئے تھا کہ اولًا عینیت عرفیہ کا مناط منقح کرتے نہ کہ ایسا جس پر اتنے نقض ہوں۔ثانیًا اس مناط کا یہاں تحقق پایہ ثبوت کو پہنچاتے۔ثالثا کلام ائمہ سےاس کا ثبوت دیتےکہ جہاں عینیت عرفیہ ہو شرع اس اتحاد جنس مان لیتی ہے اور جب یہ کچھ نہیں تو خرط القتاد سے کیا حاصل۔

 



[1]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن