30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وانما حکم من حکم بالجواز مستنداالی التعامل اوان کان موضع القطع معلوما بالعرف کما فصلہ فی الدر وحواشیہ [1]۔
اور جس نے جواز کا حکم کیا اس نے تعامل کی بنیاد پر جواز کاحکم کیا یا اس بنیاد پر کہ ازروئے عرف کاٹنے کی جگہ معلوم ہو جیسا ك درر اور اس کے حواشی میں اس کی تفصیل ہے(ت)
جب شیئ مبیع قبل قبضہ مشتری دست بائع میں ہلاك ہوگئی بیع جاتی رہی اور جو قیمت لی تھ وہ واپس دینی واجب،
فی درالمختار عن الفتح والدرالمنتقی لوھلك المبیع بفعل البائع اوبفعل المبیع اوبامرسماوی بطل البیع و یرجع بالثمن لومقبوضا [2]۔واللہ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں بحوالہ فتح اور در منتقٰی ہے کہ اگر فعل مبیع یا فعل بائع یا کسی امر سماوی سے مبیع(بائع کے ہاتھ میں)ہلاك ہوجائے تو بیع باطل ہوجائے گی اور ثمنوں پر اگر بائع قبضہ کرچکا ہے تو لوٹائے جائیں گے،والله تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۱: از شہر کہنہ ۲محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنا مکان مسکونہ بعوض دین مہر زوجہ کے ساتھ بیع کردیا اور رجسٹری وغیرہ کی تکمیل کرادی،بعدہ،باجازت عورت تاحیات یعنی سوابرس اس مکان میں رہتا رہا پس بسبب رہنے زید کے اس مکان میں تکمیل بیعنامہ جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
بیع مذکور تام وکامل ہے اور زید کا رہنا بے اجازت عورت ہوتا تاہم اصلا تمامی بیع میں خلل نہ لاتا
فان غایتہ الغصب والبیع اذا تم افاد الملك والملك بالغصب لایزول علی ان الغصب لایتحقق فی العقاد و البیع لیس کالہبۃ حتی یشترط فیہ القبض و التخلیۃ وھذا ظاھر جدا،واللہ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ غایت اس کی غصب اور بیع جب تام ہوجائے تو مفید ملك ہوتی ہے اور غصب سے ملك زائل نہیں ہوتی،علاوہ ازیں غصب غیر منقولہ اشیاء میں متحقق نہیں ہوتا اور بیع ہبہ کی مثل نہیں حتی کہ اس میں قبضہ اور فارغ کرنا شرط قرار دیا جاتا اور یہ خوب ظاہر ہے،والله اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲: مرسلہ ابوالاثیم محمد ابراہیم بریلی خواجہ قطب ۱۱محرم ۱۳۲۳ھ یوم دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے انتقال کیا دو بھتیجے حقیقی اورایك دختر چھوڑی اور بڑا بھتیجا اس لڑکی کا شوہر ہے لیکن باہم زوجین میں ایك مدت سے نااتفاقی ہے حتی کہ نان ونفقہ تك نہیں دیتے،زید نے اپنی حیات میں اپنی کل جائداد دوہزار روپیہ میں اپنی دختر کے ہاتھ بیع کردی لیکن قیمت جائداد تخمینا چھ ہزار وپے ہے اور بیعنامہ بھی قانونی کردیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ روپیہ مشتریہ نے بائع کو کچھ نہیں دیا وہ کہا ں سے دیتی اس کانان ونفقہ بھی باپ کے ذمے تھا،ایك مرتبہ زید نے کسی موقع پر اپنے چھوٹے بھتیجے سے کہا کہ تیری حق تلفی مجھ سے ہوگئی تیرے بڑے بھائی کی وجہ سے وہ میری زندگی میں تواپنی زوجہ(یعنی میری لڑکی)کو کچھ دیتے نہیں ہیں بعد میرے مرنے کے کیا دیں گے،اس کے جواب میں بھتیجے نے یہ کہا کہ آپ میری حق تلفی کیو ں کرتے ہیں،اس کے جواب میں زید نے یہ کہا کہ جو کچھ ہونا تھا ہوگیا،پس صورت مذکورہ میں اس جائداد وبیع کا کیاحکم ہے؟ آیا دونو ں بھتیجو ں کو بھی شرعی حصہ پہنچتاہے یانہیں ؟ بینوا مع الدلیل و البرہان توجروا عندالحنان المنان(دلیل وبرہان کے ساتھ بیان کرو احسان ومہربانی فرمانے والے سے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ بیع صحیح وتام ونافذ ہوگئی جبکہ زید کی حالت صحت میں تھی،
کما ذکر لی السائل بلسانہ وذلك لانہ عقد صدر عن اھلہ فی محلہ فلا مردلہ،
جیسا کہ سائل نے مجھے زبانی بتایااوریہ حکم اس لئے ہے کہ یہ ایك ایسا عقیدہ ہے جو اہل سے صادر ہوکر محل میں واقع ہوا تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔(ت)
ادائے ثمن شرائط صحت یا نفاذ بیع سے نہیں ولہٰذا اگر بائع بعد تمامی عقد زرثمن تمام وکمال معاف کردے معاف ہو جائے گا اوربیع میں کوئی خلل نہ آئے گا کما نص علی فی فتاوٰی الامام قاضی خا ں وبینہ فی ردالمحتار وحققناہ فی فتاوٰنا (جیساکہ فتاوٰی امام قاضی خا ں میں اس پر نص کی گئی اور ردالمحتار میں اس کو بیان کیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی۔ت)یہا ں اگر معاف ثابت ہو فبہا اور اگر زید نے وصول پالینے کا اقرار کیا جب بھی مشتریہ پر ثمن کا دعوٰی اسے نہ رہا لان المرء مواخذباقرارہ(کیونکہ شخص اپنے اقرار سے پکڑا جاتاہے۔ت)اور یہ قرائن کہ وہ کہاں سے دیتی اس کا نفقہ بھی تو باپ کے ذمہ تھا بینہ ابراء کے مقابل مسموع نہ ہوتا توظاہر اقرار وصول کے سامنے بھی قابل التفات نہیں،
لان المال غاد و رائح وقد یکون لبعض الناس لاسیما النساء مال خفی قل مایطلع علیہ الاخرون وعسی ان یکون لہا من حلی جہازھا وامتعۃ مایفی بذٰلک۔
کیونکہ مال آنے جانے والی چیز ہے اور کبھی بعض لوگو ں خصوصا عورتو ں کے پاس کچھ پوشیدہ مال ہوتاہے جس پر دوسرے لوگ بہت کم مطلع ہوتے ہیں،شاید اس عورت کے پاس جہیز کا کوئی زیور یا سامان ہو جس سے وہ ادائیگی کرتی ہو، (ت)
اور جب خو زید کا دعوٰی نہ سنایا جاتا تو ورثاء کہ خلافۃ اسی طرف سے مدعی ہو ں گے ان کا دعوٰی کیونکر مقبول ہوسکتا ہے زید کا ایك بھتیجے سے کہنا کہ مجھ سے تیری حق تلفی ہوگئی صحت بیع کا منافی نہیں بلکہ مؤکد ہے کہ اگر بیع صحیح نہ ہوتی تو حق تلفی کیونکر ہوتی باقی براہ دیانت حق تلفی حکم قضاء میں صحت بیع پر اثر نہیں ڈالتی بیع صحیح ہوگئی،بھتیجو ں کا جائداد میں کچھ حق نہ رہا،ہا ں ثمن کا دعوٰی ممکن ہے اگر زید نے معاف یا وصول یا لینے کا اقرار نہ کیا ہو،واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: از پیگا مسئولہ مولوی حاجی نذیر احمد صاحب ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع