دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

چوتھا حیلہ یہ فرمایا کہ قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ایك معین وعدہ پر تیرہ روپے کوبیچے او راس کے قبضہ میں دے دے اور قرض لینے والا اسے کسی اجنبی کے ہاتھ بیچے پھر قرض لینے والا اس اجنبی کے ساتھ بیع فسخ کرے خواہ متاع اس کے قبضہ میں دی ہو یا نہ دی ہو پھر قرض لینے والا دینے والے کے ہاتھ اسے دس کو بیچے تو قرض لینے والے کو دس روپے ملیں گے اور دینے والے کے اس پر تیرہ لازم ہوں گے اور متاع دینے والے کے پاس پہنچ جائے گی قرض دینے والے نے اس صورت میں اگرچہ اپنی بیچی ہوئی چیز ادائے ثمن سے پہلے جس قدر کو بیچی تھی اس سے کم کو خرید لی مگر یہاں یہ جائز ہے اس واسطے کہ بیچ میں دوسری بیع آگئی وہ جو قرض لینے والے اور اجنبی میں ہوئی انتہی۔پھر ایك حیلہ یہ فرمایا کہ

 

یبیع المقرض من المستقرض سلعۃ بثمن مؤجل ویدفع السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیعھا من غیرہ باقل مما اشتری ثم ذٰلك الغیر یبیعھا من المقرض بما اشتری لتصل السلعۃ الیہ بعینہا ویأخذ الثمن و یدفعہ الی المستقرض فیصل المستقرض الی القرض ویحصل الربح للمقرض اھ،اقول:ھذہ ھی الحیلۃ الثالثۃ المارۃ قال "وھذہ الحیلۃ ھی العینۃ التی ذکرھا محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی و مشایخ بلخ بیع العینۃ فی زماننا خیر من البیوع التی تجری فی اسواقنا وعن ابی یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی انہ قال العینۃ جائزۃ ماجورۃ وقال اجرہ لمکان الفرار من الحرام [1] اھ،ثم قال رجل لہ عشرۃ دراہم صحاح فاراد ان یبیعھا باثنی عشر درھما مکسرۃ یجوز لانہ ربا،فان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنی عشرۃ درھما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان

قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ادھار بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اور کے ہاتھ اتنے سے کم کو بیچے جتنے کو خرید ی پھر وہ دوسر اشخص اس قرض دینے والے کے ہاتھ اتنے کو بیچے جتنے کو خود خریدی تاکہ وہ متاع بعینہا اسے پہنچ جائے اور اس سے قیمت لے کر قرض لینے والے کو دیدے تو قرض لینے والے کو قرض مل جائے گا اور دینے والے کو نفع حاصل ہوجائیگا انتہی،اقول:(میں کہتا ہوں)یہ وہی تیسرا حیلہ ہے جو گزرچکا،امام قاضیخان نے فرمایا کہ اس حیلہ کا نام بیع عینہ ہے جس کو امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی نے ذکر فرمایا اور مشائخ بلخ نے فرمایا کہ بیع عینہ ان بیعوں سے کہ ہمارے بازاروں میں آج کل رائج ہیں بہتر ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا عینہ جائز ہے اور اس پر ثواب ملے گا اور فرمایا ثواب کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حرام یعنی سود سے بھاگنا ہے انتہی۔پانچواں حیلہ یہ فرمایا کہ ایك شخص کے پاس دس روپے صحیح ہیں وہ چاہتا ہے کہ ان کو بارہ روپے پھوٹے ہوؤں سے بیچے تو جائز نہیں کہ سود ہے پھر اگر وہ حیلہ چاہے تو یہ چاہئے کہ مشتری سے بارہ روپے پھوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے اس کو ادا کرے پھر وہ

المقرض یبرئہ من درھمین فیجوز ذلك اھ [2]،ثم قال ولوکان لہ علی رجل عشرۃ دراہم مکسرۃ الی اجل فلما حل الاجل جاء المدیون بتسعۃ صحاح فقال ھذہ التسعۃ بتلك العشرۃ لایجوز لانہ ربا فان اراد الحیلۃ یأخذ التسعۃ بالتسعۃ ویبرئہ عن الدرھم الباقی فان خاف المدیون ان لا یبرئہ عن الدرہم الباقی یدفع الی صاحب الدین تسعۃ دراہم صحاحا وفلسا او شیئا یسیراعوضا من الدرہم الباقی جاز ذلك و یقع الامن [3] اھ وفیہا فوائد لاتخفی علیك و سنمر علیہا فیما یأتی ان شاء اللہ تعالٰی وکفانا تشبیہہ فی الوجہ الاول ببیع العینۃ وقولھم فانہ مکروہ لہذاو ذٰلك لانہ لایکرہ الاتنزیھا فکذا ھذا،ولا یھولنك قول محمد انہ یجدہ مثل الجبل [4] فانہ قال مثلہ بل اشد منہ فی العینۃ وماثبت لھا الاکراھۃ

اسے باقی دو روپے معاف کردے تو یہ جائز ہے،چھٹا حیلہ یہ فرمایا اگر کسی شخص پر دس روپے پھوٹے ہوئے ایك وعدہ پر آتے تھے جب وعدہ کا وقت آیا مدیون نو روپے کھرے لایا اور کہا کہ ان دس کے بدلے یہ نو ہیں تو یوں جائز نہیں اس لئے کہ سود ہے،تو اگر حیلہ چاہے تو نو کے بدلے نو لے لے اور ایك معاف کردے پھر اگر مدیون کو اندیشہ ہوکہ وہ ایك جو باقی رہا یہ معاف نہ کرے گا تو قرض خواہ کو نوروپے کھرے اور ایك پیسہ یا کوئی اور تھوڑی سی چیز اس باقی روپے کے عوض دے دے تو اب جائز ہوگا اور وہ اندیشہ جاتا رہے گا انتہی اور اس عبارت میں وہ فائدے ہیں جو تجھ پر پوشیدہ نہ رہیں گے اور آئندہ تقریر میں ان شاء اللہ ہم اوپر گزرکریں گے اور ہم کو یہی کافی ہے کہ وجہ اول میں اسے بیع عینہ سے تشبیہ دی اور علماء نے فرمایا وہ بھی اسی وجہ سے مکروہ ہے اور یہ اس لئے کہ بیع عینہ نہیں مگر مکروہ تنزیہی،تو ایسے ہی یہ بھی اورامام محمد کا یہ ارشاد کہ وہ ان کے نزدیك پہاڑ کی طرح گراں ہے تجھے ہول میں نہ ڈالے کہ انہوں نے ایسا ہی کہا بلکہ اس سے بھی سخت تربیع عینہ میں فرمایا ہے اوراس کے لئے

التنزیہ قال فی ردالمحتار عن الطحطاوی عن ابی یوسف العینۃ جائزۃ ماجور من عمل بھا کذا فی مختار الفتاوی ہندیۃ وقال محمد ھذاالبیع فی قلبی کا مثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا وقال علیہ الصلٰوۃ والسلام اذ اتبایعتم بالعین واتبعتم اذناب البقر ذللتم وظہر علیکم عدوکم،قال فی الفتح ولا کراھۃ فیہ الاخلاف الاولٰی لما فیہ من الاعراض من مبرۃ القرض اھ [5] واقرہ علیہ فی البحر والنھر والدر و الشرنبلالیہ و غیرہا وقال ایضا فی فتح القدیر قال ابویوسف لایکرہ ھذا البیع لانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم وحمدواعلی ذٰلك ولم یعدوہ من الربا اھ [6]، اقول:قول ابی یوسف فعلہ کثیر من الصحابۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم مرسل اصولی فانہ عندنا مالم یتصل سندہ مطلقًا

ثابت نہ ہوئی مگر کراہت تنزیہ،ردالمحتار میں طحطاوی اس میں عالمگیری اس میں مختار الفتوی ا س میں امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی سے ہے کہ عینہ جائز ہے اس کے کرنیوالے کو ثواب ملے گا،اور امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی نے فرمایا اس بیع کی برائی میرے قلب میں پہاڑوں کے برابر ہے اسے سود خوروں نے ایجاد کیا،اورنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جب تم بطور عینہ خریدو فروخت کرو اور بیلوں کی دم کے پیچھے چلو تو ذلیل ہوجاؤگے اور تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا۔ فتح القدیر میں فرمایا عینہ میں کوئی کراہت نہیں سوا خلاف اولٰی کے،اس لئے



[1]        فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربا نولکشورلکھنؤ ۲ /۴۰۷

[2]       فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷

[3]      فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷

[4]     فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۱

[5]       ردالمحتار کتاب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۴

[6]        فتح القدیر کتاب الکفالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن