دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

ان تصریحات ائمہ سے روشن ہواکہ متعاقدین جو عقد کررہے ہیں وہ اگرچہ باطل وفاسد ہوا اور دوسرا عقد ٹھہرانے میں اسکی تصحیح ہوتی ہو ہر گز ایسی تصحیح جائز ہیں اور اس تصحیح کے بطلان پر اجماع قائم ہےجب کہ اس میں اصل عاقدین کی تغییر ہوتی ہے اورتصحیح فرمائی کہ بیع کو مرابحہ سے تولیہ قرار دینا بھی ایسی ہی تغییر ہے کہ بالاجماع جائز نہیں حالانکہ وہ رہی بیع کی بیع ہی،تو بیع کی سرے سے کایا پلٹ کرکے حوالہ کردینا کیسے جاہل مخالف اجماع کاکام ہوگا آپ کے لکھے بیع نہ ہوئی افیونی کی ریوڑی ہوئی کہ گرتے ہی مزہ بدل گیا ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔

دوم: ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسك ایك معین مثلًا زید کی طرف سے دوسرے معین مثلًا عمرو کے لئے ہوتا ہے کہ اگر زید عمرو کے دین سے منکر ہو تو عمرو بذریعہ تمسك اس سے وصول کرسکتے تمسك اس لئے نہیں ہوتا کہ عمرو جہاں چاہے جس ملك میں چاہے جس شخص سے چاہے اسکے دام وصول کرلے زید کے پاس عمرو،بکر،خالد،ولید دنیا بھر کا کوئی شخص اسے لے کر آئے یہ اسے دام پر کہا دے بلکہ زید وعمرو ودائم و مدیون دونوں بالائے طاق رہیں،تیسرا شخص اجنبی،چوتھے شخص نرے بیگانے کو دے کر اس سے دام لے لے دنیا میں کوئی تمسك بھی ایسا سنا ہے اور نوٹ کی حالت یقینا یہی ہے کہ جو چاہے جہاں چاہے اگرچہ غیر ملك غیر سلطنت ہو جبکہ یہاں کا سکہ اس سلطنت میں چلتا ہو جس شخص سے چاہے اس کے دام لےلےگا یہ حالت یقینا مال کی ہے نہ کہ تمسك کی،تو اسے تمسك کہنا کیسا اندھا پن ہے بلکہ وہ بالیقین مال ہے سکہ ہے ولکن العمیان لایبصرون(لیکن اندھے نہیں دیکھتے۔ت)

سوم: ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسك کے وجود وعدم پر دین کا وجود وعدم موقوف نہیں ہوتا بلکہ جب دین ثابت مدیون پر دینا لازم آئے گا تمسك رہے یا نہ رہے۔اب فرض کیجئے کہ زید نے لاکھ روپے دے کر خزانے سے ہزار ہزار روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنا نام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئے۔تو اب لازمہےکہ وہ جب چاہے خزانے روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنانام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئے،تو اب لازم ہے کہ وہ جب چاہے خزانے سے اپنے آتے ہوئے لاکھ روپے وصول کرلے اگرچہ نوٹ اس کے پاس جل گئے یا ریزہ ریزہ ہوگئے یا چوری ہوگئے یا اس نے کسی کو دے دئے کہ خزانہ آپ کے نزدیك اس کا مدیون ہے اور تمسك نہ رہنے سے دین ساقط نہیں ہوتا اور جب نوٹوں کے نمبر لکھے ہوئے ہیں تو گورنمنٹ کو یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا کہ مبادا نوٹ نہ جلے نہ پھٹے بلکہ اس کے پاس موجود ہوں یا اس نے کسی کو دے دئے ہوں تو جب وہ نوٹ یہ یا دوسرا لے کر آئے ہمیں دوبارہ دینا پڑے گا،دوبارہ کیونکہ دینا ہوگا،یہ لایا تو کہہ دیا جائے گاکہ ہم نے جو روپیہ تجھ سے قرض لیا تھا تجھے اداکردیا اب مکرر کیسے طلب کرتاہے،اور دوسرا لایا تو کہہ دیاجائے گا کہ اس تمسك کا روپیہ ہم اصل قرضخواہ کو دے چکے ہیں اب ہم پر مطالبہ نہیں مگر ایسا ہر گز نہ ہوگا نوٹ خود جلا کر یا پھاڑ کر کسی کو دےکر گورنمنٹ سے روپیہ مانگئے تو،اگر اس نے پاگل جانا تو اتوار کوکھیر دے گی ورنہ بڑے گھر کی ہوا کھلائیگی،اس وقت آپ کی آنکھیں کھلیں گی کہ نوٹ کیسا تمسك تھا یہ حالت صراحۃً مال کی ہے کہ جو شخص کسی سے ایك مال خریدکر پھر اسے تلف کردے یا کسی کو دے دے اور اپنے روپے بائع سے واپس مانگے تو کم از کم پاگل ٹھہرتا ہے۔

چہارم: یہیں سے آپ کے شبہہ کا کشف ہوگیا کہ گم جائے یا نقصان آجائے تو بدلو اسکتے ہیں یہ مطلقًا ہر گز صحیح نہیں اور اگر تمسك ہوتا تو واجب تھا کہ ہمیشہ ہر حال میں بدل دیا جاتا کہ تمسك کے نقصان یا فقدان یا خود ہلاك یا تلکف کردینے سے دین پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور بعض صورتوں میں اگر بدل دینے کا وعدہ ہو بھی تو اس سے تمسك ہونا لازم نہیں آتا،سلطنتوں نے یہ ایك طرفہ اکسیر ایجاد کی کہ ہزاورں کیمیا کو اس سے کچھ نسبت نہیں چھدام کے کاغذ کو ہزار کا کردیں دس ہزار کا کردیں ایسی سخت مہم بات عام میں مقبول ہونے کے لئے بعض رعایتوں کی ضرورت تھی ملك کواندیشہ ہوتاکہ کاغذ بہت ناپائدار چیزہے آگ میں جل جائے،پانی میں گل جائے،استعمال سے چاك ہو،گم جائے کیا ہوکیا ہو تو ہمارا مال یوں ہی برباد ہو اس کی تسکین کیلئے کچھ وعدوں کی حاجت ہوئی ورنہ ملك ہرگز نوٹ کو ہاتھ نہ لگاتا،یہ تو اتنی بڑی کیمیا ہے سود اگر اپنے تھوڑے سے نفع کے لئے اس قسم کے وعدہ سے اطمینان دلاتے ہیں برسوں کے لئے گھڑیوں کی گارنٹیاں کرتے ہیں کہ اس مدت میں بگڑے یا بیکار یا بیکار ہو تو بنادیں گے یہاں بھی کہہ دینا کہ"بھلادنیا میں کوئی بیع بھی ایسی ہے"[1] آپ ایك کوردہ میں رہ کر دنیا بھر کا ناحق ٹھیکہ لیں ہاں یہ کہئے کہ تاجروں کا یہ کہنا خلاف شرع ہے پھر گورنمنٹ کے سب اقوال مطابق شرع ہونا کس نے لازم کیا۔

پنجم: سود دینے لینے میں گورنمنٹ کی حالت معلوم ہے کہ وہ اسے ہر قرض ودین کا لازم قطعی مانے ہوئے ہے یہاں تك کہ جو شخص سو تك بنك میں روپیہ جمع کرے یا وہ ملازم جن کی تنخواہ کا کچھ حصہ کٹ کر جمع ہوتا رہتا اور ختم ملازمت پر ان کو دیا جاتا ہے وہ مانگیں یا نہ مانگیں ساری مدت کا سود حساب لگاکر انہیں دیتی ہے بلکہ وہ کہے کہ میں سود نہ لوں گا جب بھی ماہوار سود اس کے نام سے درج ہوتا رہتا ہے،اگر خزانہ سے نوٹ لینا روپیہ داخل کرکے اس کا وثیقہ لینا ہوتا تو لازم تھا کہ گورنمنٹ اس کے لئے سود لکھتی رہتی جب تك وہ نوٹ دےکر روپیہ واپس لیتا۔اب آپ کو تو یہ حیلہ ہوگا کہ ہائیں ہم اور سودمانگیں اگرچہ اللہ عزوجل کی تکذیب،حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین،ابلیس کو خد اکی خاص صفت میں شریك ماننا کروڑوں درجہ سود بلکہ سؤر کھانے سے بدتر ہے،خیر آپ نہ جائیے امتحان کے لے کسی بنئے کو بھیج دیکھئے کہ ہزار روپے کا نوٹ خزانے سے خریدے پھر سال بھر بعد وہ بنیا اپنے اس ہزار کا سود گورنمنٹ سے مانگنے جائے دیکھئے تو ابھی اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا اور جتنی اس اس پر پڑیں گی حقیقۃً اس پر نہ وہگی بلکہ اس پر ہوں گی جس نے اسے یہ چکمہ دیا تھا کہ نوٹ کی خریداری نہیں بلکہ روپیہ قرض دے کرتمسك لینا ہے۔

ششم: زید عمرو سے وقتًا فوقتًا سو۱۰۰ اور دو سو۲۰۰ اور ہزار۱۰۰۰ قرض لیتا رہے اس تمام مدت وہ تمسکات لکھ کر عمرو کو دیتا رہے گا اور جس تمسك کی میعاد ختم ہونے آئے گی بدل دے گا یہاں تك کہ اس پر عمرو کے دس ہزار جمع ہوگئے اب اس نے ہزار ہزار کے دس نوٹ عمروکو دئے اسی وقت سے اس کا حساب بند ہوجائے گا عمرو سب تمسکات اسے پھیردے گا اسے فارغ خطی لکھ دے گا زید اور خود عمرو اور سارا جہان سمجھے گا کہ قرضہ دام دام وصول ہوگیا،مگر گنگوہی صاحب فرماتے ہیں دس ہزار کے نوٹ دئے تو کیا ہوا وصول ابھی ایك کوڑی بھی نہ ہوئی،اس جہاں بھر سے نرالی مت کا کیا کہنا!

ہفتم: فرض کیجئے گورنمنٹ نے کسی بنك سے بیس لاکھ روپے قرض لئے اور تمسك لکھ دیا کہ دس برس کے اندر اداکیا جائے گا، تین برس گزرنے پر بیس لاکھ کے نوٹ بنك کو دے دئیے تمام جہاں اور بنك اور گورنمنٹ سب تو یہی سمجھیں گے کہ قرض ادا ہوگیا،مگر گنگوہی صاحب سے پوچھئے کہ اگر یہ نوٹ بھی تمسك ہی تھے تو اس فضول کاورائی کا محصل کیا ہوا



[1]       فتاوٰی رشیدیہ کتاب الزکوٰۃ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۳۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن