دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ بخلاف ما اذااقرض ولم یشترط شیئا من الزیادۃ ولا کانت معہودۃ من تعاملھما لان المعروف کا لمشروط ثم ان المستقرض اوفاہ وزاد من عند نفسہ تکرما زیادۃ ممتازۃ منحازۃ کیلا تکون ھبۃ مشاع فیما یقسم فھذاجائز لابأس بہ بل ھو من باب"هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) "[1] و قد قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ للوزان فی ثمن سراویل اشتراھا زن وارجح [2] وکذااذاتقاضاہ المقرض فلم یکن عندہ النوط اولم یرد ردہ فوقع الصلح علی اثنتی عشرۃ ربیۃ عوضا عن النوط الذی فی ذمتہ وقبضت الدراہم فی المجلس کیلا یکون افتراقا عن دین بدین فھذا ایضا جائز بالا تفاق ان کان النوط الذی استقرضہ مستھلکا وعند الطرفین مطلقًا حارث بن ابی اسامہ نے امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے روایت کی بخلاف اس کے جبکہ قرض دیا اور کچھ زیادہ لینا شرط نہ کیا اور نہ ان کے اگلے عمل درآمد سے زیادہ لینا معروف تھا(کیونکہ جو معروف ہے وہ تو مثل شرط کے ہے)پھر قرض لینے والے نے قرض ادا کیا اور اپنی طرف سے احسانًا کچھ ایسا زیادہ دیا جو الگ ممتاز ہو(یہ اس لئے کہ قابل تقسیم شے میں ہبہ مشاع نہ ہو جائے)تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس قبیل سے ہے کہ احسان کا بدلہ کیا ہے سوا احسان کے۔ا ور بیشك حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو ایك پاجامہ خریدا(اور وہاں قیمت تول کردی جاتی تھی)تولنے والے سے فرمایا کہ تول اور زیادہ دے،یونہی اگر نوٹ قرض دیا تھا اور قرض خواہ نے اس سے تقاضا کیا اس کے پاس ویسا نوٹ نہ تھا یا اس نے نوٹ دینا نہ چاہا عوض میں روپے دینے چاہے دس کے نوٹ کے بدلے بارہ روپے پر صلح ہوئی اور اسی جلسے میں روپے ادا کردئے(تاکہ عاقدین یوں جدانہ ہوں کہ دونوں طرف دین ہو)تو یہ بھی جائز ہے پھر اگر وہ نوٹ جو اس نے لیا تھا اس کے پاس نہ رہا جب تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نوٹ اس کے پاس موجو د ہے مگر خاص اس 

وان کان باقیا عندہ اذالم یورد العقد علیہ،نعم ان کان موجودا واشتراہ بعینہ باثنی عشر او بعشرۃ او بماشاء فھذا باطل لایجوز عندھما خلافا لابی یوسف رضی ﷲ تعالٰی عنہم لانہ قد مبلکہ بالاستقراض فکیف یشتری ملك نفسہ من غیرہ فی وجیز الکردری اذا کان لہ علی اٰخر طعام وفلوس فاشتراہ من علیہ بدراہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل و ھذا مما یحفظ [3]اھ۔وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ اشتری من المقرض الکرالذی لہ علیہ بمائۃ دینار جاز لانہ دین علیہ لابعقد صرف و لاسلم فان کان مستھلکا وقت الشراء فالجواز قول الکل لانہ ملکہ بالاستھلاك وعلیہ مثلہ فی ذمتہ بلا خلاف وان کان قائما فکذلك عندھما وعلی قول ابی یوسف ینبغی ان لایجوز لانہ لایمبلکہ مالم یستھبلکہ فلم یجب مثلہ

نوٹ کو روپیوں سے نہ خریدا بلکہ ذمہ پر قرض تھا اسے خریدا تو امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك جائز ہے ہاں اگر وہی نوٹ کہ قرض لیا تھا موجود ہے اور بعینہ اسی کو بارہ روپے یا دس یا جتنے سے چاہے خریدے تو یہ طرفین کے نزدیك باطل ہے اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اسے جائز کہتے ہیں، باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے یہ نوٹ قرض لیا تو قرض لیتے ہی اس کامالك ہوگیا تو خود اپنی مملوك چیز کو دوسرے سے کیونکر خریدے گا،وجیز کردری میں ہے جب اس کا کسی پر غلہ یا پیسے آتے ہوں مدیون نے وہ دین اس سے روپیوں کو خریدلیا اور روپیوں پر قبضہ ہونے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے تو یہ بیع باطل ہوگئی اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن کا یادرکھنا لازم ہے انتہی،اور ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے قرض دینے والے کا جو غلہ اس پر آتا تھا وہ اس نے اس سے سوا شرفی کو خرید لیا جائز ہے کہ یہ دین اس پر نہ عقد صرف سے تھا نہ عقد سلم سے،پھر اگر وہ غلہ خریداری کے وقت خرچ ہوچکا تھا جب تو سب کے نزدیك جواز ہے اس لئے کہ وہ خرچ کردینے سے بالاتفاق اس کا مالك ہوگیا اور اس کے ذمہ پر اتنا غلہ واجب رہا اور اگر غلہ موجود ہے تو امام اعظم وامام ممحمد کے نزدیك اب بھی جائز ہے اور امام ابویوسف کے قول پر چاہئے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ ان کے نزدیك

فی ذمتہ فاذا اضاف الشراء الی الکرالذی فی ذمتہ فقد اضافہ الی معدوم فلا یجوز [4]اھ وفیہ عنھا استقرض من رجل کرا وقبضہ ثم اشتری ذٰلك الکربعینہ من المقرض لایجوز علی قولھما لانہ مبلکہ بنفس القبض فیصیر مشتریا ملك نفسہ اما علی قول ابی یوسف فالکرباق علی ملك المقرض فیصیر المستقرض مشتریا ملك غیرہ فیصح [5]اھ، اما الاحتیال لدفع الربا فقد اسمعناك فیہ مایکفی ویشفی وقد تقدم قول ابی یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی ان العینۃ جائزۃ ما جور من عمل بھا قال واجرہ لمکان الفرار من الحرام [6]اھ وتقدم قولہ ان الصحابۃ فعلوا ذٰلك وحمدوہ [7] و تقدم قول الخانیۃ ان مثل ھذا

 جب تك خرچ نہ کرلے اس کا مالك نہ ہوگا تو اس غلہ کا مثل اس کے ذمہ پر واجب نہیں،اب جو یہ کہا کہ وہ غلہ جو میرے ذمہ ہے میں نے خریدا تو معدوم چیز خریدی لہٰذا ناجائز ہوا انتہی،نیز ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے کسی سے ایك پیمانہ غلہ قرض لے کر قبضہ کرلیا پھر بعینہ وہی غلہ قرض دینے والے سے خریداامام اعظم اور امام محمد کے قول پر جائز نہیں کہ وہ تو قبضہ کرتے ہی اس غلہ کا خود مالك ہوگیا تو اب اپنی ملك دوسرے سے کیسے خرید سکتا ہے،ہاں امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے قول پر وہ غلہ ابھی قرض دینے والے کی ملك پر باقی ہے تو یوں ہوگا کہ پرائی ملك اس سے خریدی تو صحیح ہوگی انتہی،رہا دفع رباکے لئے حیلہ کرنا اس میں ہم تجھے وہ کچھ سنا چکے جو کافی وشافی ہے،اور امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کا ارشاد گزرچکا کہ عینہ جائز ہے اور اس کا کرنے والا ثواب پائے گا فرمایا اس میں ثواب اس وجہ سے ہے کہ حرام سے بھاگنا ہے انتہی،اور ان کا یہ ارشادبھی گزرا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی۔اور فتاوٰی قاضی خان کا قول گزرا کہ اس کا مثل

 

 



[1]         القرآن الکریم ۵۵ /۶۰

[2]         سنن النسائی کتاب البیوع المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲/ ۲۱۷،جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۶

[3]        فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶

[4]        ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳

[5]        ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳

[6]        فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷

[7]       فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن