دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

صرف کراہت تنزیہ ہے۔عنایہ میں فرمایا کراہت یا تو اس لئے ہے کہ وہ دفع ربا کا حیلہ ہے تو بیع عینہ کے مثل ہوجائے گا کہ حیلہ کرکے زیادہ لیا اور یا اس لئے ہے کہ لوگ اسکے خوگر ہوجائینگے تو پھر ناجائز جگہ بھی ایسی کارروائی کرنے لگیں گے انتہی،فتح القدیر میں ایضاح سے وجہ دوم نقل فرمائی،پھر فرمایا کہ اسی طرح محیط میں ذکر کیا،پھر فرمایا بعض کہتے ہیں اس لئے مکروہ ہوا کہ انہوں نے ایك حیلہ کیا وہی تقریر جو وجہ اول میں گزری اور صاحب عنایہ نے دونوں وجہیں ذکر کرکے بالآخر وجہ اول میں حصر کردیا جہاں کہ فرمایا کراہت صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس سے زیادت ربا کے دفع کا حیلہ کیا ا نتہی،اور اس پر کفایہ میں اقتصار فرمایا کہ وہ صرف اس لئے مکروہ ہے کہ وہ رباساقط کرنے کا حیلہ ہے تاکہ حیلہ سے زیادت حاصل کرے تو مکروہ ہوگا جیسے بیع عینہ کہ وہ بھی اسی سبب سے مکروہ ہے انتہی،اور تو جانتا ہے کہ وجہ دوم کا حاصل تو صرف اس قدر ہے کہ خرابی کے ڈر سے اس چیز کو چھوڑے جس میں خرابی نہیں تو یہ مقام ورع کا ہے اور ورع چھوڑنے میں کراہت تحریمی نہیں آتی

یفضی الی ان یالفوہ فیستعملوہ فیما لا یجوز فافاد ان ھذا استعمالہ فیما یجوز انما کرہ خشیۃ التجاوز الی ما لا یجوز واما الوجہ الاول فابین واظہر فان الاحتیال لسقوط الربا فرار عنہ وھو غیر ممنوع بل الممنوع الوقوع فیہ وقد علم علماؤنا رحمھم اللہ تعالٰی عدۃ حیل لتحصیل الفضل من دون حصول الربا وقد عقد لھا الامام فقیہ النفس قاضی خان فی فتاواہ فصلا مستقلا فقال فصل فیما یکون فرارا عن الربا وقال فیہ رجل لہ علی رجل عشرۃ دراہم فارادان یجعلھا ثلثۃ عشر الی اجل قالوا یشتری من المدیون شیئا بتلك العشرۃ ویقبض المبیع ثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشر الی سنۃ فیقع التجوز عن الحرام ومثل ھذا مروی عن رسول اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم انہ امر بذٰلك [1] اھ،ومثلہ فی البحر عن الخلاصۃ عن النوازل للامام الفقیہ ابی اللیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی ثم قال فی الخانیۃ

 اور خود فرمایا کہ وہ اس طرف لیجائے گی کہ اسکے عادی ہوجائیں تو ناجائز جگہ بھی اسے برتنے لگیں تو صاف بتادیا کہ یہ کارروائی جائز جگہ پر ہے اور کراہت فقط اس خوف سے ہو ئی کہ بڑھ کرنا جائز تك نہ پہنچ جائیں،رہی پہلی وجہ وہ اور بھی زیادہ واضح و روشن ہے کہ رباساقط کرنے کے لئے حیلہ کرنا تو رباسے بھاگنا ہے اور وہ منع نہیں بلکہ ممنوع تو ربا میں پڑنا ہے اور بیشك ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی نے اس کے متعدد حیلے تعلیم فرمائے ہیں کہ زیادہ لیں اور سود نہ ہو،اور امام فقیہ النفس قاضی خان نے اپنے فتاوٰی میں اس کےلئے ایك مستقل فصل وضع کی،فرمایا کہ یہ فصل ہے ان باتوں کے بیان میں جو سود سے گریز میں ہیں اور اس میں ایك حیلہ یہ بیان فرمایا کہ ایك شخص کے دوسرے پر دس روپے آتے تھے اس نے یہ چاہا کہ میں دس کے تیرہ کرلوں ایك میعاد تک،علماء نے فرمایا کہ وہ مدیون سے ان دس کے عوض کوئی چیز خریدلے اور اس پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز اس مدیون کے ہاتھ سال بھر کے وعدہ پر تیرہ روپے کو بیچ ڈالے تو حرام سے بچ جائے گا اور اس کا مثل نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مروی ہوا کہ حضور نے ایسا کرنے کاحکم دیا انتہی،اور اسی طرح بحرالرائق میں بحوالہ خلاصہ،نوازل امام فقیہ ابوللیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ہے۔پھر خانیہ میں(دوسرا حیلہ)یہ فرمایا

رجل طلب من رجل دراہم لیقرضہ بدہ دوازدہ فوضع المستقرض متاعا بین یدی المقرض فیقول للمقرض بعت منك ھذا المتاع بمائۃ درہم فیشتری المقرض ویدفع الیہ الدراہم ویأخذ المتاع ثم یقول المستقرض بعنی ھذا المتاع بمائۃ وعشرین فیبیعہ لیحصل للمستقرض مائۃ درہم ویعود الیہ متاعہ ویجب للمقرض علیہ مائۃ وعشرون درھما والاوثق والاحوط ان یقول المستقرض للمقرض بعد ماقرر المعاملۃ کل مقالۃ و شرط کان بیننا فقد ترکتہ ثم یعقدان بیع المتاع اھ [2]،ثم قال فان کان المتاع للمقرض ولیس للمستقرض شیئ ویریدان یقرضہ عشرۃ بثلثۃ عشر الی اجل فان المقرض یبیع من المستقرض سلعۃ بثلثۃ عشر ویسلم السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیع السلعۃ من اجنبی بعشرۃ

ایك شخص نے دوسرے سے کچھ روپے قرض مانگے اس طور کہ دینے والے کو دس کے بارہ ملیں تو یوں چاہئے کہ قرض لینے والا دینے والے کے سامنے کوئی متاع رکھے اور اس سے کہے میں نے یہ متاع تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی قرض دینے والا خرید لے اور روپے اسے دے دے اور متاع پر قبضہ کر لے پھر قرض لینےوالا اس سے کہے یہ متاع میرے ہاتھ ایك سو بیس روپے کو بیچ ڈال وہ بیع کردے تاکہ قرض لینے والے کو سوروپے مل جائیں اور اس کی متاع بھی اس کے پاس واپس آئے اور قرض دینے والے کے اس پر ایك سو بیس لازم آئیں اور زیادہ اطمینان واحتیاط کی بات یہ ہےکہ قرض لینے والا قرض دینے والے سے معاملہ مذکورہ کی قرار داد کرکے یوں کہہ دے کہ جو کچھ گفتگو اور شرط ہمارے آپس میں ٹھہری تھی وہ میں نے چھوڑدی پھر متاع کی خرید و فروخت کریں انتہی۔

تیسراحیلہ یہ فرمایا کہ وہ متاع بھی قرض دینے والے کی ہو قرض لینے والے کے پاس کوئی متاع بھی نہیں اور دینے والا چاہتا ہے کہ دس روپے قرض دے اور کسی میعاد پر تیرہ روپے اس سے وصول کرے تو قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع تیرہ روپے کو بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اجنبی کے ہاتھ دس ۱۰

ویدفع السلعۃ الی الاجنبی ثم الاجنبیۃ یبیع السلعۃ من المقرض بعشرۃ ویأخذ بعشرۃ منہ ویدفعھا الی المستقرض فیبرأ الاجنبی من الثمن الذی کان علیہ للمستقرض و تصل السلعۃ الی المقرض بعشرۃ و للمقرض علی المستقرض ثلثۃ عشر الی اجل اھ [3]،ثم قال وحیلۃ اخری ان یبیع المقرض سلعۃ بثلثۃ عشر الی اجل معلوم و یدفع السلعۃ الی المستقرض ثم یبیعہ المستقرض من الاجنبی ثم ان المستقرض یقیل البیع مع الاجنبی قبل القبض اوبعدہ ثم یبیعھا المستقرض من المقرض بعشرۃ و یاخذ العشرۃ فیحصل للمستقرض عشرۃ وعلیہ للمقرض ثلثۃ عشر وتصل السلعۃ الی المقرض والمقرض وان صار مشتریا ماباع باقل مماباع قبل الثمن الا ان ذٰلك جائز لتخلل البیع الثانی وھو البیع الذی جری بین المستقرض والاجنبی [4]اھ،ثم قال وحیلۃ اخری ان

روپے کو بیچے اور وہ متاع اس اجنبی کو دے دے وہ اجنبی قرض دینے والے کے ہاتھ دس کو بیچ ڈالے اور وہ اجنبی اس سے دس روپے لے کر قرض لینے والے کو دے دے تو اجنبی پر جو قرض لینے والے کا دین تھا وہ اترجائے گا اور وہ متاع قرض دینے والے کے پاس دس میں پہنچ جائیگی اور قرض لینے والے پر اس کے تیرہ روپے ایك وعدہ پر لازم ہوجائیں گے انتہی۔

 



[1]          فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶

[2]        فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶

[3]       فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲ /۴۰۶

      [4] فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن