دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

واجب ہوگا کھرے اور کھوٹے کا وزن میں برابر ہونا مکروہ تحریمی ہو جبکہ کھرے کی قیمت کھوٹے سے اتنی زیادہ ہو جس میں لوگ ایك دوسرے سے غبن نہ کھائیں جیسے اس کی مالیت اس کی مالیت سے دونی یا کئی گناہو اس لئے کہ کراہت تحریم کاوہ موجب یہاں بھی یقینا حاصل ہے اور حکم اپنے موجب سے پیچھے نہیں ہٹتا حالانکہ کھوٹے کھرے کا وزن میں برابر ہونا اسی کا شرع نے حکم دیا ہے اور ایسے ہی وہ جو

قیمتہ اضعاف قیمۃ مایساویہ وزنا من التبراو الدراہم یکون التساوی فیہ موجب لما او جبتم بہ کراھۃ التحریم مع انہ ھو الواجب شرعا فاذن یکون الشرع قد اوجب ماھو معصیۃ فان المکروہ تحریما منھی عنہ وارتکابہ اثم و معصیۃ وان کانت صغیرۃ کما نص علیہ فی البحر والدروغیرہما وبالاعتاد یصیر کبیرۃ ولا شك ان الشرع متعال عن ان یامر بمعصیۃ و یوجب ارتکاب اثم بخلاف المکروہ تنزیہا فانہ من المباح ولیس من المعصیۃ قطعا و ربما یتعمدہ الانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام بیانا للجواز، وقد زلت قدم ذاك اللکنوی فی رسالتہ فی الدخان فجعل المکروہ تنزیہا من المعاصی والاصرار علیہ من الکبائر وھذہ مزلۃ فاحشۃ بینت عوارھا فی رسالۃ مستقلۃ سمیتھا"جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰ھ"والاعتذار بان الشرع اھدر اعتبار المالیۃ عند اتحاد الجنس لایجدی نفعا فان ذٰلك اول الکلام ان لوکان الاربا فی المالیۃ موجب المعصیۃ فی نظر الشرع فلم اھدر اعتبارھا مع مافیہ من ابطال مقصد نفسہ اعنی الشرع وھو صیانۃ اموال

صناعی کے سبب بڑھائے یہاں تك کہ اسکی قیمت اس کے ہم وزن پتر یا روپوں سے کئی گنا ہوجائے تو اس میں وزن کی برابری اسی کراہت تحریم کی موجب ہوگی جو تم نے قراردی ہے حالانکہ وہی شرعًا واجب ہے تو اس وقت یہ ہوگا کہ شرع نے وہ چیز واجب کی جو گناہ ہے اس لئے کہ مکروہ تحریمی ممنوع ہے اور اس کا کرنا گناہ اگرچہ صغیرہ ہے جیسا کہ بحرالرائق و درمختار وغیرہما نے تصریح کی اور عادت ڈالے سے کبیرہ ہوجائے گا،اور شك نہیں کہ شرع اس سے بلند وبالا ہے کہ معصیت کا حکم دے اور گناہ کرنا واجب کرے بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ وہ مباح میں سے ہے اور معصیت میں سے یقینا نہیں،کبھی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اسے قصدًا کرتے ہیں کہ اس کا جائز ہونا ظاہر ہوجائے اور انہیں لکھنوی کا حُقّہ کے رسالہ میں قدم پھسلا تو مکروہ تنزیہی کو گناہ اور اس پر اصرار کو کبیرہ ٹھہرادیا اور یہ فاحش غلطی ہے کہ اس کا عیب میں نے ایك مستقل رسالہ میں بیان کیا اس کا نام "جمل مجلّیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھ"رکھا اور یہ عذر کرناکہ ایك جنس ہونے کی حالت میں شرع نے مالیت کا اعتبار ساقط فرمادیا ہے کچھ نفع نہ دے گا اس لئے کہ یہی تو پہلی بحث ہے کہ اگر شرع کی نظر میں مالیت کی زیادتی موجب معصیت تھی تو کیوں اس کا اعتبار ساقط فرما دیا حالانکہ اس میں خود مقصود شرع کا باطل کرنا تھا مقصود کیا ہے لوگوں کا 

الناس وانما الاموال بالمالیۃ وفیہ ایصال اکلۃ الربا الٰی قصدھم الفاسد فان غرضم انما یتعلق بالمالیۃ فاذااربوا فیہا فقد فاز وابمرادھم ولا نظر لھم الی زیادۃ الوزن وقلتہ فتبین ان الاربا فی المالیۃ لانظر الیہ للشرع ولایمکن ان یوجب کراھۃ تحریم اصلا وھو المقصود،و۶السادس:طفحت المتون قاطبۃ بجواز بیع فلس بفلسین وقال فی البحر لیس مرادھم خصوص بیع الفلس بالفلسین بل بیان حل التفاضل حتی لوباع فلسا بمائۃ علی التعیین جاز عندھما[1]ای عند الشیخین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما وای نص ترید انص من ھذا علی حل التفاضل بالمالیۃ والحمدﷲ،نعم الحل قد یجامع کراھۃ التنزیہ کما نصواعلیہ، ۷السابع: العینۃ المذکورۃ فانما مبناھا علی التفاضل فی المالیۃ ولا یتقید بنحوعشرۃ باثنی عشر او ثلثۃ عشر کما فی الخانیۃ او خمسۃ عشر کما فی الفتح بل صورت بصورت الضعف ایضا قال فی الفتح من

مال بچانا اورمال کی حقیقت مالیت ہی ہے اور اس میں سود خوروں کو ان کے قصد فاسد تك پہنچانا ہوگا کہ ان کی غرض تو مالیت ہی سے متعلق ہے جب انہوں نے مالیت زیادہ پالی تو اپنی مراد کو پہنچے اور وزن کی کمی بیشی کی طرف ان کی نظر نہیں تو ظاہر ہوگیا کہ مالیت میں زیادتی کی طرف شرع اصلًا نظر نہیں فرماتی تو ممکن نہیں کہ اصلًا کراہت تحریم واجب کرے اور یہی مقصود ہے۔دلیل ششم:تمام متون بالاتفاق اس تصریح سے لبریز ہیں کہ ایك پیسہ دو پیسے کو بیچنا جائز ہے اور بحرالرائق میں فرمایا کہ ان کی مراد خاص یہی نہیں ہے کہ ایك پیسہ دو پیسے کو بلکہ کمی بیشی حلال ہونے کا بیان مقصود ہے یہاں تك کہ اگر ایك پیسہ سو معین پیسے کو بیچے تو امام اعظم اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے نزدیك حلال ہے اور اس سے بڑھ کر تو اس پر اور کون سا روشن تر نص چاہتا ہے کہ مالیت میں کمی بیشی روا ہے والحمد ﷲ،ہاں حلال ہونا کبھی کراہت تنزیہ کے ساتھ جمع ہوجاتا ہے جیساکہ علماء نے تصریح فرمائی۔دلیل ہفتم: عینہ مذکورہ کہ اسکی بناء ہی مالیت میں کمی بیشی پر ہے،اور وہ کچھ اسی پر بند نہیں کہ دس کے بارہ یا تیرہ کریں جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان میں ہے یا پندرہ جیسا کہ فتح القدیر میں بلکہ دو نادون کی صورت بھی اس میں بیان کی گئی ہے،فتح القدیر میں فرمایا کہ عینہ کی ایك صورت

صور العینۃ ان یبیع متاعہ بالفین من المستقرض الٰی اجل ثم یبعث متوسطا یشتریہ لنفسہ بالف حالۃ ویقبضہ ثم یبیعہ من البائع الاول بالف ثم یحیل المتوسط بائعہ علی البائع الاول بالثمن الذی علیہ وھو الف حالۃ فید فعھا الی المستقرض ویأخذ منہ الفین عند الحلول [2] اھ واذجاز ضعف جازت الاضعاف،اقول:ولا یلزم المتوسط بل لہ ان یبیعہ من المستقرض بالفین یبیعہ المستقرض فی السوق بالف کیلا تعود العین الی المقرض فیکون مکروہا تحریما فی بحث المحقق وان کان فیہ للکلام مجال فان شراء ماباع باقل مما باع جائز عند توسط ثالث بالاجماع ولم یذکروا فیہ تأثیما وقد تقدم عن فقیہ النفس فی حیل الفرار عن الحرام وانی تتم الحیلۃ مع بقاء المعصیۃ لاجرم قال العلامۃ عبد الحلیم فی حواشی الدرر الظاہر کراھۃ تنزیہ سواء

یہ ہے کہ اپنی متاع قرض لینے والے کے ہاتھ ایك وعدپر دو ہزار کو بیچے پھر کسی درمیانی شخص کو بھیجے کہ وہ اس سے اپنے لئے ہزار نقد کو خرید کر قبضہ کرلے پھر یہ درمیانی شخص پہلے شخص سے اسے ہزار کو بیچ ڈالے پھر وہ درمیانی اپنے بائع یعنی قرض لینے والے کا ثمن پہلے بائع پر اتار دے اور وہ ہزار روپے نقد ہیں تو پہلا بائع ہزار روپے قرض لینے والے کو دے دے اور وعدہ پر دو ہزار اس سے لے انتہی،اور جب دو نا جائز ہوا تو کئی گنا بھی جائز ہے،اقول:(میں کہتا ہوں)اس درمیانی شخص کا ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ بھی کرسکتاہے کہ قرض لینے والے سے(ہزار کی چیز)دو ہزار کو بیچے وہ بازار میں ہزار کو بیچ لے تاکہ وہ متاع قرض دینے والے کی طرف عود نہ کرے کہ عود کرنے کی حالت میں محقق کے نزدیك مکروہ تحریمی ہوجائے گی،اگرچہ اس میں کلام کی گنجائش ہے کہ اپنی بیچی ہوئی چیز جتنے کو بیچی ہے اس سے کم کو خریدنا بالاجماع جائز ہے جبکہ تیسرا شخص متوسط ہے اور علماء نے اس میں کوئی گناہ تحریر نہیں فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خان سے یہ امر اوپر گزر چکا جہاں انہوں نے حرام سے بھاگنے کے حیلے بیان فرمائے اور اگر معصیت باقی رہے تو حیلہ کہاں پورا ہو،لاجرم علامہ عبدالحلیم نے حواشی درر میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہی ہے چاہے

 



[1]       بحرالرائق باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۳۲

[2]       فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۶ /۳۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن