30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرض عین ہو تو حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی انتہی،اور عبارت عبدالحلیم میں یہ معنی وجوب لینا ضرور ہے بسبب ان دلیلوں کے جو ہم قائم کرچکے اور تو اسے ظاہر پر محمول کئے بغیر نہ مانے تو یہ شیخ عبدالحلیم
لنقل وفہمہ غیر حجۃ فی الشرع لاسیما عند قیام البراھین علٰی خلافہ،وثالثًا: ان لم یحمل علی ما قلنا یکون کلامہ قد ناقض نفسہ لانہ ذکر بعد ھذا بورقۃ واقعۃًتحدث فی الدولۃ العثمانیۃ من تبدیل الدراہم العتیقۃ المغشوشۃ الغالبۃ فیہا الفضۃ بدراہم جدیدۃ جیدۃ و یمنع بظہور ھا التعامل بالعتیقۃ و من ردائۃ العتیقۃ ان الدرہم الکبیر الرومی وھو المسمی بالقرش یکون بمائۃ وعشرین درھما منھا والدینار بمائتین واربعین فاذا ظھرت الجدیدۃ ینزل القرش الی ثمانین من الجدیدۃ والدینار الی مائۃ وعشرین فیقع بین الناس نزاع کثیر فی دیونھم الواقعۃ فی زمن العتیقۃ قال فافتی اسلافنا من ساداتنا علماء قسطنطنیۃ المحمیّۃ بتنزیل ثلث الدین فبمقابلۃ دین مائۃ وعشرین درھما یعطی المدیون الدائن ثمانین درھما جدیدا او قرشا واحدا وبمقابلۃ مأتین واربعین دینارا او قرشین الٰی ان جاء زمن افتاء استاذنا المرحوم اسعد بن سعد الدین فافتی بان یعطی قیمۃ العتیقۃ فی زمن العقدمن الدینار مثلًا لکل
کی اپنی ایك سمجھ ہے جس پر انہوں نے کوئی نقلی سند پیش نہ کی اور ان کی فہم شرع میں حجت نہیں خصوصًا جبکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہوں۔ثالثًا: اگر اس معنی پر محمول نہ کیا جائے تو ان کا کلام خود اپنے نفس کا مناقض ہوگا،اس لئے کہ انہوں نے اس کلام سے ایك ورق بعد دولت عثمانیہ کا ایك واقعہ بیان کیا ہے،پرانے روپے جن میں میل ہے اور چاندی غالب ہوتی ہے انہیں نئے کھرے روپے سے بدلتے ہیں اور ان نیؤں کے بعد پرانوں سے معاملہ کرنا منع کردیا جاتا ہے اور پرانوں کا کھوٹا پن یہاں تك ہے کہ ایك بڑا روپیہ رومی جسے قرش کہتے ہیں ان پرانوں کے ایك سو بیس کے برابر ہوتاہے اور اشرفی دو سو چالیس کے برابر،جب نئے روپے چل جاتے ہیں تو قرش کی قیمت ان نیؤں سے اسی روپے رہ جاتی ہے اور اشرفی ایك سو بیس کی،تو لوگوں کا وہ لین دین جو پرانے روپیوں کے زمانے میں ہوا تھا اس میں بڑا جھگڑا پڑجاتا ہے تو علمائے محرسہ قسطنطنیہ سے ہمارے اگلوں سرداروں سے یہ فتوی دیا کہ تہائی دین اتاردیں،تو ایك سو بیس پرانے روپے کی جگہ مدیون دائن کو نئے اسی روپے یا ایك قرش دے اور دو سو چالیس پرانے روپے کی جگہ ایك اشرفی یا دو قرش یہاں تك ہمارے استاذ مرحوم اسعد بن سعد الدین کے افتا کا وقت آیا تو انہوں نے یہ فتوٰی دیا کہ زمانہ عقد میں پرانے روپیوں کی جو قیمت تھی اتنی قیمت کی اشرفیاں دی جائیں مثلًا ہر
مائتین واربعین درھما یعطی دینارا ولم یجوز اعطاہ درھما جیداولا قرشا و صرح بان فی المسلك السابق حقیقۃ الربا او شبھتہ [1]،ثم قال یقول العبد ان ما افتی بہ اولاصحیح ایضا مع ان فیہ یسراوتوسیع دائرۃ لاداء الدین اما صحتہ فان الدراہم العتیقۃ لما کانت رائجۃ کما یروج القرش والدینار من غیر فرق بینھن تقرر ان دین المدیون استقر فی ذمتہ علی ھذاالتفصیل وصرف الدین الی ماقدربہ فی الاداء من کل نوع ای نوع کان من العتیقۃ و القرش والدینار کماصرح الفقہاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی و الثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃو القرش والدینار کما صرح الفقھاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی والثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃ وظہر الجدیدۃ ورخص القرش و الدینار بالتنزیل الی ما سبق ذکرہ نزل الدین کذٰلك و فیہ توسیع دائرۃ ویسر تام اذ یؤدی المدیون من ای نوع قدر بخلاف ما افتی بہ ثانیًا اذقد لایکون للمدیون دینار وقد لایجد وقد یکون الدین او الباقی غیر بالغ الی قیمۃ الدینار فیعسر الاداء مع
دو سو چالیس روپے کے بدلے ایك اشرفی دے اور یہ جائز نہ رکھا کہ اسے نیا روپیہ یا قرش دے اور تصریح فرمائی کہ اگلے مسئلہ میں یا تو حقیقۃً سود ہے یا اس کا شبہہ۔پھر شیخ عبدالحلیم نے کہا کہ وہ جو پہلوں نے فتوٰی دیا وہ بھی صحیح ہے اور اس کے ساتھ اس میں آسانی ہے اور ادائے دین کے دائرہ میں وسعت،اس کی صحت تو اس سبب سے ہے کہ پرانے روپوں کا جب بعینہ ایسا ہی چلن تھا جیسے اشرفی اور قرش کا،توثابت ہوا کہ مدیون پر دین اسی تفصیل سے ٹھہرااور دین کاحاصل اس طرف پھیرے گا کہ اتنی مقدار کا مال لازم ہے کسی نوع میں سے ہو،پرانے روپے ہوں یا قرش یا اشرفی جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے جب کہ مختلف سکوں کا ایك ساچلن ہو،تو جب پرانوں کا چلن بند کردیا گیا اور نئے چلنے لگے اور قرش اور اشرفی کا بھاؤ اس مقدار پر کہ اوپر مذکور ہوئی اتر گیا دین بھی اتنا ہی اتر جائے گا اور اس میں دائرہ کی وسعت اور پوری آسانی ہے اس لئے کہ مدیون جس نوعیت پر قدرت پائیگا اس میں سے ادا کریگا بخلاف دوسرے فتوٰی کے،اس لئے کہ کبھی مدیون کے پاس اشرفی نہیں ہوتی اور نہ اسے ملتی ہے،اور کبھی کل دین یا باقی اتنا نہیں ہوتا کہ اشرفی کے مقدار کو پہنچے توادا دشوار
ان الاثمان الرائجۃ فی زمن العقد سوی العتیقۃ باقیۃ علی رواجھا ولیس فیہا کساد ولا منع سوی الترخیص بالنسبۃ الی الجیدۃ فمن این التکلیف للمدیون باداء الدین بالدینار فقط فظہر ان ماافتی بہ اولا صحیح علی وجہ الیسر لا عسر فیہ نعم لو سلم وجدان الربا اما حقیقۃ او حکما فی الاداء بالجدیدۃ او بالقرش بان لا مساواۃ بینھما وزنا اولا یعلم فانہ یدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ او القرش کما لایخفی [2] اھ ملخصًا،والمسئلۃ مذکورۃ فی الدر وغیرہ واختار العلائی ماافتی بہ سعدی افندی و ھو الالزام بالذھب ومال ابن عابدین الٰی نحو مامال الیہ عبدالحلیم وحاصلہ اولامنع ان اللازم علی ذمۃ المدیون عین العتیقۃ حتی یکون الاداء بالجدیدۃ او القرش مع عدم مساواتھا للعتیقۃ وزنًا ربا بل الازم تلك المالیۃ المقدرۃ بای الثلثۃ شاء فاذا کسد منھا واحد جاز الاداء عن احدالباقین
ہوگی حالانکہ جو ثمن زمانہ عقد میں رائج تھے وہ پرانے روپیوں کے سوا بدستور رائج ہیں ان کا نہ چلن گھٹا نہ منع کیا گیا سوا اس کے کہ نئے روپیوں سے ان کا بھاؤ سستا ہوگیا تو کہاں سے مدیون کو مجبور کیا جائے گا کہ خاص اشرفی ہی سے اپنا دین ادا کرے تو ظاہر ہوا کہ وہ جو پہلا فتوٰی تھا صحیح اور آسان ہے اس میں کچھ دشواری نہیں،ہاں اگر یہ مان لیا جائے کہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنے میں حقیقۃً ربا ہے یا حکمًا یوں کہ دونوں کا وزن برابر نہیں یا برابری کا علم نہیں تو وہ یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپے یا قرش کے ساتھ مثلًا ایك پیسہ ملاکردیا جائے جیسا کہ پوشیدہ نہیں انتہی ملخصًا،اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے اور صاحب درمختار نے اسی کو اختیار کیا جو سعدی آفندی کا فتوٰی ہے کہ مدیون پر سونے ہی سے ادا کرنا واجب ہے اور علامہ شامی نے اس طرف میل کیا جس طرف شیخ عبدالحلیم کی رائے جھکی اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اول تو ہم یہی نہیں مانتے کہ مدیون کےذمہ خاص پرانے روپے ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع