دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اقول اولًا:ثمن اصطلاحی سے عنیت مثل اتحاد خاص و عام مسلم مگر وہ آپ کو مفید نہیں اوثمن خلقی عینی زر وسیم سے عینیت مسلم نہیں،کوئی سمجھ ولا بچہ بھی نہیں سمجھتا کہ نوٹ بعینہ چاندی سونا ہوگیا،اگر کہئے مراد یہ ہے کہ لین دین میں اے ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے روپیہ اشرفی،تو یہ وہی عرفًا حکم ثمن میں ہونا ہوا نہ کہ عین ثمن سمجھا جانا،تو"بلکہ"لغو بلکہ غلط ہوا۔

ثانیًا: نوٹ بداہۃً ثمن اصطلاحی ہے اور اصطلاحی و خلقی متباین اور متباینین میں عینیت محال اور اہل عرف مجانین نہیں اور تاویل مذکور"بلکہ"سے مہجور۔

ثالثًا:اگر بفرض غلط اہل عرف ایسا سمجھ بھی لیتے تو شرع مطہر توعند یہ کا مذہب جنون روا نہیں رکھتی کہ ان کے سمجھ لینے سے خود بھی اسے عین ثمن قرار دے کر جملہ احکام ثمن نافذ فرمادے۔

رابعًا:ثمن خلقی جنس ہے دو قسم ذہب و فضہ میں منحصر،اور نوٹ فی نفسہ ایك نو ع مستقل ہے،اس کا عین مفہوم کلی معنی جنس سمجھا جانا تو بداہۃًباطل،اسی طرح انواع مباینہ و متباینہ سے عینیت اور جنس سے اتحاد خاص و عام کی عینیت تثلیث کرے گی اور وہ شرعًا باطل ہونے کے علاوہ مقصود پر نص سے عود کرے گی کہ انواع مختلفہ ثمن میں بتصریح حدیث اجماع امت تفاضل حلال۔

قولہ: اس وجہ سے کہ اگر نوٹ سوروپے کا کوئی ہلاك کردے تو اصل مالك سو روپے تاوان لیتا ہے[1]۔

اقول اولًا:اگر کوئی سو روپے کا گھوڑا ہلاك کردے جب بھی مالك سو روپے تاوان لیتا ہے تو کیا گھوڑا اور روپے بھی عین ہوگئے اور پھر نوٹ بھی گھوڑا ہوجائے گا کہ عین کا عین ہے۔اور لفظ اصل حشو ہے۔

ثانیًا:یہ تو ظاہر عبارت پر تھا اب حل سنئے"لیتاہے"سے بخوشی لینا مراد یا یہ کہ وہی حکم شرع ہے کہ اس پر جبر ہوگا اول مسلم اور اس سے وہم عینیت مدفوع،اور اگر فرق نہ سمجھنے کا پیوند لگائیے جب بھی لایغنی من جوع کوئی ۶۴ پیسے کسی کے تلف کر دے تو مالك بخوشی ایك روپیہ لے لے گا اور اس میں اور ۶۴ پیس لینے میں کچھ فرق نہ سمجھے گا اس سے روپیہ اور پیسے متحد نہ ہوگئے اور ثانی میں جبر متلف پر ہے یعنی اسے روپے ہی دینے پر مجبور کرینگے یا مالك پر کہ اسے قبول زر پر جبر کرینگے اول صراحۃً باطل،وہ سو کا نوٹ بھی دے سکتا ہے اور مالك کو انکار کی کوئی وجہ نہیں بلکہ وہی حکم اصلی ہے کہ نوٹ مثلی ہے معہذا یہ مقصود پر نص کے ساتھ عائد ہوگا کہ اتلاف نوٹ میں ادائے دراہم پر جب ہو تو نوٹ قیمتی ٹھہرے اور روپیہ مثلی ہے اور قیمت و مثلی ایك نہیں سمجھے جاسکتے اور ثانی بر تقدیر تسلیم مفید عینیت نہیں کہ اثمان رائجہ میں بحال تساوی رواج و مالیت ادا کرنیوالا مخیر ہوتا ہے اور انکار تعنت۔اس کا بیان رسالہ کے ص ۱۸۵ سے ۱۹۰ تك دیکھئے۔

قولہ: اور سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کا غذکی نہیں ہوتی ہے کیونکہ پر ظاہر ہے کہ وہ کاغذدو پیسہ کا بھی نہیں ہے بلکہ مقصود سو روپے کا بیچنا اور ا سکی قیمت لینا ہوتا ہے [2]۔

اقول:(۱۳تا۱۷)ا سکے پانچ رد حاشیہ ص ۱۸۴میں گزرے،اور(۱۸تا۲۲)وہ جو کہا کہ وہ کاغذ دو۲ پیسہ کا بھی نہیں اس کے بھی پانچ رد گزرے ۴صفحہ ۱۲۴،۱۲۵،۱۲۸،۱۲۹پر،اول یہ کہ حسب تصریح علماء کاغذ کا ایك ٹکڑا صرف عاقدین کی تراضی سے ہزار وپے کو بك سکتا ہے نہ یہ کہ یہاں لاکھوں آدمیوں کی اصطلاح۔،دوم سکہ قیمتی ہے،سوم حقیر شیئ کسی وصت کے سبب اپنے ہزاورں سے امثال سے گراں ہوجاتی ہے۔چہارم ورق علم کا مسئلہ اور پانچوں رد صفحہ ۱۳۸،۱۳۹پرکہ تقوم میں حال پر نظر ہے نہ کہ اصل پر۔

قولہ: او رنوٹ سو روپے کا اگر کوئی شخص قرض لے تو بوقت ادا خواہ نوٹ سو روپے کا دیوے یا سو روپے دیوے دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں مدیون سے عذر نہیں ہوتا حالانکہ اگر مدیون غیر جنس بوقت ادا دیوے تو دائن نہیں لیتا ہے [3]۔

اقول اولًا:پندرہ روپے اگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پندرہ روپے دے یا ایك ساورن دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو آپ کے نزدیك روپے اور اشرفی یعنی چاندی اور سونا بھی جنس واحد ہوئے اور قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہو ا کہ سونا جب چاندی سے بیچین دونوں کانٹے کی تول برابر کرلیں رتی بھر کمی وبیشی ہوئی تو سود حرام وگناہ کبیرہ و استحقاق نارجحیم و عاب الیم ہوگا یہ اجماع قطعی جمیع امت مرحومہ و تواتر قطعی و عقل جملہ عقلائے عالم سب کے خلاف ہے۔

ثانیًا:آٹھ آنے پیسےاگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پیسے ہی دئیےیا آٹھ اکنیاں یا ایك اٹھنی تینوں امرمساوی سمجھے جاتے ہیں دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے و دائن نہیں لیتا تو چاندی اور تانبا بھی جنس واحد ہوئے اور چاندی اور سونا پہلے متحد ہوچکے ہیں تو تانبا او سونا بھی ایك جنس ہوئے کہ متحد کا متحد متحد ہوتا ہے اور ان سب میں قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہوا کہ تولہ بھر سونا دو ہی پیسے کو بیچا جائے ایك چھدمابھی زیادہ ہوا تو سود کا سامنا اور جہنم کی آگ ہے والعیاذ باللہ تعالٰی،اور تو کیا عرض کروں لیکن صراف اگر اس فتوے پر عمل کرلیں تو باز ار تو ایك ہی دن میں پٹ جائے۔

ثالثًا:پندرہ روپے کے نوٹ اگر کوئی قرض لے ایکدس اور ایك پانچ کا،یا تینوں پانچ پاچن کے،تو وقت ادا خواہ پندرہ کے نوٹ دے یا ایك سا ورن،دونوں مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو اب نوٹ اور سونا ایك جنس ہوئے اور آپ نوٹ اور چاندی ایك جنس کرچکے ہیں اور چاندی اور سونا



[1]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷

[2]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷

[3]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن