دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

پردلیل لائے،علامہ سعدی آفندی نے فرمایا کہ میں کہتا ہوں اگر یہ دلیل صحیح ہوجائے تو زراعت بھی مذموم ہوجائے گی اور ہدایہ و تبیین و درمختار وغیرہا میں ا س کی کراہت کی صرف اتنی دلیل بتائی کہ اس میں قرض دینے کی نیك سلوك سے رو گردانی ہے،ہدایہ میں اتنا زیادہ فرمایا کہ بخل مذموم کی پیروی کرکے،اور تجھے معلوم ہے کہ نیك سلوك سے رو گردانی کچھ کراہت تحریم کی

ولذا قال فی الفتح لاباس فی ھذافان الاجل قابلہ قسط من الثمن والقرض غیر واجب علیہ دائما بل ھو مندوب اھ [1] وقال فی العنایۃ الاعراض عن الاقراض لیس بمکروہ والبخل الحاصل من طلب الربح فی التجارات کذالك والالکانت المرابحۃ مکروھۃ [2] اھ، اقول: بل لیست التجارۃ الاان تبغوافضلا من ربکم والمماکسۃ فی المبایعۃ مسنونۃ،وقد قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ المغبون لامحمود ولا ماجور [3] رواہ اصحاب السنن عن الحسین بن علی والطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی والخطیب عن سید نا علی کرم اللہ تعالٰی وجوھھم الکرام،فغایۃ مافیہ کراھۃ التنزیہ والا فقد صح ان الصحابۃ فعلوہ وحمدوہ و فی حاشیۃ الفاضل عبد الحلیم معاصر العلامۃ الشرنبلالی رحمہما اللہ تعالٰی علی الدرر والمروی عن ابی یوسف انہ قال العینۃ جائزۃ مأجورۃ لمکان الفرار فیہا عن الحرام و

موجب نہیں،لہذافتح القدیر میں فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں کہ وعدہ کے مقابل تو ثمن کا ایك حصہ ہولیا اور آدمی پر واجب نہیں کہ ہمیشہ قرض دیا کرے بلکہ وہ ایك نیك بات ہے انتہی، اور عنایہ میں فرمایا قرض دینے سے رو گردانی مکروہ نہیں اور اتنا بخل کہ آدمی تجارتوں میں نفع چاہے وہ بھی ایسا ہی ہے ورنہ نفع پر بیچنا مکروہ ہوتا انتہی،اقول:بلکہ تجارت تو اسی کا نام ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور خرید و فروخت میں قیمت کم کرانا سنت ہے،اور بیشك نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ غبن کھانے میں نہ ماموری نہ ثواب،یہ حدیث اصحاب سنن نے امام حسین اور طبرانی نے اپنی معجم میں امام حسن اور خطیب نے مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجوھہم الکرام سے روایت کی تو اس میں انتہا درجہ کراہت تنزیہ ہے ورنہ بصحت ثابت ہولیا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور تعریف فرمائی اور علامہ عبدالحلیم معاصر علامہ شرنبلالی رحمہما اللہ تعالٰی حاشیہ درر میں لکھتے ہیں امام ابویوسف سے روایت یوں ہے کہ بیع عینہ جائز اور ثواب کاکام ہے اس لئے کہ اس میں حرام سے بھاگنا ہے اور حرام

الاحتیال للفرار عن الحرام مندوب ولانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ و حمدواذٰلك [4] اھ،وظاھر سیاقہ ان جملۃ ''والاحتیال للفرار عن الحرام مندوب'' من کلام الامام ابی یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی واللہ تعالٰی اعلم،ھذا احدالدلائل علیہ والثانی:تصریحھم قاطبۃ ان القدر والجنس اذاعدم احدھما حل الفضل و معلوم قطعًا ان الدینار والدرھم او الدینار و الفلس لایتجانسان فیجب الحل فمن این تأتی کراھۃ التحریم،وتحقیقہ ان للتفاضل اربع صور ۱الاول: ان یکون الاکثر مالیۃ ھو الاکثر قدرًا و۲الثانی: ان یکون اقل ولکن مالیۃ بعد زائدۃ بل اضعاف مضاعفۃ کالجنیۃ مع الربیۃ و۳الثالث: ان یکون اقل الی حد تنقص مالیتہ ایضا البدل و۴الرابع: ان یقل الی ان یتساوی المالیتان وھم قاطبۃ قالوا عند اختلاف الجنس حل التفاضل ولم یقیدوہ بشیئ من الصور اصلا فیعمہا جمیعا ولو کانت ثم کراھۃ تحریم لم تحل الاصورۃ واحدۃ من الاربع وھی الرابعۃ ثم ھنا وجہ اٰخران یکون جنسان متحدی المالیۃ عند اتحاد القدر و ھم قد حکموا بحل التفاضل

سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے اور اس لئے کہ بکثرت صحابہ نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی انتہی،اور ان کی روشن عبارت سے ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ بھی امام ابویوسف کا کلام ہے کہ حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے واللہ تعالٰی اعلم،یہ صورت مذکورہ کے مکروہ تحریمی نہ ہونے کی ایك دلیل ہے،دلیل دوم:تمام علماء کی تصریح ہے کہ جب قدر یا جنس میں کوئی معدوم ہو تو زیادتی حلال ہے اور یقینا معلوم ہے کہ اشرفی اور روپیہ یا اشرفی اور پیسہ ایك جنس نہیں تو حلال ہونا واجب ہوا تو کراہت تحریمی کدھر سے آئیگی،اور تحقیق یہ ہےکہ زیادتی کی چار صورتیں ہیں:اول: یہ کہ جس کی مالیت زیادہ ہو اسی کی مقدار زیادہ ہو۔دوسری: یہ کہ اسکی مقدار تو کم ہو مگر مالیت اب بھی زیادہ بلکہ کئی گنا بڑھ کر،جیسے روپے کے ساتھ اشرفی۔تیسری: یہ کہ مقدار میں اتنی کم ہو کہ اس کی مالیت بھی اس کے مقابل سے گھٹ جائے،چوتھی:یہ کہ اسکی مقدار اس حد تك کم ہو کہ دونوں مالیت میں برابر ہوجائیں،اور تمام علماء نے اتنا ہی فرمایا ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اسے کسی خاص صور ت کے ساتھ مقید نہ کیا تو چاروں صورتوں کو شامل ہوگا اور اگر وہاں کراہت تحریمی ہوتی تو چاروں صورتوں میں سے صرف ایك حلال ہوتی اور وہ چوتھی صورت ہے پھر یہاں ایك صورت اور ہے وہ یہ کہ دو جنس کی چیزیں مقدار میں برابر ہوں تو ان کی مالیت بھی یکساں ہو اور علماء نے کمی بیشی

وھو یستلزم التفاضل فی المالیۃ فوجب حلہ،و۳الثالث: قولہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم [5]،فمن ذالذی یعدہ معصیۃ و مکروھا تحریما مع اذن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فیہ و۴الرابع ماقدمنا انفا عن الخانیۃ انہ یدفع فلسا عوضا عن الدرہم فیجوز ذٰلك ویقع الامن ای امن بعد حصول المعصیۃ،و۵الخامس: لیس التفاضل بین درہم اودینار او فلس ودینار مثلا الابالمالیۃ فان کان ذلك موجبا لکراھۃ التحریم لانہ حصل لاحد العاقدین اکثر واربح مما حصل لاٰخر فاربی ھذا علیہ یجب ان یکون مساواۃ الجید والردی وزنا مکروھا تحریما اذااربی الجید علی الرد بمالایتغابن فیہ الناس کأن تکون مالیتہ ضعف مالیتہ او اضعافھا لان موجبھا المذکور حاصل ھٰھنا ایضا قطعا،والشیئ لایتخلف عن موجبہ مع ان المساواۃ ھو المامور بہ شرعا وکذٰلك مازاد بالصناعۃ حتی صارت

حلال ہونے کا حکم فرمایا اور وہ اس صورت میں مالیت کی کمی بیشی کو مستلزم ہے تو اس کا حلال ہونا واجب ہوا،دلیل سوم:نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد کہ جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو تو وہ کون ہے جو اسے گناہ اور مکروہ تحریمی بتائے گا حالانکہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی اجازت فرماچکے۔دلیل چہارم وہ جو ابھی ہم فتاوٰی قاضی خان سے بیان کرآئے کہ روپے کے بدلے ایك پیسہ دے دے تو یہ جائز ہوجائے گا اور امان حاصل ہوگی اور گناہ ہونے کے بعد کون سی امان ہے۔دلیل پنجم:مثلًا اشرفی اور روپے یا پیسہ اور اشرفی میں کمی بیشی نہیں مگر مالیت کی،تو اگر اس سے کراہت تحریم لازم ہوتی اس بناء پر کہ دونوں عاقدوں میں سے ایك نے وہ پایا جو مالیت اور نفع میں زائد ہے تو اس کو اس پر زیادتی رہی تو



      [1] فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴

[2]       العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۳

[3]       المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۲۷۳۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ /۸۳

[4]       حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم کتاب البیوع

[5]       نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴/۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن