دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

دینا واجب تھے تاکہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنا جبکہ وہ پرانوں سے وزن میں برابر نہ ہوں ربا ٹھہرے بلکہ اتنی مالیت لازم تھی جس کا اندازہ ان تینوں سکوں میں سے جس سے چاہے کرلے تو جب ان میں سے ایك کا چلن جاتا رہا تو دو باقیوں میں سے جس سے

قلت وبہ ظھران تعبیر ھم بتنزیل ثلث الدین مسا محۃ نظرا الٰی ظاہر التغیر فی عدد الدراہم حیث یعطی من الجدیدۃ ثمانین مکان مائۃ وعشرین والافلا تنزیل فی المالیۃ اصلا و ثانیا ان سلم لزوم العتیقۃ عینا فیدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ اوالقرش وقد افتی ھو بہ الناس و جعلہ یسرا تاما من دون عسر اتاما من دون عسر وای یسر بعد حصول کراھۃ التحریم فاذن لا محید عما ذکرنا وباللہ التوفیق وبالجملۃ ماکانت امثال ھذہ الشبہات لتذکر و تسطر لو لا ما فی جوابھا من فوائد تظہر و تزھر،اقول:وبہ تبین والحمدﷲ ان لیس فیہ اعنی فی بیع دینار بدرھم بل فلس فضلا عن بیع نوط عشرۃ باثنٰی عشر شبھۃ ربا ایضا فضلا عن الربا خلافا لما زعم اللکنوی اذ الشبھۃ فی المحرمات ملحقۃ بالیقین کما نص علیہ فی الھدایۃ وغیرہا فلو کانت لو جبت الحرمۃ فضلا عن کراھۃ التحریم وقد قامت الادلۃ ان لاکراھۃ تحریم ھھنا فضلا عن الحرمۃ فظہر ان لاربا و لاشبہۃ ھذا و انما جل

چاہے ادا کردے اقول: یہیں سے ظاہر ہوا کہ ان کا یہ فرمانا کہ تہائی دین اتار دیا جائے مسامحہ ہے روپیوں کی گنتی می جو ظاہر تغیر ہو اس پر نظر فرماکر ایسا کہا کہ ایك سو بیس کی جگہ نئے اسی دے گا ورنہ مالیت میں اصلًا تغیر نہ ہوا،دوسرے یہ کہ اگر خاص پرانے روپے ہی لازم ہونا مان لیا جائے تو سود یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپیوں یا قرش کے ساتھ مثلًا! ایك پیسہ ملاکر دے اور فاضل عبدالحلیم نے لوگوں کو اس کا فتوٰی دیا ور اسے پوری آسانی بلا دشواری بتایا اور کراہت تحریم ہونے کے بعد کون سی آسانی ہے تو وہ معنی جو ہم نے ذکر کئے ان سے مفر نہیں اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے بالجملہ ایسے شبہات اس قابل نہ تھے کہ ذکر کئے جائیں اور لکھے جائیں اگر یہ نہ ہوتا کہ ان کے جوابوں سے چمکتے ہوئے فائدے ظاہر ہوئے،اقول: الحمد ﷲ اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا درکنار ایك اشرفی ایك روپے بلکہ ایك پیسہ کو بیچنے میں ربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہیں برخلاف اس کے جو لکھنؤ ی نے زعم کیا اس لئے کہ حرام چیزوں میں شبہہ بھی حکم یقین میں ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں منصوص ہے تو اگر یہاں شبہہ ہوتا تو حرمت واجب ہوتی چہ جائے کراہت تحریم،اور دلائل قائم ہوچکے کہ یہاں کراہت تحریم بھی نہیں چہ جائے حرمت، توظاہر ہوا کہ یہاں نہ سود ہے نہ سو دکاشبہہ،یہ تو لیجئے اور آگے سنئے

مایتشبث بہ ھذاالمانع ان النوط عــــــہ ان منع کرنے والے کی بڑی سند جو کچھ ہے یہ ہے کہ نوٹ

 عــــــہ: بل زعم ذاك اللکنوی ان من باع نوطا معلما برقم مائۃ مثلا فانما یرید بیع مائۃ ربیۃ واخذ بدلھا لا بدل النوط، اقول:اولا لوکان الامر کما زعمت لماصح بیع النوط بالربابی اصلا لانہ اذن بیع مائۃ درھم افرنجی بمائۃ درھم افرنجی وھی لاتتفاوت فیما بینھما بشیئ فکان الاستبدال عبثا والشرع لا یشرع العبث فی الاشباہ العقود تعتمد صحتھا الفائدۃ فما لم یفد لم یصح فلا یصح بیع درھم بدرھم اذا تساویا وزناو صفۃ کما فی الذخیرۃ [1] اھ وثانیًا قم یوما عن اریکتك واذھب الی البیاعین فاذا رأیت زیداباع نوطا من عمرو فاسألہ ھل قلت لہ بعتك مائۃ ربیۃ فسیقول لا وانما قلت بعتك ھذا النوط،فاسألہ ھل اردت ان تستبدل مائۃ ربیۃ لك بمائۃ ربیۃ لعمرو فسیقول لاوانما اردت استبدال

 عــــــہ:بلکہ اس مولوی لکھنوی نے یہ زعم کیا کہ سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کاغذ کی نہیں ہوتی ہے بلکہ مقصود سو روپے بیچنا اور اس کی قیمت لینا ہوتا ہے،اقول:(میں کہتا ہوں)اولًا: اگر معاملہ یوں ہوتا تو روپیوں کے بدلے نوٹ بیچنا اصلًا جائز نہ ہوتا کہ اب یہ سو روپے انگریزی سوروپے انگریزی کو بیچنا ہوا اور انگریزی روپے باہم کچھ فرق نہیں رکھتے تو یہ سوروپے دے کر وہ سو روپے لینا نرا عبث ہوا اور شرع عبث کو مشروع نہیں فرماتی،اشباہ میں ہے عقد جب صحیح ہوتاہے کہ اس سے کچھ فائدہ بھی ہو جومحض بے فائدہ ہے وہ عقد صحیح نہیں تو ایك روپیہ ایك روپے کو بیچنا ناجائز ہے جبکہ دونوں روپے وزن وحالت میں برابر ہوں جیسا کہ ذخیرہ میں ہے انتہی، ثانیًا:مولوی صاحب ذرا اپنی مسند سے اٹھ کر کسی دن بازار جائیے جب دیکھئے کہ زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی نوٹ بیچا تو اس سے پوچھئے کیا تو نے اس سے یوں کہا تھا کہ میں نے تیرے ہاتھ سو روپے بیچے وہ ابھی ابھی جواب دے گا کہ نہ،بلکہ میں نے تو یہ کہا کہ یہ نوٹ تیرے ہاتھ بیچا،اب اس سے پوچھئے کیا تو نے یہ قصد کیا تھا کہ اپنے سو روپے عمرو کے سو روپیوں سے (باقی اگلے صفحہ پر)

مغرق فی الربابی کانہ ھی من دون فرق روپوں میں غرق ہے گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اور کچھ

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

نوطی بربا بیۃ فاسألہ ھل اخذت ثمن ربابیك فیسقول لابل ثمن نوطی فاسألہ ھل تنقد لہ مائۃ ربیۃ من کیسك فسیقول لابل اعطیہ نوطی فعند ذلك یتمیز لك النہار من اللیل،وثالثًا: لیتك تعرف المبیع من المعدوم فان البائع ربما لا تکون عندہ الربابی بل ولاربیۃ واحدۃ وبیع المعدوم باطل وقد نہی عنہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،ورابعًا: من احتاج الی النوط لیر سلہ فی البوسطۃ فان ارسالہ فیہا ایسر واقل مصروفا فباعہ زید نوطہ ثم ارادہ ان یعطیہ مائۃ ربیۃ لایقبلہ المشتری ویقول انما اشتریت منك النوط وقد کانت الربابی عندی فما کان یحوجنی الٰی شرائھا منك وعند ذلك تعرف

بدلے،وہ ابھی جواب دے گا کہ نہ،بلکہ اپنا نوٹ اس کے روپیوں سے بدلنا چاہا،اب اس سے پوچھئے کیا تو نے اپنے روپیوں کی قیمت لی وہ ابھی جواب دیگا نہ،بلکہ اپنے نوٹ کی۔اب اس سے پوچھئے کیا تو اپنی تھیلی میں سے سو روپے اسے دے گا،وہ ابھی جواب دے گا کہ نہ بلکہ اسے اپنا نوٹ دوں گا اس وقت آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ دن اور رات میں یہ فرق ہے،ثالثًا: کاش آپ کو مبیع و معدوم کا فرق معلوم ہوتا اس لئے کہ بارہا نوٹ بیچنے والے کے پاس روپے نہیں ہوتے بلکہ ایك روپیہ تك نہیں ہوتا تو اگر اسے سوروپے بیچنا مقصود ہوتے تو معدوم کی بیع کررہا ہے،اور معدوم کی بیع باطل ہے،اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے۔رابعًا: جسے ڈاك میں بھیجنے سے آسان بھی ہے اور خرچ بھی کم ہے اس کے ہاتھ جبکہ زید نوٹ بیچے اور پھر نوٹ نہ دے بلکہ اس کی جگہ سو روپے دینا چاہے تو خریدار ہر گز نہ لے گا اور اس سے کہے گا کہ میں نے تو تجھ سے نوٹ خریدا تھا روپے تو خود میرے پاس موجود تھے مجھے تجھ سے روپے خریدنے کی کیا حاجت تھی اس وقت آپ کو معلوم (باقی اگلے صفحہ پر)

 

 



[1]       الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن