30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اغلب غشہ یقوم کالعروض ویشترط فیہ النیۃ الااذا کانت اثمانا رائجۃ [1]۔
جس میں ملاوٹ غالب ہو اس کی قیمت لگائی جائیگی جیسے سامان کی قیمت لگائی جاتی ہے اور اس میں نیت تجارت شرط ہے سوائے اس کے کہ وہ ثمن رائج ہوں۔(ت)
شامی میں ہے:
ماکان ثمنا رائجا تجب زکاتہ سواء نوی التجارۃ اولا[2]۔
جو ثمن رائج ہو اس کی زکوٰۃ واجب ہے چاہے تجارت کی نیت ہو یا نہ ہو(ت)
اسی میں ہے:
عین النقدین لایحتاج الٰی نیۃ التجارۃ وکذا ماکان ثمنا رائجا۔[3]
عین نقدین(سونا اور چاندی)میں تجارت کی نیت کی حاجت نہیں اسی طرح جو ثمن رائج ہو۔(ت)
بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے ہے:
ان غلب الغش فلیس کالفضۃ کا لستوقۃ فینظر ان کانت رائجۃ اونوی التجارۃ اعتبرت قیمتھا فان بلغت نصابا وجبت فیہا الزکٰوۃ والا فلاء[4]ملخصًا۔
اگر ملاوٹ(کھوٹ)غالب ہو تو وہ چاندی کی طرح نہیں جیسے کھوٹے روپے،پھر دیکھا جائیگا کہ وہ رائج ہیں یا ان میں نیت تجارت ہے تو ان کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا،اگر وہ نصاب کو پہنچے تو اس میں زکوٰۃ ہے ورنہ نہیں(ت)
ص ۱۳۷ دیکھئے کہ اسی پر فتوٰی ہے ایك آدھ روایت ٹٹول میں آجانا اور محل ومحمل نہ دیکھنا اور راجح و مرجوح و شاذ ومشہورمیں فرق نہ کرنا فقہات نہیں ہوتا مگر حضرات وہابیہ کے نصیبوں تو فقہات بحمداللہ نصیب دشمنان ہے۔ان وجوہ قاہرہ کے علاوہ اس دو سطری تحریر گنگوہیت خمیر میں اور بھی مواخذات ہیں مثلًا:
(۱۳)نوٹ نقدین بتیا یعنی نوٹ سونا چاندی ہے،اور پھر اسی منہ میں یہ کہ تمسك ہے۔
(۱۴)تمسك کہ کہنا کہ اس پر زکوٰۃ ہے حالانکہ تمسك سرے سے مال ہی نہیں،نہ اس کے عدم و وجود کو زکوٰۃ کے وجوب وعدم میں کچھ دخل۔
(۱۵)نوٹ کے مبیع سمجھنے پر اس کی زکوٰۃ نہ دینے کی بنا سمجھنا،کیا مبیع پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ابھی تو آپ پیسوں کو مبیع کہہ کر بحال نیت تجارت زکوٰہ واجب مان چکے ہیں۔
(۱۶)کاغذ کے مبیع سمجھنے کو سخت غلطی کہنا شاید عمر بھر کاغذ خریدنے کا اتفاق نہ ہوا،نہ ان کے گاؤں میں خبر پہنچی کہ دنیا میں کاغذبھی بکتا ہے۔
(۱۷)لطف یہ کہ ابھی تونوٹ کو اس جرم پر کہ کاغذ ہے مبیع سمجھنا سخت غلطی تھا اور ایك ہی ورق بعد صفحہ ۱۷۳پر خود فرماتے ہیں کہ"نوٹ خرید کر بھیج سکتا ہے [5]"اے سبحان اللہ ! نوٹ تو بك سکتا ہی نہ تھا خرید اکیسے جائے گا مگر حضرت کی ان عظیم سفاہتوں کے آگے ایسی نزاکتوں کی کیا گنتی ع
ماعلی مثلہ یعد الخطاء
(اس کی مثل پر خطاؤ ں کا شمارنہیں کیاجاتا۔ت)
نسأل اللہ العفو والعافیۃ،ولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں،اور گناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں مگر اللہ تعالٰی کی توفیق سے۔(ت)
(۱۸)آپ کی اجواب دیں گے اگر کوئی آپ کی پچھلی نزاکت پر کہے کہ جب آپ نے اس عقد کو کہ لفظ"میں"نیت میں قصد میں فہم میں قطعًا بیع تھا تمام جہاں کے فہم و ارادہ کے خلاف کا یا پلٹ کرکے حوالہ تراش لیا تو آپ اب کس منہ سے کہت ہیں کہ کم زیادہ پر بیع کرنا ربا و ناجائز ہے زیادہ پر بیع کا یہ حاصل کیوں نہیں ٹھہراتے کہ زید نے جوعمرو کے سات سو روپے کا نوٹ سو اسو روپے کو بیچا ہے یہ بیع نہیں سوا سو کا سوسے بدلنا نہیں کہ رباناجائز ہو بلکہ زیدنے عمرو سے سوا سو قرض لئے ہیں اور زید کے گورنمنٹ پر سو آتے تھے وہ اس پر اتاردئیے،رہے پچیس وہ عمرو نے زید کو چھوڑدئیے اور اس میں کون سار ہا ہے، فتاوٰی امام قاضی خان سے رسالہ کے صفحہ ۱۷۳ میں گزرا:
فان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنٰی عشر درہما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان المقرض یبرءہ عن درھمین فیجوز ذٰلك [6]۔
اگرحیلہ کا ارادہ کرے تو مشتری سے بارہ درہم ٹوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے درہم اس کو واپس دے اور قرض دہندہ باقی دو درہموں سے اس کو بری کردے تو یہ جائز ہے۔ (ت)
نیز خانیہ سے اس کے متصل گزرا:
فان ارادہ الحیلۃ یا خذ التسعۃ بالتسعہ ویبرءہ عن الدرھم الباقی [7]۔
[1] درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۵
[2] ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲
[3] ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲
[4] بحرالرائق کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۲۲۸
[5] فتاوٰی رشیدیہ باب الربوٰ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱
[6] فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ،انڈیا ۲/ ۴۰۷
[7] فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ انڈیا ۲ /۴۰۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع