30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مروی عن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہ امر بذٰلك اھ [1] فمن بعد رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واصحابہ وفی البحر عن القنیۃ لاباس بالبیوع التی یفعلھا الناس للتحرز عن الربا ثم رقم اٰخر ھی مکروھۃ ذکر البقالی الکراھۃ من محمد وعندھما لاباس بہ قال الزرنجری خلاف محمد فی العقد بعد القرض اما اذا باع ثم دفع الدراہم لابأس بالاتفاق[2] اھ وکذلك حکی الاجماع الامام خواہر زادہ رحمہ اللہ تعالٰی اذا لم یکن البیع مشروطا فی القرض فاذا ثبت عن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تعلیمہ وصح عن الصحابۃ فعلہ وتمدیحہ واجمع ائمتنا علی جوازہ فای محل بقی للارتیاب واللہ الھادی الصواب،اقول:ثم ھذا ایضا فی اجتماع الببیع والقرض بان یقرضہ دراہم ویبیعہ شیئا یسیرا
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مروی ہوا کہ حضور نے اس کا حکم دیا انتہی،تو اب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ کرام کے بعد اور کون ہے،اور بحرالرائق میں قنیہ سے ہے کہ وہ بیعین جو لوگ ربا سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ان میں کچھ حرج نہیں پھر ایك اور عالم کےنام کی رمز لکھی کہ انہوں نے کہا مکروہ ہے،امام بقالی نے ان کی کراہت امام محمد سے روایت کی اور امام اعظم اور امام ابویوسف کے نزدیك ان میں کچھ حرج نہیں،امام شمس الدین زرنجری نے فرمایا امام محمد کے خلاف اس صورت میں ہے جبکہ قرض دے کر پھر ایسی بیع کرے اور اگر بیع کردی پھر روپے دئے تو بالاتفاق کچھ حرج نہیں انتہی،اور اسی طرح امام شیخ الاسلام خواہر زادہ نے اس کے جواز پر اتفاق نقل فرمایا جبکہ قرض میں بیع کی شرط نہ لگا لی ہو،تو جب کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کی تعلیم ثابت اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے اس کا کرنا اور اس کی تعریف ثابت اور ہمارے اماموں کا ا سکے جواز پر اجماع قائم،تو اب شك کی کون سی جگہ باقی رہی اور اللہ ہی ٹھیك راستہ دکھانے والا ہے ۔اقول:(میں کہتاہوں)پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ بیع اور قرض جمع ہوں یوں کہ اسے کچھ روپے قرض دے اور
بثمن کثیر فیقبلہ لحاجۃ القرض ففی ھذاان تقدم القرض قیل کرہ البیع لانہ قرض جر نفعا وان تقدم البیع لم یکن بہ باس اتفاقا لانہ بیع جر قرضاکما افادہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وبہ افتی کما فی ردالمحتار امامانحن فیہ من مسألۃ النوط فبیع خالص لاقرض فیہ اصلا لا بدأ ولا عودا فذا اولی واحری ان یحل بالاتفاق من دون نزاع ولا شقاق وان شئت الزیادۃ فی امرالحیل فھذا ربنا تبارك وتعالٰی قائلا لعبدہ ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام " وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ "[3] وھذا سیدنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قد علم المخلص من الربا وطریق الوصول الی المرام مع التحرز عن الحرام روی الشیخان عن ابی سعید الخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قال جاء بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ الی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بتمر برنی
تھوڑی سی چیز زیادہ قیمت کو اس کے ہاتھ بیچے تو حاجت قرض کے سبب اسے قبول کرے گا تو اس صورت میں اگر قرض پہلے ہے تو بعض نے بیع کو مکروہ کہا اس لئے کہ یہ وہ قرض ہوا جس نے ایك منفعت کھینچی اور اگر بیع پہلے ہو چکی تھی تو بالاتفاق اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ ایك بیع ہے جو قرض کا نفع لائی جیساکہ امام شمس الائمہ حلوانی نے افادہ فرمایا اور اسی پر فتوٰی دیا جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور وہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی نوٹ یہ تو خالص بیع ہے اس میں قرض اصلًا نہیں،نہ ابتدا میں نہ بعد کو،تو اس کا بالاتفاق بلاخلاف وبلا نزاع جائز ہونا زیادہ لائق و مناسب ہے،اور اگر تو مسئلہ حیلہ،میں زیادت چاہے تو یہ ہے ہمارا رب عزوجل تبارك وتعالٰی اپنے بندہ ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرماتا ہوا اپنے ہاتھ میں ایك جھاڑو لے لے اس سے مار اور قسم نہ توڑاور یہ ہیں ہمارے سردار رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہ انہوں نے ربا سے بچنے کا حیلہ اور ایسا طریقہ کہ مقصود حاصل ہوجائے اور حرام سے محافظت رہے تعلیم فرمایا اسے بخاری ومسلم نے ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس خرمائے برنی
فقال لہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ من این ھذا،قال بلال کان عندنا تمرردی فبعت منہ صاعین بصاع فقال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوہ عین الربا عین الربا لا تفعل ولکن اذا اردت ان تشتری فبع التمر ببیع اٰخر ثم اشتربہ [4] و ایضا لھما عنہ وعن ابی ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ان رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ استعمل رجلا علی خیبر فجاء ہ بتمر جنیب فقال لہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکل تمر خیبر ھکذا قال لا واللہ یارسول انا لنا خذ الصاع من ھذابالصاعین والصاعین بالثلٰث فقال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لاتفعل بع الجمع بالدراہم ثم ابتع بالدراہم جنیبا [5]۔ اقول: اما کراھۃ من کرہ کمحمد فانما کان کما تقدم عن الفتح والایضاح
لائے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے فرمایا کہ یہ تم نے کہاں سے لئے،بلا ل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی ہمارے پاس خراب چھوہارے تھے ہم نے اس کے دو صاع کے بدلے ان کا ایك صاع خریدا،نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اف خاص ربا ہے خاص ربا ہے ایسا نہ کر۔مگر جب ان کو خریدنا چاہو تو اپنے چھوہاروں کو کسی اور چیز سے بیچ کراس شیئ کے بدلے ان کو خریدو نیز بخاری و مسلم نے ابوسعید خدر ی اور ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما دونوں سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایك صاحب کو خیبر پر عامل صوبہ کرکے بھیجا وہ خدمت اقدس میں خرمائے جنیب لے کر حاضر ہوئے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا خیبر کے سب چھوہارے ایسے ہی ہیں،عرض کی نہیں خدا کی قسم یارسول اللہ! ہم اس میں ایك صاع دو صاع کو،دو صاع تین صاع کو لیتے ہیں۔نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ایسا نہ کرو اپنے چھوہارے روپیوں سے بیچ کر روپیوں سے یہ چھوہارے خریدلو۔اقول:(میں کہتاہوں) وہ جس نے اس میں کراہت سمجھی جیسے امام محمد ان کا سمجھنا تو صرف اس بنا پر تھا جیسا کہ فتح القدیر و
[1] فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶
[2] بحرالرائق کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ ایچ ایم سعید کمپنی ۶/ ۱۲۶
[3] القرآن الکریم ۳۸ /۴۴
[4] صحیح البخاری کتاب الوکالۃ باب اذا باع الوکیل شیئا فاسدا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۱،صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶
[5] صحیح البخاری کتاب البیوع باب اذا ارادبیع تمر بتمر خیر منہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۳،صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع