دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

 

 

کان فی صورۃ عود کل المدفوع او بعضہ الی الدافع اولا [1] تدبر،و۸الثامن:شرطوا الجواز شراء الوصی مال الیتیم لنفسہ او بیعہ مال نفسہ لہ الخیریۃ للیتیم و جعلوھا فی العقار بالضعف وفی غیرہا بمثل ونصف [2] کما فی الخانیۃ والھندیہ وشرطوا الجواز بیعہ مال الیتیم من اجنبی ان لم تکن للصغیرہ حاجۃ الی ثمنہ ولا علی المیت دین لاوفاء لہ الابہ ان یبیعہ بضعف القیمۃ قال فی الھندیۃ عن محیط السرخسی وعلیہ الفتوی [3]فھذا تفاضل فی المالیۃ مأ موربہ من جہۃ الشرع،و۹التاسع: ماتقدم عن الفتح وغیرہ من المعتمدات من قولہ لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ [4]و۱۰العاشر:فی باب الربا من ردالمحتار عن الذخیرۃ اذادفع الحنطۃ الی خباز جملۃ واخذ الخبز مفر قا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما او سکینا من الخباز بالف من من

جو متاع دی وہ پوری دینے والے کی طرف عود کرآئے یا اس کا حصہ یا کچھ نہیں،تدبر،دلیل ہشم:وصی اگر یتیم کامال خود خریدنا یا اپنا مال اس کے ہاتھ بیچنا چاہے تو اس کے جواز کے لئے علماء نے یہ شرط فرمائی ہے کہ اس خریدو فروخت میں یتیم کا نفع ہو اور اس نفع کی مقدار جائداد غیر منقولہ میں دو چند رکھی اور منقولہ میں ڈیوڑھی،جیساکہ فتاوٰی قاضی خان اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے اور وصی اگر یتیم کا مال کسی دوسرے کے ہاتھ میں بیچنا چاہے اور نابالغ کو اس کی قیمت کی ضرورت نہ ہو اور نہ مورث پر کوئی دین ہو کہ بغیر اس کے بیچے پورا نہ ہو تو اس صورت میں جواز بیع کی یہ شرط لگائی کہ دونی قیمت پر بیچے،ہندیہ میں محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اسی پر فتوٰی ہے تو مالیت کی اس کمی بیشی کا خود شرع کی طرف سے حکم ہے،دلیل نہم:وہ جو فتح القدیر وغیرہ معتمد کتابوں سے گزرا کہ اگر ایك کاغذ ہزار روپے کو بیچا تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ___دلیل دہم:ردالمحتار کے باب ربا میں ذخیرہ سے ہے جب نانبائی کو گیہوں اکٹھے دے دئے اور روٹی تھوڑی تھوڑی کرکے لی تو یوں چاہئے کہ گیہوں والانانبائی کے ہاتھ ایك انگوٹھی یا چاقو مثلا ہزار من روٹی

الخبز مثلا[5] الخ واین یقع سکین من الف من من الخبز ونظائر ھذ الوسرد نا ھالم نستطع احصاء ھا و انما تنزلنا بعد السادس الٰی ھنا لان کلامھم فی المضموم الاقل مطلق من ان یکون من الاثمان او الاعیان ومن الاموال الربویۃ او من غیرہا فھذا غایۃ تحقیق المسألۃ،اما کلام الشیخ عبدالحلیم فاقول: اولا: لیس الوجوب للاحتیاط وجوب الشیئ فی نفسہ ولا شك ان ترك مالابأس بہ حذرامما بہ باس من قبیل الاحتیاط فی الدین ولا یحصل ذٰلك الا بماذکر فکان من واجباتہ اذ الواجب للشیئ ھو الذی لا تحصل لہ الابہ وثانیًا: ربما یطلق الواجب عرفا علی المندوب ومنہ قول الدر لاباس بہ ای بالتکبیر عقب العید لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم [6] اھ ونظرلہ الشامی فی موضع اٰخر بقولھم حقك واجب علی وفی کتاب

 کو بیچے الخ اور بھلا کہاں چاقو اور کہاں ہزار من روٹی اور اس کے نظائر اگر ہم بیان کرتے جائیں تو ان کا احاطہ نہ کرسکیں گے اور دلیل ششم کے بعد جو ہم یہاں تك اتر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو علماء نے فرمایا تھا کہ جس جانب وزن کی کمی ہے کوئی چیز ملادی جائے وہ ان کے کلام میں مطلق ہے خواہ ثمن ہو یا متاع اور اموال ربا سے ہویا نہیں تو یہ تحقیق مسئلہ کی انتہا ہے،رہا فاضل عبدالحلیم رومی کا کلام اقول:اولًا:حصول احتیاط کیلئے کسی شیئ کا وجوب اس کا فی نفسہٖ وجوب نہیں اور شك نہیں کہ خرابی کے ڈر سے جس چیز میں خرابی نہیں اسے چھوڑنا دین میں احتیاط کے قبیل سے ہے اور یہ اسی طور پر حاصل ہوگا جو انہوں نے ذکر کیا احتیاط کے واجبات سے ہو اکہ کسی شے کے لئے واجب وہی ہے جس کے بغیر شے حاصل نہ ہو،ثانیًا: اکثر عرف میں مستحب کو واجب کہتے ہیں اوراسی میں سے ہے درمختار کا یہ قول کہ نماز عید کے بعد تکبیر کہنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ یہ مسلمانوں میں سلف سے چلا آتا ہے تو ان کی پیروی واجب ہوئی انتہی،اور شامی نے دوسری جگہ اس کی ایك نظیر یہ بیان کی کہ عر ف میں کہتے ہیں تیرا حق مجھ پر واجب ہے اور

ادب القاضی من الفتح تحت قولہ" ویشھد(ای القاضی) الجنازۃ ویعود المریض"ذکر حدیث البخاری فی الادب المفرد عن ابی ایوب الانصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قال سمعت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یقول ان للمسلم علی اخیہ ست خصال واجبۃ ان ترك شیئا منھا فقد ترك حقا واجبا علیہ لاخیہ یسلم علیہ اذا لقیہ ویجبیہ اذا دعاہ ویشمتہ اذاعطس ویعودہ اذامرض ویحضرہ اذا مات وینصحہ اذا استنصحہ ثم قال ولا بدمن حمل الوجوب فیہ علی الاعم من الوجوب فی اصطلاح الفقہ الحادث فان ظاہرہ وجوب الابتداء بالسلام وکون الوجوب وجوب عین فی الجنازۃ فالمراد بہ امر ثابت علیہ اعم من ان یکون ندبا او وجوبا بالاصطلاح اھ [7] ولا بدمن الحمل علیہ لما اقمنا من الادلۃ وان ابیت الاحملہ علی ظاہرہ فھذا فھم من الشیخ عبدالحلیم لم یستند فیہ

فتح القدیر کی کتاب ادب القاضی میں اس قول ماتن کے نیچے کہ قاضی جنازہ پر حاضر ہو اور بیمار کے پوچھنے کو جائے ادب المفرد میں بخاری کی یہ حدیث ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ذکر کی کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا مسلمان کے مسلمان پر چھ حق واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز ترك کرے تو اپنے بھائی کا ایك حق چھوڑیگا جو اس کے لئے اس پر واجب تھا،ملاقات کے وقت اسے سلام کرے،اور وہ دعوت کرے تو قبول کرے یا وہ پکارے تو جواب دے اور،جب اسے چھینك آئے(اور وہ حمدالٰہی بجالائے)تو یہ اسے"یر حمك اللہ"کہے،اور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جائے،اور اس کی موت میں حاضر ہو،اور اگر اس سےنصیحت چاہے تو نصیحت کرے۔پھر محقق نے فرمایا ضرور ہے اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر حمل کریں جو وجوب کے اس معنی سے کہ فقہ کی اصطلاح حادث میں ہے عام ہو اصل کہ ظاہر حدیث یہ ہے کہ ابتداء بہ سلام واجب ہو اور نماز جنازہ



[1]       حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم

[2]       فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۶

[3]       فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۶

[4]       فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴

[5]       ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۶

[6]       درمختار باب العیدین مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷

[7]       فتح القدیر کتاب الادب القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۷۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن